آمریت کے سائے میں جمہوریت بڑھ سکتی ہے؟
- تحریر مختار چوہدری
- بدھ 06 / مارچ / 2024
اس خاکسار نے کچھ برس پہلے دنیا کے طاقتور ترین جنگلی جانور کے بارے سنا تھا۔ یوں تو سب جانتے ہیں۔ یا سمجھتے ہیں کہ شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی سب کو علم ہے کہ جنگل کا قانون بھی اپنا ہی ہوتا ہے۔
چونکہ جنگل میں نہ تو صرف ایک شیر ہوتا ہے نہ ہی وہاں ایک ہی قسم کی مخلوق ہوتی ہے۔ وہاں لاتعداد قسم کے جانور رہتے ہیں اور ان جانوروں میں جو شیر ہوتے ہیں انہیں بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔ اب ان شیروں کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ دنیا کا سب سے طاقتور شیر جنوبی افریقہ کے جنگل میں رہتا ہے۔ یہ خاکسار 2019 میں جنوبی افریقہ کے نیشنل پارک جو دنیا کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے۔ کی سیر کو گیا تھا۔ اس پارک جس کا نام کھروگر پارک (Kruger Park) ہے۔ کا مجموعی رقبہ لگ بھگ 20 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ یہ پارک جنوبی افریقہ کے شمال مشرقی دو صوبوں Limpopo and Mpumalanga پر پھیلا ہوا ہے۔
اس سفاری پارک کی سرحدیں جنوبی افریقہ کے علاوہ تین ملکوں کے ساتھ ملتی ہیں۔ اور اس کے اندر لاتعداد مختلف اقسام کے جانور پائے جاتے ہیں اور اسی جنگل کے اندر دنیا کا طاقتور ترین شیر بھی رہتا ہے۔ ہمارا وزٹ ایک دن کا تھا۔ جبکہ اس پارک کو دیکھنے کے لیے ایک ماہ بھی کم ہوگا۔ لہذا ہم اس طاقتور شیر کو نہ دیکھ سکے۔ ویسے شیروں سمیت بہت زیادہ جانوروں کا دیدار ہو گیا تھا۔ اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ اگر دنیا کے طاقتور ترین شیر کی نسل کے بچے کو کسی گھر کے اندر پنجرے میں بند کردیں۔ اس کی جتنی زیادہ سیوا کی جائے، جتنی بھی طاقتور خوراک دیتے رہیں مگر وہ شیر صرف ظاہری شکل تک ہی شیر ہوگا۔ اس میں شیروں والی کوئی بات ہوگی، نہ وہ بادشاہ کہلانے کا اہل ہوگا۔ اگر وہ کبھی بادشاہ بننے کی خواہش کا اظہار کرے بھی تو یہ اس کے مالک کی مرضی پر منحصر ہوگا کہ اس کے سر پر تاج رکھ دے یا اسے تاحیات نااہلی کا پروانہ تھما دے۔
اسی طرح آپ ہاتھی سمیت کسی بھی بڑے جانور کو گھر میں پال پوس کر تجربہ کر لیں، وہ زیادہ سے زیادہ بھینس، گائے یا بکری کے برابر ہی رہے گا۔ اسی طرح آپ کسی بڑے درخت کے نیچے کوئی درخت لگا دیں تو وہ کبھی بھی اپنے قد کاٹھ کے ساتھ سیدھا کھڑا نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ یہ نظام فطرت ہے۔ کہ ہر چیز آزادی ہی سے بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہے۔ پاکستان کی جمہوریت کو ہمیشہ آمریت کے سائے میں رکھا گیا ہے۔ اور ہر تین چار برس کے بعد اس جمہوریت کے پودے کو اکھاڑ کر دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں کہاں تک پہنچی ہیں۔ آمریت کے سائے میں چلنے والی جمہوریت کیسے اصلی جمہوریت ہو سکتی ہے۔
جس طرح شیر یا کسی جانور کے بچے کو انسانوں کے زیر سایہ پروان چڑھایا جاتا ہے تو وہ کبھی اصلی شیر یا اپنی فطرت کا جانور نہیں بن سکتا ہے۔ یا کسی بڑے درخت کے سائے میں لگا پودا اپنی فطرت کے مطابق بڑھ سکتا ہے نہ پھل دے سکتا ہے، اسی طرح آمریت کے سائے اور کنٹرول میں جمہوریت کیسے پھل پھول سکتی ہے۔ اور عوام کس طرح جمہوریت کے پھل سے مستفید ہو سکتے ہیں؟
آمریت تو جمہوریت کی متضاد ہے۔ وہ کیوں کر جمہوریت کو مضبوط ہونے دے گی؟ اس جمہوریت سے تو بس آمریت کی گود میں بیٹھے جمہورے ہی استفادہ کرتے ہیں۔ عوام کے لیے تو آمریت اور جمہوریت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ 1970 میں جنرل راؤ فرمان صاحب فرما رہے تھے کہ ہم نے عوامی لیگ پر تو پابندی لگا دی ہے مگر اس کے ایم این ایز بہرحال ممبران اسمبلی رہیں گے، ان کو آزاد ممبران تصور کیا جائے گا۔ 2017 کے سیننٹ الیکشن میں میاں نواز شریف نااہل ہوئے تو ان کی جماعت میں سے سیننٹ کے تمام امیدواروں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ اور اب 2024 میں بھی اسی روش کا اعادہ کیا جا رہا ہے۔
ایک جماعت کی شکل صورت بگاڑ کر، اس کی سنئیر قیادت کی اکثریت کو زبردستی جماعت چھڑوا کر اور اس کا انتخابی نشان چھین کر کہا گیا کہ صرف وہ لوگ انتخابات میں حصہ لے سکیں گے جو اچھے بچے کہلائے کے قابل ہوں گے۔ پھر بھی جب لوگوں کی اکثریت نے اسی جماعت کے نامزد آزاد امیدواروں کو ووٹ دے دیے تو پھر ریٹرننگ افسران نے فارم 47 کا جادو جگایا۔ جو لوگ اس جادو سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے، ان کو اب کسی جماعت کی تلاش تھی جس کے لیے وہ دربدر ہونے لگے۔ اور آخر کار ایک ایسی جماعت جس کو پارلیمانی جماعت کے طور پر کوئی جانتا بھی نہ تھا، میں جا پناہ لی ہے۔ دوسری طرف جو آمریت کے جمہورے بن گئے انہیں حکومتیں مل گئی ہیں۔ اور وہ اگلے دو یا تین سال جمہوریت سے خوب لطف اندوز ہوں گے۔ اور ان کے لطف کے دیے عوام کے خون سے جلائے جائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ پھر ہم آمریت ہی کو کیوں نہ قبول کرلیں؟ آمریت سے استفادہ کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ جبکہ جمہوری دور میں آمروں کے ساتھ ساتھ جمہوروں کو بھی پالنا پڑھتا ہے جس کا بوجھ بہرحال عوام ہی نے اٹھانا ہے۔ پھر عوام کو مل کر آمریت کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ یہ سیاستدان کئی دہائیوں سے جمہوریت کا راگ الاپتے آ رہے ہیں کیونکہ اس جمہوریت سے صرف وہ خود مستفید ہوتے ہیں۔ انہیں باری باری موقع دیا جاتا ہے کہ آپ کچھ مال بنا لو۔ اگر کوئی بھی سیاستدان جمہوریت سے مخلص ہوتا یا ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کا خواہاں ہوتا تو اپنی جماعت کی بنیاد جمہوریت پر رکھتا۔ عوام کی رائے کا احترام کرتا، اپنی جماعت میں باقاعدگی سے انتخابات کروا کر نچلی سطح سے قیادت اوپر لاتا۔ جماعتی عہدے اور انتخابات میں ٹکٹ جماعتی کارکنوں کی مرضی سے دئیے جاتے۔
لیکن ہمارے ہاں تو تمام سیاسی جماعتیں خاندانی کمپنیاں ہیں۔ جس کو اقتدار مل جاتا ہے وہ آمریت کے صفحے پر ہوتا ہے اور جسے نکالا جائے وہ جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپتے نئی کتاب جا کھولتا ہے۔ بس گزارش یہ کرنا تھی کہ جمہوریت کے پودے کو آمریت کے سائے سے بچایا جائے۔