بھٹو کا قتل: قانونی غلطی نہیں قومی جرم ہے

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ نے بھٹو شہید کی سزائے موت کے فیصلے کو انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دے دیا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس کا  اعتراف  بھٹو شہید کے عدالتی قتل کے چوالیس سال بعد کیا ہے۔

پاکستان کے جمہوریت پسند عوام سپریم کورٹ کی تاریخی رائے  کو قدر اور تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔  سپریم کورٹ کی رائے کو آئین اور جمہویت کی ایک  بڑی کامیابی کہا جا سکتا ہے۔      جنرل ضیا ٹولہ، جسٹس مولوی مشتاق اور جسٹس انوارلحق کی سربراہی میں ججوں کا ایک گروہ قومی مجرموں کا  مافیا تھا، جنہوں نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا منصوبہ بندی سے عدالتی  قتل کیا تھا۔ بھٹو کے عدالتی قتل کی وجہ  قانونی غلطی یا فیئر ٹرائل کا  ملنا نہیں ہے۔

 یہ اس وقت ریاست پر ناجائز قابض  جنرل ضیا ٹولے اور عدلیہ میں اس کے کاسہ لیس ججوں کی مجرمانہ سازش کا نتیجہ تھا۔  بھٹو کا عدالتی قتل محض ایک فرد کا جسمانی خاتمہ نہ تھا۔ اس کے نتیجہ میں جمہوریت اور آ ئین کا قتل ہوا تھا جبکہ قاتل اقتدار اور عدل کے ایوانوں پر غیر آئینی قبضہ جمائے بیٹھےتھے۔   یہ پاکستان میں جمہوریت دشمن  تاریک دور کا آغاز تھا جس کے منحوس سائے  پنتالیس سال بعد بھی  اردگرد منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ ریاستی اداروں، سیاسی و مذہبی  جماعتوں،  انصاف کے ایوانوں، صحافت، ادب و ثقافت بلکہ  ہر شعبہ زندگی میں جنرل ضیاء کے تاریک دور کی  مکروہ نشانیاں دندناتی پھرتی نظر آتی ہیں۔

ضیا فوجی ٹولے نے بھٹو شہید کا جسمانی خاتمہ تو کر دیا مگر عوام کے ذہنوں اور ملک پر بھٹو کے سیاسی اور نظریاتی اثرات کو ختم  کرنا آسان کام نہ تھا۔ بھٹو کی جماعت  پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کے لئے ہر قسم کی سازش اور ریاستی جبر  کا سہارا لیا گیا۔ جئے بھٹو کا نعرہ لگانے والے کئی کارکنوں کو موت کی سزائیں دی گئیں ۔ بے پنا سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور دانشوروں کو سر عام کوڑے مارے گئے۔  ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکنوں کو اذیت گاہوں میں ٹارچر سہنا پڑا اور سالوں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اسی دور میں سینکڑوں کی تعداد میں سیاسی کارکن ملک بدر ہونے پر مجبور ہوئے۔ 

بھٹو اور پیپلز پارٹی  کے اثرات ختم کرنے کے لئے  مذہب، فرقہ پرستی ، لسانیت اور برادری  کا ہتھیار استعمال کیا گیا۔  جنرل ضیا کی نام نہاداسلامائزیشن نے ملک کو مذہبی فرقہ پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کے تحفے دئے۔ اسی دور  میں افغان جہاد  کے نام پر دہشت گردی کی پرورش کی گئی۔ جہاد کے نام پر پاکستان کو امریکی اور مغربی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا گڑھ بنایا  دیاگیا۔   ملک میں اسلحہ کا کلچر اورمنشیات کی لعنت کا پھیلاو بھی جنرل ضیا کے تاریک دور کی یادگار ہیں۔ بھٹو دشمنی کی وجہ سے کراچی  میں سندھ مخالف  لسانی سیاست کی بنیاد بھی ضیا فوجی ٹولے کے سنہری کارناموں میں شامل ہے۔

بھٹو شہید کے دور حکومت میں پارلیمنٹ نے  1973  کا متفقہ  آئین منظور کیا۔   ضیا فوجی ٹولہ اور اس کے  ہمنوا اعلیٰ عدالتوں کے جج   متفقہ آئین کا حلیہ بگاڑنے، آئین و قانون کی حکمرانی اور سویلین بالادستی کو پامال  کرنے والے قومی مجرم ہیں۔  بعد ازاں اس جرم میں جنرل مشرف بھی شامل رہے  اور ہائی کورٹ سے مجرم قرار پائے۔  پارلیمنٹ  نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے بظاہر آئین بحال کر دیا ہے۔ مگر جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے آمرانہ ادوار میں ریاستی اداروں پر غیر جمہوی قوتوں کے اثرات سے  چھٹکارا نہیں پا یا جا سکا۔ آج آئین بحال ہونے کے باوجود غیر موثر ہے۔  حکومتی اور سیاسی معاملات میں ریاستی اداروں کی مداخلت،  ضیاء اور مشرف  آمرانہ ادوار کی باقیات کے اثرات ختم نہیں ہوئے۔     

بھٹو شہید کا عدالتی قتل کرنے والے  قومی مجرموں جنرل ضیا ٹولے اور سازشی ججوں  کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے والا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔  مگر تاریخ نے ان قومی مجرموں کو بے نقاب کرکے انکے بدنما چہروں پر سیاہی مل دی ہے۔ آج  پارلیمنٹ بھٹو کو جمہوریت کا شہید اور قومی ہیرو کا درجہ دے سکتی ہے۔   ہائی برڈ سیاسی بندوبست سے نجات، آئین کے موثر نفاذ، اورمنتخب سول اداروں کی بالادستی حاصل کر نا بھٹو شہید  کو خراج عقیدت   پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔