شہباز شریف سیاسی مصالحت کے لیے اقدام کریں

شدید الزامات کے شور میں قومی اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو نیا وزیر اعظم منتخب کرلیا ہے۔ اپوزیشن کے امیدوار عمر ایوب کو 92   ارکان نے ووٹ دیا جبکہ اتحادی پارٹیوں  نے شہباز شریف کو 201ووٹوں سے کامیاب کروایا۔ تحریک انصاف نے    جو کہ سنی اتحاد کونسل کے نام سے اسمبلی میں موجود تھی، پارلیمان کی کارروائی میں حصہ لے کر  بالواسطہ طور سے تسلیم کرلیا ہے کہ ملک میں آئینی نظام  کام کرے گا اور پارٹی شدید تحفظات اور مینڈیٹ چوری کے دعوؤں کے باوجود  اسمبلی کا حصہ رہے گی۔

نومنتخب اسمبلی کے ابتدائی اجلاسوں میں الزام تراشی، شور شرابے اور ایک دوسرے پر حرف زنی کی صورت حال  تکلیف دہ حد تک ناگوار اور پریشان کن تھی ۔ تاہم   ملک کی سب سے بڑی پارٹی نے  پارلیمانی عمل کا حصہ بن کر اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر  کے  علاوہ وزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ لے کر   موجودہ قومی اسمبلی کی منتخب حیثیت کو  تسلیم کیا ہے۔  اب مناسب ہوگا کہ تحریک انصاف مستقبل میں پارلیمنٹ میں اپنے کردار کے حوالے سے واضح حکمت عملی  تیار کرے اور  اسے کثیر تعداد میں جو نمائیندگی حاصل ہوئی  ہے، اس کا حق ادا کیا جائے۔ یہ مقصد صرف اسی صورت   میں حاصل ہوسکتا ہے،  اگر  پارٹی قیادت موجودہ نظام میں متعلقہ اداروں سے اپنی شکایات کا ازالہ حاصل   کرے اور اس دوران میں اسمبلیوں کو کام کرنے دیا جائے۔

قومی اسمبلی میں کارروائی کے دوران نعرے بازی اور الزام تراشی کا سلسلہ دو طرفہ تھا۔ یعنی  سنی اتحاد کونسل سے وابستہ تحریک انصاف کے لیڈر  تو بہر صورت ہنگامہ آرائی پر تلے ہوئے تھے اور ان کے نزدیک عمران خان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص وزیر اعظم کے طور  پرقبول نہیں ہوسکتا۔ یہ طرز عمل تو قابل قبول نہیں ہے لیکن سرکاری بنچوں سے خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے بھی جوابی نعروں اور گھڑی دکھا کر  تحریک انصاف کے اراکین کو اشتعال دلایا۔ اس طرح ہنگامہ آرائی میں مسلسل اضافہ  ہوتا رہا۔    وزیر اعظم شہباز  شریف نے انتخاب کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا ہے کہ پاکستانی عوام انتخابی نتائج سے زیادہ منتخب ہونے والی حکومت کی کارکردگی کے منتظر ہیں ۔ تاکہ ان کے مسائل کی طرف توجہ مبذول ہوسکے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے اگر شہباز شریف اتحادی پارٹیوں کے لیڈر کے طور پر  یہ طے کریں کہ قومی اسمبلی میں ان کی طرف سے کوئی بدمزگی پیدا نہیں کی جائے گی۔ تحریک انصاف کے ارکان کو اگر مشتعل نہ کیا جائے اور جوابی نعرے بازی سے گریز ہو تو ایوان  میں دوتہائی لوگ  خاموش رہ کر شور مچانے والوں کو اپنے طرز عمل پر نظرثانی پر مجبور کرسکتے ہیں۔

اس کے لیے اہم ہوگا کہ یک طرفہ کامیابی کے دعوؤں اور  تحریک انصاف کو ہر مسئلہ  کا سبب  کہنے کے  طریقے کو ترک کیا جائے۔  شہباز  شریف دوسری بار وزیر اعظم بنے ہیں۔ گزشتہ مدت میں بھی انہیں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد سولہ ماہ تک  حکومت کی قیادت کرنے کا موقع ملا تھا۔  اس مدت کے دوران میں  انہیں  اتنی بڑی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی جو انہیں اس وقت نصیب ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ  ایک حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے بعد تحریک انصاف کے ارکان نے بڑی تعداد میں استعفے دے دئے تھے۔ لیکن  اس کے باوجود نئے انتخابات کروانے کی ضروررت محسوس نہیں کی گئی  تھی۔ حالانکہ اگر اس  وقت انتخابات کروالیے جاتے تو سیاسی تصادم  کی موجودہ صورت دیکھنے میں نہ آتی اور  شکایات کا انبار بھی کم ہوتا۔  اور شہباز شریف کو بار بار یہ یاد نہ دلوانے کی ضرورت نہ پڑتی کہ انہوں نے ’ریاست بچانے کے لیے سیاست قربان  کی‘۔ انتخابات میں  مسلم لیگ (ن) کو جن مسائل  کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ بھی  شہباز حکومت کے  پہلے دورانیہ کے دوران میں  دگرگوں معاشی صورت حال  پر قابو پانے میں ناکامی ہی وجہ سے دیکھنے میں آئے ہیں۔ حیرت ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس وقت ان حالات کا اندازہ نہیں کرسکی۔

اس کے باوجود شہباز شریف کو گزشتہ بار یہ سہولت بہر حال حاصل رہی تھی کہ  ان کی حکومت فیصلے کرنے میں کسی حد تک آزاد تھی ۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن موجود نہیں تھی اور حکومت جیسی چاہتی قانون سازی کروارہی تھی۔ البتہ  تحریک انصاف/سنی  اتحاد کونسل  نے اس بار اگر  پارلیمانی کارروائی میں مؤثر طور سے  حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو یہ ملکی  جمہوری تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔  تحریک انصاف کی قیادت اگرچہ یہ ماننے سے انکار کررہی ہے کہ سیاست میں سب سیاسی گروہوں سے مواصلت ہی جمہوریت کا حسن ہے اور اسی  مواصلت و تعاون  سے آگے بڑھنے کے راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف  نے  پہلے مولانا فضل الرحمان سے  دو بار ملاقات کے ذریعے سیاسی بلوغت کا ثبوت دیا ۔ اور  اب پشتون خوا عوامی پارٹی کے چئیرمین محموو خان اچکزئی کو  صدارتی امیدوار بناکر یہ  واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف  سیاست میں  مفاہمت اور مل جل کر کام کرنے کے اصول کو ماننے پر آمادہ ہورہی ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف  کے دیگر رہنما مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی  کے خلاف بھی شدید  مخالفانہ خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ماضی قریب میں ان پر بھی ہمہ قسم الزام تراشی کی جاتی تھی۔ تاہم تبدیل شدہ سیاسی حالات میں  پی ٹی آئی نے ان دونوں لیڈروں کے ساتھ  تعلق قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ اسی طرح  انہیں دیگر سیاسی پارٹیوں و لیڈروں کے بارے میں بھی   نام نہاد ’بائیکاٹ‘ کا رویہ  تبدیل کرنا چاہئے تاکہ ملک میں واقعی جمہوری قوتوں کو مضبوط    و توانا کیا جاسکے۔  کسی کو اس بارے میں شبہ نہیں ہونا چاہئے  ملک میں  جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر چلنا ہوگا تاکہ غیرسیاسی عناصر کے ساتھ لین دین کے دیرینہ طریقہ کی حوصلہ شکنی ہو اور ملک میں جمہوری ادارے پھل پھول سکیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے  منتخب  ہونے کے بعد متعدد وعدے کیے ہیں۔ انہوں نے خاص    طور  سے نوجوانوں کو   متاثر کرنے کی کوشش کی اور  بیرون ملک  تعلیم  کے لیے وظائف کا اعلان کیا۔ اسی طرح انہوں نے پانچ لاکھ نوجوانوں کو خصوصی تربیت دینے کا اعلان کیا تاکہ یہ نوجوان نہ صرف خود کام کرسکیں بلکہ ان کے ذریعے دیگر لوگوں کو بھی روزگار  ملے۔ یہ  بلند بانگ دعوے ہیں لیکن نئی حکومت کو سب سے پہلے معاشی ڈسپلن قائم کرنے، قومی آمدنی میں اضافے اور محاصل کا بوجھ غریب لوگوں  سے  ملک کے امیر طبقے  کی طرف موڑنا   پڑے گا۔  تاکہ امرا  قومی مالی ذمہ داریوں میں زیادہ بڑا حصہ ادا کرنے  پر مجبور ہوں۔ اس حوالے سے انہوں نے   ٹیکس و بجلی چوری کا ذکر کیا  ۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ بے اعتدالی اب ناقابل قبول ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم کو ان دو شعبوں میں زیادہ مستعدی اور کسی ٹھوس حکمت عملی کے  ساتھ کام کرنا ہوگا تب  ہی وہ وعدے بھی پورے ہوسکیں گے جن کا خواب انہوں نے آج کی تقریر میں نوجوانوں کے علاوہ کاشتکاروں کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔

شہباز شریف نے شور کی بجائے شعور کی بات بھی کی ہے۔ اگرچہ ان کا  یہ فقرہ اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر اچھالا گیا تھا لیکن اگر وہ اس اصول کو اپنی پارٹی میں ماٹو کے طور پر اختیار کرواسکیں تو اس سے سیاسی ماحول میں بہتری کے آثار پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔ البتہ تحریک انصاف کے دور میں ان کے بھائی نواز شریف اور خود انہیں مقدموں کا سامنا کرنا پڑا اور قید رکھا گیا۔  تاہم اس وقت تحریک انصاف کے بانی چئیرمین سمیت متعدد لیڈر جیلوں میں بند ہیں۔ تحریک انصاف کے احتجاج میں اس مسئلہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ نئی حکومت کو سنجیدگی سے اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ کسی سیاسی مخالف کے خلاف جھوٹے مقدمے نہ بنائے جائیں اور اگر کوئی لیڈر یا سیاسی کارکن نگران حکومت کے دور میں قید ہوئے ہیں تو انہیں ریلیف دینے کا اہتمام کیا جائے۔ سیاسی لیڈروں کی گرفتاری  ایسے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر عمل میں آنی چاہئے جنہیں عدالتوں میں ثابت کیا جاسکے۔  ٹرائل کورٹس میں مقدموں کی سماعت کے دوران استغاثہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور جس مقدمے میں  شواہد کمزور ہوں ، اس  پر اصرار نہ کیا جائے۔ عجلت میں  غلط قانونی بنیاد پر دیے گئے فیصلے اکثر اعلیٰ  عدالتوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن ان  کی وجہ سے  پیدا ہونے والی رنجشیں سیاسی  ماحول کو آلودہ کرتی ہیں۔ جیسے شہباز شریف نے آج بھی تحریک انصاف  کے دور میں ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کیا۔ یقینی بنایا جائے کہ نئی حکومت ایسی غلطیاں نہیں دہرائے گی۔

وزیر اعظم نے 9 مئی کو رونما ہونے والے  واقعات کو  ناقابل معافی قرار دیا اور کہا کہ اس دن عسکری تنصیبات  پر حملے کرنے والے ذمہ داروں کو اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہوگی۔ وزیر اعظم  کو البتہ اس حوالے عمرایوب کی اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ اس روز ہونے والے واقعات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے ذریعے حقیقی صورت حال سامنے لائی جائے۔   ان تحقیقات کے طریقے اور اسکوپ کے بارے میں اپوزیشن کے سے ساتھ مل کر کام کیا جاسکتا ہے۔ ایسا  تعاون حکومت اور اپوزیشن میں بہتر تعلقات کی بنیاد بن سکے گا۔ ان تحقیقات کے نتیجہ میں سرکاری اداروں کے پاس بھی اس سانحہ میں ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے مناسب  بنیاد موجود ہوگی۔

اس دوران میں انتخابی دھاندلی کے الزامات کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے  تحقیقات  کروانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ دھاندلی   کی شکایت تحریک انصاف کے علاوہ بلوچستان کی بیشتر پارٹیوں اور مولانا فضل الرحمان کی طرف سے بھی کی گئی ہیں۔ شہباز شریف ان سب لیڈروں کو بٹھا کر کسی ایسی کمیٹی کے قیام پر اتفاق رائے پیدا  کرسکتے ہیں جس کی تحقیقات کو سب ماننے پر آمادہ ہوں۔ اس طرح ملک میں سیاسی بے چینی  کم  کی جاسکے گی۔ حکومت کے  لیے اس ماحول میں  دیگر اہم امور پر توجہ دینا آسان ہوجائے گا۔  نئی حکومت کو اگرچہ پارلیمنٹ میں ٹھوس  اکثریت کی حمایت حاصل ہے لیکن   سب کو ساتھ لے کر چلنے کے نقظہ نظر سے وزیر اعظم کو کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تب ہی ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کی طرف پیش قدمی ممکن ہوگی۔