احتجاج کی سیاست ، ملک کا مستقبل
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 07 / مارچ / 2024
ملک میں اسمبلیوں نے کام شروع کردیا ہے اور نئی حکومتیں قائم ہوگئی ہیں لیکن اس بات کے آثار دکھائی نہیں دیتے کہ ملک کی تمام سیاسی قوتیں بھی صورت حال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے گروہی اختلافات پس پشت ڈال کر پاکستان کی فلاح اور موجودہ دگرگوں معاشی صورت حال سے نکلنے کے کسی ایک نکاتی منصوبہ پر اکٹھے ہوسکتی ہیں۔ اس انتشار کے اشارے صرف تحریک انصاف ہی کی طرف سے سامنے نہیں آئے بلکہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تند و ترش لب و لہجہ اختیار کیا ہؤا ہے اور وہ مسلسل اداروں کو متنبہ کرتے ہوئے ’میدان سجانے‘ کی باتیں کررہے ہیں۔
دو روز بعد صدر مملکت کاا نتخاب ہونے والا ہے۔ امید ہے کہ اتحادی جماعتوں کے امید وار آصف علی زرداری اس عہدے کے لیے دوبارہ منتخب ہوجائیں گے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں آصف زرداری کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ہم مل کر ملک کو مسائل سے نکالنے کا عزم رکھتے ہیں۔ آصف زرداری نے بھی جوابی تقریر میں ملتے جلتے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ جب ضرورت پڑی تو شہباز شریف کو ’قوت‘ فراہم کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم ملک کو درپیش مشکلات حل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ البتہ اس گرمجوشی کے باوجود پیپلز پارٹی نے ابھی تک وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ صدارتی انتخاب کے بعد یہ مرحلہ بھی طے ہوجائے گا اور پیپلزپارٹی حکومت کا حصہ بن جائے گی۔ البتہ اگر پیپلز پارٹی نے اس کے برعکس حکومت سے باہر رہنے پر اصرار کیا تو شہباز شریف کی حکومت مسلسل خطرے کا شکار رہے گی۔
گو کہ کہا جارہاہے کہ ایک بار وزیر اعظم منتخب ہوجانے کے بعد شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد لانا مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہمیشہ اسٹبلشمنٹ سے خوشگوار تعلقات کی بنیاد پر سیاست کی ہے، اس لیے یہی امید کی جاتی ہے کہ فوجی قیادت کے ساتھ وزیر اعظم کا کوئی بڑا اختلاف رونما نہیں ہوگا اور موجودہ حکومت پانچ سال تک کام کرسکے گی۔ البتہ قومی اسمبلی میں اس وقت تین بڑے سیاسی گروپ یا پارٹیاں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی تحریک کے ساتھ اس وقت اتحادی پارٹیاں ہیں جو مل کر حکومت بنا رہی ہیں ۔لیکن تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے ذریعے ایک بڑے سیاسی گروپ کے طور پر پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔
تحریک انصاف نے اگرچہ تمام اسمبلیوں میں شرکت کی ہے اور حلف بھی اٹھا لیے ہیں اور خیبر پختون خوا میں حکومت بھی بنا لی ہے لیکن ابھی تک اس کی قیادت دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر موجودہ سیاسی نظام کی حمایت پر آمادہ نہیں ہے۔ وہ مسلسل حکومتوں کو جعلی اور اسمبلیوں کو دھاندلی زدہ قرار دے کر مینڈیٹ چوری کا الزام لگا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ اطمینان بخش ہے کہ تحریک انصاف نے خصوصی نشستوں کے تنازعہ کے علاوہ فارم 45 کی بنیاد پر انتخابی نتائج مرتب کرنے کا معاملہ عدالتوں میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طریقہ پر عمل ہونے سے کم از کم یہ تو واضح ہورہا ہے کہ ایک ماہ کی شدید مہم جوئی کے بعد اب تحریک انصاف بالآخر عدالتوں کا رخ کررہی ہے تاکہ انتخابی دھاندلی کے بارے میں اپنے دعوؤں کو دلائل اور شواہد کے ساتھ ثابت کرسکے۔
عدالتوں نے اگر تحریک انصاف کی دادرسی کی اور وہ فارم 45 کے بارے میں اپنا مؤقف ثابت کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو کسی بھی عدالت کے لیے ان نشستوں پر تحریک انصاف کا دعویٰ قبول کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے، جن پر وہ شواہد دینے میں کامیاب ہوجائے۔ تاہم تحریک انصاف کے پروپیگنڈا ہتھکنڈوں اور ماضی کی مثالوں سے دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کو عدالتوں سے شاید ویسا ریلیف نہ مل سکے ، جس کی امید لگا کر اب وہ عدالتوں سے انصاف کی طالب ہوئی ہے۔ یعنی اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ پی ٹی آئی عدالتوں میں قومی اسمبلی کی 70 سے 80 نشستوں کے انتخابی نتائج تبدیل کروانے میں کامیاب ہوجائے گی ۔ یوں وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر حکومت بنانے کے لیے اکثریت حاصل کرلے گی۔ البتہ اگر تحریک انصاف کے پاس واقعی الیکشن کمیشن کی واضح دھاندلی کے شواہد موجود ہیں تو اس کے دعوے قبول ہونے چاہئیں ۔ عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں اگر قومی اسمبلی کی ساخت تبدیل ہوتی ہے تو سب سیاسی گروہوں کو اسے خوش دلی سے قبول کرنا چاہئے اور اس کے نتیجے میں اگر ملک میں نئی حکومت قائم ہوتی ہے تو اس کا استقبال کرنا چاہئے۔
سچ تو یہ ہے کہ اگر ایسی کوئی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو وہ موجودہ انتخابی نظام کو مستحکم و مضبوط کرے گی اور اس سے عدم استحکام اور بحران کا کوئی اندیشہ پیدا نہیں ہوگا۔ بلکہ پاکستان پارلیمانی نظام پر عمل کرنے والا شاید پہلا ملک بن جائے گا جس کی عدالتیں ’حقائق و شواہد‘ کی بنیاد پر انتخابی نتائج تبدیل کرکے اسمبلیوں میں پارٹیوں کی نمائیندگی کی صورت حال کو تبدیل کریں گی۔ البتہ اس طریقہ کی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہوگی اگر عدالتوں میں جاتے ہوئے تحریک انصاف کی طرف سے عدالتی فیصلوں کا احترام کرنے اور ان فیصلوں کے بعد احتجاج اور ہیجان کی سیاست ختم کرنے کا اعلان بھی کیا جائے۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی اگر عدالتوں کو اپنا سیاسی بیانیہ مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے اور ناموافق عدالتی فیصلوں کے خلاف ماضی کی طرح جانبداری کا الزم لگاتے ہوئے نیا تماشہ لگایا جاتا ہے تو اس سے پارٹی یا ملک کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں پہنچنے گا۔
تحریک انصاف کے بعد انتخابی دھاندلی کے بارے میں سب سے زیادہ کرخت اور جارحانہ مؤقف مولانا فضل الرحمان نے اختیار کیا ہے۔ انہوں نے آج لاہور میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اداروں کو مداخلت سے باز رہنے کا مشورہ دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ میدان سجانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کے برعکس مولانا فضل الرحمان کا مؤقف تیکھا اور تلخ ہونے کے باوجود غیر واضح ہے۔ وہ ابھی تک یہ نہیں بتا سکے کہ انہیں کن کن حلقوں میں شکایات ہیں اور وہ کس بنیاد پر کتنی نشستوں چھینے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تحریک انصاف قومی اسمبلی کی اسی نوے سیٹوں کی دعویدار ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اسے پنجاب اور کراچی میں جان بوجھ کر ہرایا گیا ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان نے نہ تو نشستوں کی تعداد بتائی ہے اور نہ ہی یہ کہا ہے کہ وہ درحقیقت کتنی سیٹوں کے دعوے دار ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کی سیاسی موجودگی کے حوالے سے دیکھا جائے تو انہیں خیبر پختون خوا میں ہی ناکامی کا شکوہ ہونا چاہئے۔ اس صوبے میں تحریک انصاف نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔
مولانا فضل الرحمان اگر اس صوبے میں دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں تو تحریک انصاف کے ساتھ وہ کس بنیاد پر سیاسی پینگیں بڑھا رہے ہیں؟ اگر یہ طریقہ محض سیاسی انتشار پیدا کرنے اور منتخب حکومت کو ناکام بنانے کے لیے اختیار کیا جارہا ہے تو مولانا فضل الرحمان کا یہ سیاسی راستہ ان کے لیے زیادہ پر خطر ہوسکتا ہے۔ اس لئے قیاس یہی ہے کہ وہ دھماکے دار بیانات سے اپنا ’سیاسی وزن ‘ بڑھا کر حکومت سے مناسب حصہ لینے کی تگ و دو کررہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مسلسل رابطے اور نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے گھر جاکر ان سے ملاقات کا کچھ تو مقصد ہونا چاہئے۔ یہ باور کرنا ممکن نہیں ہے کہ نواز شریف جیسا لیڈر کسی پیشگی افہام و تفہیم کے بغیر مولانا کے گھر گیا اور سیاسی مفاہمت کے لیے بات چیت کی۔
اس دوران میں پاک فوج کے کور کمانڈرز کی کانفرنس کے اعلامیہ میں دو باتیں بہت اصرار اور وضاحت کے ساتھ کہی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ سانحہ9 مئی میں ملوث تمام لوگوں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزائیں دلوائی جائیں۔ شہباز شریف وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد یہی بات کہہ چکے ہیں۔ پاک فوج کا دوسرا پیغام یہ ہے کہ بے بنیاد سیاسی مہم جوئی کے لیے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ کور کمانڈرز کانفرنس نے امن و امان قائم رکھنے کے لیے حکومت وقت کا بھرپور ساتھ دینے کاعزم ظاہر کیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فوج بھی سیاسی احتجاج کے بارے میں ماضی قریب کے طریقوں کو ملکی معیشت کے لیے ناقابل قبول سمجھتی ہے۔
اس حوالے سے البتہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کا یہ بیان بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے جس میں انہوں نے فوج کے اعلامیہ کی حمایت کرتے ہوئے سانحہ 9 مئی کے قصور واروں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عمران خان کا یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ انہوں نے کہا کہ وہ فوج کے اعلامیہ کی حمایت کرتے ہیں اور 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہئے۔ اگرچہ اس حوالے سے وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو واحد ثبوت ماننے پر اصرار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اس بیان میں انہوں نے بالواسطہ طور سے ہی سہی لیکن 9 مئی 2022 کو ہونے والے افسوسناک واقعات کو جرم قرار دیاہے۔ اس سے پہلے تو وہ اس وقوعہ سے ہی انکار کرتےرہے ہیں۔
ملک میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران میں یہ صورت حال دیکھی گئی ہے کہ ایک پارٹی حکومت میں ہوتی ہے تو دوسری احتجاج کے لیے سڑکوں پر موجود رہتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت ملک کو معاشی و سیاسی شعبوں میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اول تو اس مشکل پر قابو پانے کے لیے تمام بڑی پارلیمانی پارٹیوں کو کسی قابل عمل معاہدے پر اتفاق کرنا چاہئے۔ اگر ایسا اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا تو اسمبلیوں ہی کو اپنا اختلاف درج کروانے کے لیے استعمال کرنا چاہئے اور سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ صدارتی انتخاب کے بعد بھی اگر احتجاجی سیاست غیر معینہ مدت تک جاری رہی تو اس کے دو ہی نتیجے برآمد ہوں گے۔ ایک یہ کہ موجودہ حکومت بھی کوئی مسئلہ حل نہیں کرسکے گی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجہ میں حکومت مدت پوری کیے بغیر ختم ہوجائے۔ دوسری صورت میں حکومت فوج کے ساتھ مل کر احتجاج کچلنے کے لیے سخت طریقے اختیار کرے ۔ اس کے نتیجے میں شاید وقتی امن تو دیکھنے میں آئے لیکن بے چینی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ ایسے حالات کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوں گے۔