الازہر الشریف اور مسئلہ فلسطین

اسرائیل، فلسطین کی حامی ایک پرجوش آواز کو خاموش کرنا چاہتا ہے۔ وه فلسطینى عوام  كو تمام میدانوں میں حمایت کرنے والے سب سے بڑے دفاعی ستون سے محروم كرنا چاہتا ہے۔ یہ آواز الازہر الشریف کی آواز ہے جس کی نمائندگی فضيلت مآب امام اكبر پروفيسر ڈاکٹر احمد الطيب کرتے ہیں۔

فضيلت مآب امام اكبر کے الفاظ، کتابیں اور خطبات اس بات کی گواہی ديتے ہیں کہ وہ فلسطین کی حمایت میں ہر محاذ پر ڈٹے رہے ہيں۔ اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سینیر رکن اسامہ حمدان نے غزہ جنگ میں شيخ الازہر کے شاندار کردار اور فلسطینی طلباء کو وظائف فراہم کرنے کی تعریف کی ہے۔ ماضی میں شيخ الازہر نے اعلان کیا تها کہ 2018 قدس شریف کا سال ہے، جب انہوں نے کہا: ’میری تجویز ہے کہ 2018کو قدس شریف کا سال قرار دیا جائے، جس میں بیت المقدس کے تعارف، اہلِ قدس کی مادی و معنوی حمایت اور اس سے متعلق  دعوتى اور ثقافتی سرگرمیوں کو مسلسل فروغ دیا جائے‘۔  اعلان کے فورا ًبعد فضیلت مآب امام اکبر شیخ الازہر نے امریکہ کے وزیر خارجہ سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’  میں تاریخ کے جعل سازوں، امتوں کے حقوق کے لٹیروں اور ان سے ملاقات ہرگز نہیں کر سکتا جو غیر مستحق لوگوں کو وہ دیتے ہیں جو اصل میں ان کی ملکیت ہی نہیں‘۔

 الازہر الشريف نے بیت المقدس کی نصرت و مدد کے لئے ایک عالمی کانفرنس منعقد کروائی، جس کا ہدف اصحاب فکر و دانش، اہل مذہب و سیاست اور دنیا کے مختلف بر اعظموں کے 86 ممالک سے  آئےہوئے مہمانوں امن و سلامتی کے خواہاں افراد کا باہمی تبادلۂ خیال تھا، تاکہ بیت المقدس کی شناخت، فلسطینی عوام کی عزت و وقار ، ان کی سرزمین کی حفاظت اور قدس شریف کی عربی اور روحانی شناخت كى حفاظت کے لئے نئے اسالیب اور جدید طریقہ کار دریافت کرکے،  بین الاقوامی فیصلوں کو چيلنج كرنےوالے اس صہیونی تکبر اور زعم برتری کو لگام دى جائے۔  جو اقوام عالم اور خاص طور پر چار ارب مسلمانوں اور عیسائیوں کے جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ اور تاکہ ان امریکی فیصلوں کو بھی مسترد کیا جائے جو ظالم صہیونی استعمار کی واضح طرفدارى  كرتے ہيں۔

اس کانفرنس کے اختتام میں شیخ الازہر نے نصرت القدس کے  اعلامیہ میں  کہا : ’ہم اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ بیت المقدس ہی فلسطینی ریاست کا دائمی دارالحکومت ہے، جس کے باقاعدہ رسمی اعلان، بین الاقوامی سطح پر اسے تسلیم کرنے اور بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں میں اس کی متحرک رکنیت کو قبول کرنے کے لئے سنجیدہ کردار ادا کرنا واحب ہے۔ بیت المقدس صرف کوئی مقبوضہ زمین یا ايك فلسطینی يا عرب مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ معاملہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے؛ یہ ایک اسلامی و مسیحی مقدس مقام ہے، اور مسلمانوں اور عیسائیوں کا ایمانی مسئلہ ہے۔‘

 الازہر الشریف نہ صرف ایک ہزار سال پرانا دنیا کا قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے بلکہ تعلیم کے ساتھ  ساتھ الازہر الشریف حق، انصاف، حریت اور انسانیت کے پیغام کی مشعل کا حامل بھی رہا ہے، اسی ذمہ داری کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ غزہ کی پٹی پر حاليہ جنگ میں شيخ الازہر  نے عرب اور اسلامی دنیا کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری طور پر متحد ہو جائیں۔ انہوں نے غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے اندھی دہشت گردی قرار دیا  ہے۔ نہوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحیت کی مذمت کرے اور اسے فوری طور پر روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تاریخ ان تمام لوگوں پر مہربان نہیں ہوگی جو معصوم فلسطینیوں کے دفاع میں ناکام رہے اور ان تمام لوگوں پر جنہوں نے اس صیہونی دہشت گردی کے تسلسل کی حمایت کی۔

 شيخ الازہر نے زور دیا کہ یہ عرب اور اسلامی قوم اور دنیا کے تمام آزاد لوگوں کا فرض ہے کہ وہ متحد ہو کر اس مظلوم عوام کو بچانے کے لیے فوری حل تلاش کریں، جن کے خلاف انسانیت سوز قتل عام کیا جا رہا ہے۔ جس کے بارے میں انسانی تاریخ کو كچھ معلوم نہیں ہے۔ الازہر الشریف عالمی برادری سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دہشت گرد صہیونی ریاست کے خلاف غزہ کے ہسپتال پر کیے جرائم پر  مقدمہ چلائے۔ اور غزہ کے ڈاکٹروں اور غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کے تمام کارکنوں کو ان کے دلیرانہ کردار اور زخمیوں کی خدمت میں صف اول کی قیادت کرنے پر سلام پیش كيا جائے۔ عرب لیگ کے سربراہی اجلاس كے موقع پر شيخ الازہر  نے بيان کیا کہ ’ ہم آپ ہی کی قوم ہیں ہم آپ کی کوششوں اور مساعی کی دل و جان سے تائید و حمایت کرتے ہیں۔ہمیں پوری امید اور بھروسہ ہے کہ آپ  فلسطین میں جاری صیہونی جارحیت کو روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ طاقت، سازوسامان، حکمت اور تجربے کو بروئے کار لائیں گے۔ یہ ذہن نشین رہے کہ فلسطین میں اپنے بھائیوں کے خلاف جارحیت کو روکنا ہمارا دینی اور شرعی فريضہ ہے، اللہ تعالیٰ کے حضور ہم سب کی ذمہ داری ہے، خواہ ہم حکمران ہوں یا عام عوام‘۔

مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت کی وجہ سے الازہر الشریف کو صیہونیوں کی طرف سے ایک بدنیتی پر مبنی مہم کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ 31 اکتوبر کو انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے محقق   اوفیر ونٹر  نے غزہ میں شہریوں کے خلاف جبالیہ کیمپ میں اسرائیلی قتل عام کے موقع پر ایک مضمون لکھا  ہے جس کا عنوان تھا: ’اعتدال پسند اسلام سے بنیاد پرست اسلام کی طرف؟ الازہر حماس کے ساتھ کھڑی ہے‘۔  اس رپورٹ کے مطابق الازہر دہشت گردی کی حمایت كرتا ہے۔  ہم اس محقق سے ايك سوال پوچھنا چاہتے ہیں كے گويا دہشت گرد کون ہے؟ وہ جو اپنی زمین کا دفاع کرتا ہے یا جو دوسروں كى زمین پر قبضہ کرتا ہے ؟ دہشت گرد وہ ہے جس نے دنیا کی نظروں کے سامنے بیپٹسٹ ہسپتال میں قتل عام کیا۔ جسکے نتیجے میں 500 افراد شہید  ہوئے ۔ دہشت گرد وہ ہے جس نے اسکولوں کے اندر پناہ گزیں معصوموں، ساحلی راستے پر موجود لوگوں، بے گھروں كو نشانہ بنايا ۔ دہشت گرد وہ ہے جس کی لگاتار بمبارى سے غزه كے كئى علاقے ملبے كا ڈهير بن چکے ہیں۔

دہشت گرد وہ ہے جو بچوں، عورتوں اور معصوموں کو قتل کرنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ دہشت گرد وہ ہے جس نے بلا روک ٹوک معصوم فلسطینیوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑائے اور ان کا خون بہانے میں کوئی شرم محسوس نہیں كی۔ دہشت گرد وہ ہے جس نے  ڈھٹائی کے ساتھ بے شمار وحشیانہ جرائم کیے ہیں جن میں سے ہسپتالوں پر بمباری كرنا، مساجد اور گرجا گھروں کو تباہ کرنا، اور بچوں، خواتین، میڈیا رپورٹرز اور بے بس معصوم شہریوں کو قتل کرنا ہے۔ دہشت گرد وہ ہے جس کی وجہ سے غزہ میں کوئی بهى مقام محفوظ نہیں ہے۔ دہشت گرد وہ ہے جس کی بمبارى دن رات سے شہيد فلسطينيوں كى مجموعى تعداد اب تك 30 ہزار  سے زائد ہو گئى ہے۔ اور  70 ہزار  سے زائد زخمى ہوئے ہیں۔ یہی ہمارى نظر ميں دہشت گردى ہے۔

آخر میں ہم الازہر الشريف میں با فخر واعزاز قابض صہيونى دشمن کے خلاف فلسطینی عوام کی کوششوں اور جدوجہد کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اور  مہذب اقوام اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جدید تاریخ کے طویل ترين قبضے کو 'فلسطین پر صہیونیوں کے قبضے کو' دانشمندى اور عقل و انصاف کی نظر سے دیکھیں، یہ قبضہ انسانیت اور عالمی برادری کی پيشمانى پر ايك بدنما داغ ہے۔