بھٹو کیس : ری ٹرائل کے لئے مناسب قانون سازی کی جائے!
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 06 / مارچ / 2024
سپریم کورٹ کے 9 رکنی بنچ نے 1978 میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دی جانے والی سزائے موت کو غیر منصفانہ قراردیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس مقدمہ کے دوران میں فئیر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے۔ یہ رائے 2011 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس پر سماعت کے بعد دی گئی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد کسی بھی حکومت نے اسے واپس نہیں لیا تھا۔ اس لیے عدالت اس پر رائے دینے کی مجاز ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کو ستمبر 1977 میں نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں مارشل لا قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور مارچ 1978 میں انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔ 4 اپریل 1979 کی رات راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں انہیں پھانسی دے دی گئی تھی۔ اس قومی سانحہ کے 45 سال بعد آج سپریم کورٹ نے اعتراف کیاہے کہ سابق وزیر اعظم کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا تھا اور انہیں موت کی سزا دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے 2011 میں ریفرنس دائر کیا تھا جس میں بھٹو کو موت کی سزا دینے کے معاملہ پر پانچ سوالوں کا جواب مانگا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں گزشتہ 13 برسوں کے دوران اس ریفرنس پر مجموعی طور پر 12 سماعتیں ہوئیں لیکن یہ معاملہ مسلسل سرد خانے میں پڑا رہا۔ یوں لگنے لگا تھا کہ سپریم کورٹ اس ریفرنس پر کبھی حتمی رائے کا اظہار نہیں کرے گی۔ تاہم چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جن دیگر اہم معاملات پر اقدام کا فیصلہ کیا ، ان میں یہ صدارتی ریفرنس بھی شامل تھا۔اس پر سپریم کورٹ کے 9 رکنی بنچ نے اب اپنی رائے دےد ی ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بنچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔
پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس ریفرنس پر سماعت کی پیروی کی اور سپریم کورٹ کی طرف سے محفوظ فیصلہ سنانے کے موقع پر بھی وہ موجود تھے۔ بعد میں میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’عدالت نے آج تسلیم کیا کہ بھٹو کو منصفانہ ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا تھا۔ ان کی جماعت سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کرے گی جس کے بعد ہی اس معاملے پر مزیدبات کی جائے گی۔ عدلیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنا چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ کی اس رائے کے بعد پاکستان کا جمہوری اور عدالتی نظام ترقی کرے گا۔ بھٹو کو سزائے موت دینے کا فیصلہ عدالت کے لیے بھی ایک داغ تھا۔ پاکستان کے عوام کو اس عدالت سے انصاف کی امید ہونی چاہیے تھی۔ تاہم اس داغ کی وجہ سے ان کے لیے بہت مشکل تھا کہ وہ سمجھیں کہ انہیں عدالت سے انصاف ملے گا۔ اس فیصلے کے بعد امید رکھتا ہوں اب ہمارا نظام صحیح سمت میں چلنا شروع ہو جائے گا‘۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ کی رائے پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور نامزد صدر آصف علی زرداری کو مبارکباد دی ہے۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ’ تاریخی غلطی کا ازالہ ممکن نہیں لیکن سنگین غلطی کے اعتراف سے ایک نئی تاریخ اور ایک نئی روایت قائم ہوئی ہے۔ عدالت سے ہونے والی زیادتی کو عدالت کی جانب سے درست کرنا مثبت پیش رفت ہے۔ بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ کی متفقہ رائے قومی سطح پر تاریخ کو درست تناظر میں سمجھنے میں مددگار ہو گی۔ ماضی کی غلطیوں کی درستی اور تلخیوں کے خاتمہ سے ہی قومی اتحاد اور ترقی کا عمل تیز ہو سکتا ہے‘۔
صدارتی ریفرنس میں ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کالعدم قرار دینے کی درخواست نہیں کی گئی تھی بلکہ اس مقدمہ کے بعض قانونی و اخلاقی پہلوؤں پر رائے طلب کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے قانونی حوالے سے سوالات کے جوابات دیے ہیں تاہم اخلاقی نوعیت کے یا غیر واضح سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا ہے۔ اس ریفرنس میں 9 رکنی بنچ کا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہی یہ تعین ہوسکے گا کہ سپریم کورٹ کس حد تک موجودہ نظام قانون کو بھٹو کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ذمہ دار سمجھتی ہے اور اس حوالے سے کیا کوئی اصلاحی تجاویز بھی سامنے آتی ہیں۔ کم از کم اس معاملہ کے قانونی پہلوؤں پر تفصیلی رائے سے ملک میں ایک نئی عدالتی روایت جنم لے گی۔ اس فیصلہ کے بعد مستقبل میں کوئی بھی عدالت کسی اہم معاملہ میں وقتی ہیجان یا دباؤ کے تحت فیصلہ کرتے ہوئے ضرور یہ سوچے گی کہ آنے والے وقت میں کوئی غیر جانبدار عدالت ان فیصلوں کو مسترد کرکے ججوں کو ناانصافی اور قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کا مرتکب قرار دے گی۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی ایسی رائے کسی بھی جج کے لیے عبرت کا نشان ہونی چاہئے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریفرنس کے سوالوں کا مختصر عدالتی جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس صدارتی ریفرنس پر غور کے دوران میں 9 رکنی بنچ کی حیثیت مشاورتی تھی ، اس لیے عدالت اس فیصلے کو منسوخ نہیں کر سکتی تاہم اس کی متفقہ رائے یہی ہے کہ سابق وزیراعظم پاکستان کے خلاف لاہور ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں ہونے والی اپیل کی عدالتی کارروائی منصفانہ نہیں تھی۔ ماضی کی غلطیاں تسلیم کیے بغیر درست سمت میں آگے نہیں بڑھا جا سکتا اور تاریخ میں کچھ مقدمات ایسے ہیں جن سے تاثر قائم ہؤاکہ عدلیہ نے ڈر اور خوف میں فیصلہ دیا۔ عدلیہ میں خود احتسابی ہونی چاہیے ۔ ججز پابند ہیں کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ1978 میں فیئر ٹرائل سے متعلق آرٹیکل دس اے آئین کا حصہ نہیں تھا لیکن علم قانون میں یہ بات واضح ہے کہ ہر کسی کو فیئر ٹرائل کا موقع ملنا چاہیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت ریفرنس کی سماعت کے دوران میں اس مقدمہ کے شواہد کا جائزہ نہیں لے سکتی تھی بلکہ صدر کی طرف سے بھیجے ہوئے سوالات کے مطابق ہی جواب دے سکتی ہے۔ صدارتی سوالوں میں بھی سزا معاف کرنے یا مقدمہ دوبارہ شروع کرنے کی استدعا نہیں کی گئی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد نظر ثانی اپیل بھی مسترد کی جاچکی ہے ، اس لیے ملکی قانون و آئین کے مطابق اب اس مقدمہ کے شواہد کا از سر نو جائزہ لینا ممکن نہیں۔
صدر آصف علی زرداری کی طرف سے بھٹو کیس میں سپریم کورٹ سے درج زیل پانچ سوال پوچھے گئے تھے:
1) آیا ذوالفقار بھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کے مطابق تھا؟
2) کیا ذوالفقار بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہو گا؟ اگر نہیں تو اس فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟
3) کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانا منصفانہ فیصلہ تھا؟ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ جانبدارانہ نہیں تھا؟
4) کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سنائی جانے والی سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟
5) کیا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف دیے گئے ثبوت اور گواہان کے بیانات ان کو سزا سنانے کے لیے کافی تھے؟
سپریم کورٹ نے ان سوالوں کا یہ مختصر جواب دیا ہے۔ تفصیلی جواب بعد میں جاری ہونے والے فیصلہ میں فراہم کیا جائے گا:
1) ذوالفقار بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا۔ نہ ہی ٹرائل آئین اور قانون کے مطابق ہوا۔ اُن کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل اور سپریم کورٹ میں اپیل میں بنیادی حقوق کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔
2) دوسرا سوال واضح نہیں اس لیے رائے نہیں دے سکتے۔ اس میں قانونی سوال نہیں اٹھایا گیا۔
3) آئینی تقاضے پوری کیے بغیر ذوالفقار علی بھٹو کو سزا دی گئی۔
4) ۱سلامی اصولوں پر کسی فریق نے معاونت نہیں کی۔ اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلہ ہونے یا نہ ہونے پر رائے نہیں دے سکتے۔
5) ذوالفقارعلی بھٹوکی سزا آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھی۔ ریفرنس میں مقدمہ کے شواہد کا جائزہ نہیں لے سکتے۔ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے۔ تفصیلی رائے بعد میں دی جائے گی۔
ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی طرف سے ملک کی تاریخ کے اہم ترین اور سب سے متنازعہ فیصلہ پر سپریم کورٹ کی دوٹوک رائے سے ملکی میں نظام عدل کی ایک نئی روایت جنم لے سکتی ہے۔ اس نکتہ کو سنجیدگی سے نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں سپریم کورٹ سے نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد اس معاملہ پر کوئی عدالت غور نہیں کرسکتی۔ ناروے سمیت متعدد ممالک میں یہ قانونی سہولت موجود ہے کہ اگر کسی سنگین معاملہ میں بعد از وقت نئے شواہد سامنے آتے ہیں اور حالات سے واضح ہوتا ہے کہ کسی ملزم کے ساتھ انصاف نہیں ہؤا تھا بلکہ اسے ناجائز طور سے سزا ملی تھی تو اس مقدمہ کا نیا ٹرائل ہوسکتا ہے۔ یوں حالات و واقعات کا ازسر نو جائزہ لے کر نیا عدالتی فیصلہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ عام طور سے ایسے معاملات میں جہاں ملزم کو غیر منصفانہ طور سے سزا دی گئی ہو اور عدالت بعد میں اس الزم کو غلط قرار دے تو حکومت کو متعلقہ شخص یا اس کے خاندان کو معاوضہ ادا کرنے کا پابند کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اس قانونی سقم کو دور کرنا ضروری ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ دونوں پارٹیوں کے سربراہان نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو قابل تحسین اور ملکی نظام انصاف کے لیے خوش آئیند قرار دیاہے۔ اس تناظر میں ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف دینے اور ان کے خلاف غیر منصفانہ عدالتی فیصلہ تبدیل کروانے کے لئے ملکی قانون یا آئین میں مناسب ترمیم ہونی چاہئے۔ ایسی ترمیم کے بعد بھٹو کیس کا ری ٹرئل ہوسکتا ہے اور سپریم کورٹ کی رائے کے مطابق اس ناانصافی کا خاتمہ ہوسکتا ہے جو ایک آمر کے دباؤ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے سرزد ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ ایسی ترمیم مستقبل میں بھی پاکستانی شہریوں کو کسی الزام میں نئے شواہد سامنے آنے پر ازسر نو انصاف حاصل کرنے کا موقع فراہم کرسکے گی۔