پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کو حلف اٹھانے سے روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کردی

  • جمعرات 07 / مارچ / 2024

پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر منتخب ارکان کو حلف اٹھانے سے روکنے کے حکم میں 13 مارچ تک توسیع کردی ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کی۔ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بابر اعوان اور قاضی انور عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کے وکلا بھی عدالت کر روبرو پیش ہوئے۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی پر کیس ملتوی کرنے کی درخواست کی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو انتخابی نتائج کی تصدیق شدہ دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں انتخابی نتائج کی دستاویزات حصولی کے لیے پی ٹی آئی رہنماؤں کی درخواستوں پر جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی نے سماعت کی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل نے کہا کہ الیکشن رولزکے مطابق امیدوارکو دستاویزات دینا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ ہم الیکشن کمیشن کے پاس جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے آر او کے پاس جائیں، وہاں جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس جائیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے وکیل محسن کامران نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس فارم 45، 47 جب آئے تو ہم نے اپلوڈ کیے، جن ریٹرننگ افسران (آر اوز) نے 14 دن کے اندر فارم جمع نہیں کیےکارروائی کررہے ہیں۔ الیکشن کمیشں نے ویب سائٹ پر فارم اپلوڈ کیے ہیں۔

اس دوران چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام لاہورہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے درخواست نے ایڈووکیٹ اشتیاق اے خان کی وساطت سے دائر کی۔ درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نہ تو ٹربیونل ہے، نہ عدالت، اسمبلی میں سیٹوں کے تناسب سے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنی چاہیے۔ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن لڑا یا نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

الیکشن کمیشن کا عمل آئین میں ترمیم کے مترادف ہے۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اپنے اختیارات سے تجاوز ہے لہذا عدالت الیکشن ایکٹ کا سیکشن 104، رول 94 خلاف آئین قرار دے۔