منجھے ہوئے سفارتکار ڈاکٹر اسد مجید خاں سے ملاقات ‎

جیسی رونقیں ہمارے شہر لاہور کی ہیں ویسی بھلا اس ملک کے کسی بھی اور شہر میں کہاں۔ لیکن ان دنوں فیڈرل کیپٹل اسلام آباد کی گہما گہمی قابلِ دید تھی۔ مری میں میٹھی ٹھنڈ اور تندو تیز ہواؤں کا سامنا کرنا پڑا مگر پارلیمنٹ ہاؤس کا نظارہ اُس سے بھی زیادہ شوخ و تند و تلخ تھا۔

البتہ ایوانِ صدر کی تقریب ٹھنڈی و بے ذائقہ تھی۔ احسن اقبال اور رانا تنویر حسین صاحب سے ملاقاتیں اور باتیں خوشگوار تھیں مگر زیادہ لطف سابق سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید خاں سے ہونے والی ملاقات اور ان کے الفاظ میں “Private Conversation”

 سے آیا۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب اسے آف دی ریکارڈ قرار نہ بھی دیتے تو کوئی مضائقہ نہ تھا کیونکہ وہ ایک منجھے ہوئے سفارت کار کی حیثیت سے ڈپلومیسی کا جو ادراک رکھتے ہیں، اس میں ریڈ چھوڑ بلیو لائن بھی کراس نہیں کرتے۔ اس حوالے سے اگر کوئی فاؤل پلے ہوسکتا تھا تو اس درویش کی طرف سے ضرور اس کے امکانات تھے۔ جیسے کہ کہاوت ہے کامیاب ڈپلومیٹ وہ ہوتا ہے جو تین گھنٹے بھرپور بحث کرے مگر کام کی کوئی چیز دوسرے کے پلے نہ پڑنے دے۔ یا ہتھے نہ چڑھنے دے۔

یہ الگ بحث ہے کہ ان کا تحریر کردہ سائفر ایک سیاسی اناڑی لیکن ورلڈ کپ جیتنے والے کھلاڑی کے ہتھے چڑھ گیا تو اس نے اسے ایسے لہرایا جیسے مودی جی اپنا ترنگا لہراتے ہیں۔ اور پھر ایسے گم کیا کہ جیسے بنی اسرائیل کا تابوتِ سکینہ۔ کھلاڑی نے تو کہا تھا کہ میں اس سائفر کے ساتھ کھیلوں گا مگر اس کھیل کھیل میں کوئی میلوڈرامہ تخلیق کرنے کی بجائے وہ خود اس کا المناک یا ٹریجیڈی کردار بن کر رہ گئے۔ ڈاکٹر اسد مجید کے اس سائفر کو بیچ میں ڈال کر وہ جس امریکا کو اپنی حکومت گرانے کا عالمی سازشی کردار گردان رہے تھے، آج اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کے لیے مہنگے ڈالروں میں لابنگ پر مجبور ہیں۔ کیسے کیسےمہنگے رقیبانہ خطوط بھی لکھوائے ہیں مگر ”مسٹر چیری بلاسم“ کو باضابطہ سرکاری مبارکبادیں دینے میں ڈونلڈلو سے بڑھ کر ڈونلڈ بلوم سب سے آگے ہیں۔

بھٹو اور محترمہ بے نظیر کی رہائی کے لیے تو پھر بھی عالمی اپیلیں آتی تھیں، آپ کے لیے وہ بھی کہیں سے نہیں آئی۔ یہ درویش بی جے پی کی مودی حکومت کا جتنا بڑا مداح ہے امریکا میں

 پاکستان کے سابق سفیر اتنے ہی اس کے ناقد ہیں۔ انڈیا کی سابق حکومتوں سے اس کا تقابل کرتے ہوئے بولے کہ بڑی اچھی روایت چلی آرہی تھی کہ دنیا بھر کی سفارت کاری میں جہاں بھی پاکستان اور انڈیا کا کوئی نیا سفیر آتا تھا تو ہر دوہمسایہ ممالک کے سفرا ایک دوسرے سے کرٹسی کال یا ملاقات کرتے تھے۔ اس دو طرفہ تعلق سے علاقائی تعاون و استحکام میں ایک نوع کی معاونت ملتی تھی۔ ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار ہوتا تھا۔ مگر موجودہ صورتحال میں اس سب کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ جواباً یہی عرض کی کہ اب یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے یقیناً قابلِ افسوس ہے لیکن اس کی جڑیں ہمیں اپنے ہی جذباتی ماضی میں کہیں مل جائیں گی۔

اپنے اپنے پسندیدہ رائیٹرز کے ریفرنسز بھی پیش کیے گئے۔ علاقائی تنازعات و عالمی حالات پر ڈاکٹر صاحب کی گہری نظر اور براہِ راست پیش آنے والے تجربات سے استفادے کا موقع بھی میسر آیا۔ یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ اسد صاحب پہلے کی طرح ہی چاک و چوبند اور جواں سال دِکھ رہے ہیں۔ گویا گردشِ دوراں یا ریٹائرمنٹ نے ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑا۔ ہماری دعا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لیے مزید خدمات سرانجام دیتے رہیں۔

ایسی ہی ایک تفصیلی ملاقات معروف ریسرچ سکالر اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سے ان کی خوبصورت نئی رہائش گاہ پر ہوئی جہاں ان کی بیسمنٹ میں پھیلی ہوئی وسیع و عریض لائبریری میں ہزاروں کتب قابلِ دید و مطالعہ تھیں۔ وہیں ان کی علمی شخصیت میں گہرائی و گیرائی کے ساتھ آفاقی وسعت تھی۔ انہوں نے جہاں اپنی دو نئی کتب ”امت مسلمۂ دہشت گردی کے گرداب میں“ اور ”مسلم معاشرت کی سیاسی و قانونی تشکیل“ عنایت فرمائیں، وہیں الہیات سے متعلقہ تندوتلخ سوالات کا نہ صرف یہ کہ خندہ پیشانی سے سامنا کیا۔ بلکہ مباحث کا پورا موقع دیا۔ مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ اور حالاتِ حاضرہ میں ان سے کشید کردہ پر سیر حاصل گفتگو و فیضیابی کا طویل موقع میسر آیا۔

 اس بزرگی میں بھی ڈاکٹر خالد مسعود کی ہمت و محنت نوجوان سے بڑھ کر ہے۔ بیگم صاحبہ کی صحت البتہ اس مرتبہ ناساز تھی۔ ورنہ پچھلی ملاقات میں تو وہ ہمیں گھمانے کے لیے مشکل و دشوار راستوں پر لے گئی تھیں۔ قدرت ہر ان دو محترم شخصیات پر اپنی برکتوں کا نزول رکھے۔ ہمارے دوست وسیم الطاف یورپ کی طویل یاترا سے واپس لوٹے تھے۔ ان سے ملاقاتوں اور بحثوں کا احوال شروع کیا تو کالم میں کسی اور بات کی گنجائش نہیں رہے گی۔ سب سے بڑھ کر ہمارے شکریے کے حقدار پیارے دوست جنگ اور جیو کے معروف صحافی اعزاز سید ہیں، جنہوں نے حالیہ اسلام آباد یاترا میں دوستی و تعاون کا حق ادا کیا۔ سہیل چوہدری، شکیل چوہدری، فہد شہباز، عاطف بھائی اور ثنا بھائی کی محبتوں کا بھی شکریہ۔ آخر میں جمہوریت کے فیضان اور

پارلیمنٹ کی بالادستی کو خراجِ تحسین، ہم مسلمانوں کی چودہ صدیوں پر محیط تاریخ کس قدر دردناک اور خونریزی سے لبریز ہے جب بھی حکومتیں تبدیل ہوتی تھیں تو کس قدر بربادی ہوتی تھی۔ ہمیں درس دیا گیا تھا کہ اچھائی تمہاری گمشدہ متاع ہے جہاں سے بھی ملے بلا تعصب اٹھا لو یا اپنالو۔ پر امن انتقالِ اقتدار کا جمہوری اسلوب مغربی فکر و فلسفے کا ایسا کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ ان دنوں اس کا نظارہ اسلام آباد میں ملاحظہ کیا ۔ پارلیمنٹ میں نومنتخب وزیراعظم کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے ممبران نے جو ہلہ گلہ اور شور شرابہ پیہم جاری رکھا اور نوازشریف کے منہ پر وہ جو کچھ بولتے رہے، اگرچہ اخلاقی لحاظ سے اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی تحسین نہیں کی جاسکتی مگر برداشت و حوصلہ مندی اور آزادی اظہار کی اقدارسب جمہوریت کی برکات ہیں جس کی قدر کی جانی چاہیے۔

 ہمارے یہ دوست جس طرح دھاندلی کی گردان الاپتے ہوئے وزیراعظم کے انتخاب کو غیر آئینی قرار دے رہے تھے، ذرا سوچیں اگر یہ دھاندلی ہے تو پھر آپ لوگوں نے خود حلف اٹھاتے ہوئے ان اداروں کا حصہ بننا کیوں قبول کیا؟ آپ کے صدر نے غیر آئینی وزیراعظم سے حلف کس اصول کے تحت اٹھوایا؟ اداروں پر طعنہ زنی کرنے کی بجائے کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ آپ لوگ احتجاج بھی ایک وقار اور تہذیبی دائرے میں  رہ کر کریں۔ یہ بدنصیب ملک تو رہا ایک طرف کیا آپ کی اپنی پارٹی اب کسی دوسرے 9مئی کی متحمل ہوسکتی ہے؟ کھلاڑی صاحب کو یہ بات ضرور سوچنی چاہیے۔