الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے سے انکار کردیا
الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں۔ واضح رہے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو کر مخصوص سیٹوں میں حصۃ مانگا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ ڈان نیوز سے گفتگو میں الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غلط ہے۔ یہ فیصلہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانبداری چھوٹی بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس غیر آئینی فیصلے کی کوئی اہمیت اور قانونی حیثیت نہیں اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اور ماہر قانون علی ظفر نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے تمام اراکین سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص سیٹیں نہ دینے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔ آئین کے مطابق مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہئیں۔ سنی اتحاد کونسل کی 23 نشستیں بنتی ہیں اور ہماری نشستیں کسی اور جماعت کو دینا آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے تک صدارتی اور سینیٹ انتخابات نہیں ہوسکتے۔ جبکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پورا الیکشن کمیشن فوری طور پر مستعفی ہو۔