اب آصف زرداری اور شہباز شریف کا امتحان ہے!

آصف علی زرداری دوسری مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہوگئے  ہیں۔ وہ  اتوار کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس طرح 8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد نئی اسمبلیوں اور  حکومتوں کی قیام کا جو سلسلہ شروع ہؤا  تھا، وہ آصف زرداری کے انتخاب کے بعد اختتام  پذیر ہؤا۔ اب  سب منتخب ارکان، عہدیداران اور سیاسی لیڈروں و پارٹیوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مل کر ملک کو مسائل سے باہر نکالنے  کے لیے کام کریں۔

عملی طور سے صورت حال زیادہ خوشگوار نہیں ہے۔ تحریک انصاف   بڑی سیاسی قوت بن کر اسمبلیوں میں آئی ہے اور   قومی اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کے علاوہ خیبر پختون خوا میں بہت بڑی اکثریت سے کامیاب ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  خیبر پختون خوا اسمبلی سے صدارتی انتخاب میں  آصف زرداری کو صرف 17 ووٹ ملے جبکہ ان کے مد مقابل اور سنی  اتحاد کونسل کے امید وار محمود اخان اچکزئی   نے 91 ووٹ  لیے۔     سنی اتحاد کونسل درحقیقت تحریک انصاف کا دوسرا نام ہے کیوں کہ  الیکشن کمیشن سے مخصوص نشستوں میں حصہ حاصل کرنے کے لیے تحریک انصاف کی حمایت سے آزاد ارکان کے طور پر اسمبلیوں  میں منتخب ہونے  والے ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اس شرکت کا بنیادی مقصد مخصوص نشستیں حاصل کرنا ہی تھا لیکن الیکشن کمیشن نے نہ صرف  ’تحریک انصاف ‘ کی سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو دینے سے انکار کیا بلکہ ان نشستوں کو دیگر پارٹیوں میں ان کے حجم کے اعتبار  سے تقسیم بھی کردیا گیا ہے۔

اب یہ تنازعہ مختلف ہائی کورٹس میں زیر غور ہے۔ پشاور اور سندھ ہائی کورٹ سے اس معاملہ پر تحریک انصاف/سنی اتحاد کونسل کو جزوی  ریلیف بھی ملا ہے کیوں کہ عدالتوں نے ان سیٹوں پر نامزد کیے گئے  بعض ارکان کو حلف اٹھانے سے روک دیا ہے۔ تاہم ابھی اس معاملہ پر تفصیلی غور کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا۔ اور شاید مخصوص نشستوں کے سوال پر بھی تحریک انصاف کے انتخابی نشان کے معاملہ کی طرح بالآخر سپریم کورٹ ہی کو کوئی حکم جاری کرنا پڑے۔ دریں حالات یہ امکان نہیں ہے کہ  موجودہ صورت حال میں کوئی بڑی تبدیلی واقع ہوگی۔    الیکشن کمیشن کے فیصلہ کی وجہ سے  جو نشستیں انتخاب میں کامیابی  کی بنیاد پر تحریک انصاف کے حصے میں آنی چاہئیں  تھیں، اسے ان سے محروم کردیا گیا ہے۔ اسی لیے مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ بصورت دیگر تحریک انصاف  کو یہ اعزاز حاصل رہتا۔ حالانکہ اس صورت میں بھی اس کے پاس حکومت بنانے یا گرانے کے لیے قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہوتی۔

الیکشن کمیشن کے اس یک طرفہ فیصلہ کی وجہ سے تحریک انصاف کے غم و غصہ میں اضافہ ہؤا ہے۔ وہ تو پہلے ہی قومی اسمبلی کی مزید   80 کے لگ بھگ سیٹوں   کی دعوے دار ہے۔ ان نشستوں  پر تحریک انصاف  کے امید وار ناکام ہوئے ہیں لیکن پی ٹی آئی کی قیادت اس ناکامی کو ماننے پر آمادہ نہیں ۔ اور مینڈیٹ چوری کے نعرے کے ساتھ مسلسل ہنگامہ برپا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ ابھی تک  ان معاملات پر  عدالتوں سے رائے نہیں لی گئی لیکن قرائن یہی بتاتے ہیں کہ  اسمبلیوں میں کامیابی کے حوالے سے تحریک انصاف کا مقدمہ قانونی سے زیادہ سیاسی ہے۔ انتخابات میں ضرور بے قاعدگیاں ہوئی ہیں لیکن انتخابی نتائج بہر صورت ہر پارٹی کی مقبولیت  کی عکاسی  کرتے ہیں البتہ   تحریک انصف کے علاوہ دیگر متعدد چھوٹی پارٹیاں بھی ان نتائج کو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی دھاندلی کہہ کر  انہیں قبول کرنے سے انکار رکرہی ہیں۔ حالانکہ   ماضی کے  آئینے میں دیکھا جائے توجماعت اسلامی یا جمیعت علمائے اسلام (ف) اس سے پہلے بھی کبھی  کسی فیصلہ کن سیاسی گروہ کی حیثیت حاصل نہیں رہی ۔ لیکن سیاسی ماحول کی گرما گرمی میں بڑی پارٹیاں  ان پارٹیوں  کوساتھ ملاکر  تماشہ  ضرور  لاگاتی  رہی ہیں۔ اب بھی وہی صورت حال دیکھنے میں آئی ہے۔

البتہ مخصوص سیٹوں  میں تحریک انصاف کو حصہ نہ دے کر الیکشن کمیشن نے ایک  نیا سیاسی پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ خاص طور سے ان سیٹوں کو کسی اعلی عدالت کے حتمی فیصلہ کے بغیر دوسری پارٹیوں میں تقسیم کرکے تحریک انصاف کے اشتعال اور مایوسی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ صدارتی انتخاب کے دوران  میں یہ تنازعہ پوری شدت سے دیکھنے میں آیا ۔ پہلے تو سنی اتحاد کونسل کے امیدوار محمود خان اچکزئی نے الیکشن کمیشن  سے ایک  خط میں مطالبہ کیا کہ مخصوص سیٹوں  پر حتمی فیصلہ نہیں ہؤا، اس لیے   اسمبلیاں نامکمل اور متنازعہ ہیں۔  لہذا  صدارتی  انتخاب مؤخر کیا  جائے۔ الیکشن کمیشن نے اس درخواست کو مسترد کردیا۔  تحریک انصاف نے اس کے باوجود صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ  پارٹی کی سیاسی قوت کے مطابق اپنے  امیدوار کو ووٹ ڈالے گئے جس کا سب سے مؤثر مظاہر ہ خیبر پختون خوا میں دیکھنے میں آیا۔ 

اتحادی جماعتوں کے امیدوار آصف علی زرداری کی کامیابی  یقینی دکھائی دے رہی تھی۔ البتہ تحریک انصاف نے ان کے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑا کرکے اور اس  کے حق میں ووٹ ڈال کر جمہوری انتخابی عمل میں اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کیا  ۔ لیکن جوں ہی زرداری کی کامیابی کا اعلان ہؤا ، تحریک انصاف نے اسے مسترد کرنے میں دیر نہیں کی اور اس انتخاب کو جعلی اور ناقص قرار دیا۔ پی  ٹی آ ئی رہنماؤں نے کہا کہ’ شہباز شریف جعلی مینڈیٹ پر وزیراعظم بنے۔  آج زرداری  بھی جعلی ووٹوں سے صدر بنے ہیں۔ کر پٹ عنا صر کا  با دشاہ آصف زرداری ملک پر مسلط کیا جا رہا ہے‘۔ تحریک انصاف  نے صدارتی الیکشن کو متنازع قرار دیتے ہوئے  کہا کہ ’عوام کے مسترد  لوگوں کو جعلی طریقے سے عہدے دیے جارہے ہیں‘۔ تحریک انصاف کا یہ متضاد رویہ ہی دراصل اس وقت ملک میں سیاسی تنازعہ  کی بنیاد بنا ہؤا ہے۔ اگر  پی ٹی آئی اسملبیوں کو جعلی، انتخابات کو ڈھونگ اورمنتخب ہونے والے لوگوں کو غیر نمائیندہ  سمجھتی ہے تو وہ خود کیوں کر اس سارے عمل میں شامل ہوئی؟ اس کے ارکان نے حلف اٹھائے، وزارت   عظمی کے علاوہ اب صدارتی انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا کیا  اور خیبر پختون خوا میں حکومت قائم کی۔ لیکن ناکامی کے بعد ہار تسلیم کرنے سے انکار کیا جارہا ہے۔ کسی پارٹی کی کامیابی کا فیصلہ پولنگ کے نتائج  کی بنیاد پر ہی ہوسکتا ہے ۔کسی ایک گروہ کے اصرار پر کہ اسے ہی کامیابی ملی ہے ، باقی سب  جعلی نمائیندے ہیں، کسی انتخاب کے نتائج تبدیل نہیں ہوسکتے۔

انتخابی عمل میں جن نقائص یا کمزوریوں کی نشاندہی کی جارہی ہے، اس پر ملک کی عدالتیں  حتمی رائے دینے کی مجاز ہیں۔ تحریک انصاف سمیت سب سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں کو اس آئینی طریقے کا احترام کرنا چاہئے اور عدالتی فیصلوں کا انتظار کیا جائے۔ اگر سامنے لائے گئے شواہد  اور پیش کیے گئے دلائل کی روشنی میں عدالتیں تحریک انصاف کا حق حکمرانی تسلیم کرکے اسمبلیوں کی ساخت تبدیل کردیتی ہیں تو کسی کو اس پر اعتراض بھی نہیں ہونا چاہئے۔ اس وقت تک البتہ تحریک انصاف  کو اس نظام کے ساتھ مل کر چلنا چاہئے جس  کا وہ حصہ بھی بنی ہوئی ہے لیکن بدستور اسے مسترد کرکے عوام میں  خود کو نام نہاد  انقلابی پارٹی ثابت کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔  یہ طریقہ ملک کے  مستقبل  کے لئے خوش آئیند نہیں ہے ۔ کیوں کہ کوئی بھی پارٹی حکومت میں آئے ، اسے موجودہ مسائل حل کرنے کے لیے تقریباً ایک سے فیصلے کرنے پڑیں گے یعنی آئی ایم  ایف کے پاس جانا پڑے گا، مشکل معاشی فیصلے  اور غیر مقبول  مالی  اقدامات  کرنے پڑیں گے۔  اسی وجہ سے پیپلز پارٹی حکومت کی تائید و حمایت کرنے  کے باوجود  کابینہ میں شامل ہونے سے گریز کررہی ہے تاکہ مشکل فیصلوں کا سیاسی بوجھ صرف مسلم لیگ (ن)  کے حصے میں آئے۔

اب آصف زرداری صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ان کے گھر جاکر انہیں مبارک باد پیش کی ہے۔ بظاہر دونوں پارٹیوں میں مل جل کر کام کرنے  کا جذبہ دکھائی دیتا ہے لیکن معاشی اصلاح کے لیے حکومت کو بعض ایسے اقدامات کرنا پڑیں گے جن سے پیپلزپارٹی کے ساتھ تنازعہ پیدا ہونے کا امکان موجود ہے۔ بدقسمتی حکومت سازی سے پہلے پاکستانی سیاسی پارٹیاں پالیسی معاملات پر صلاح مشورہ کے ذریعے کسی متفقہ لائحہ عمل پر اتفاق نہیں کرتیں۔  اس لیے  آنے والے دنوں میں بعض اہم شعبوں میں یہ مسائل سامنے آئیں گے اور اگر حکومتی  اتحاد میں شامل پارٹیوں نے  گروہی مفادات سے بلند ہوکر خالصتاً قومی مفاد میں فیصلے کرنے سے گریز کیا تو  شہباز شریف کی حکومت ایک کے بعد دوسرے بحران کا سامنا کرے گی۔ اس حکو مت کو گرانے کی کوشش ہوئی تو مسلم لیگ (ن) اپنی عددی نمائیندگی کی بنیاد پر کسی بھی نئی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے گی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں کہا ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قومی آمدنی میں سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو حصہ دینے کے بعد  کوئی وسائل نہیں بچتے ، لہذا وفاقی حکومت کے سارے مصارف  قرض سے پورے  ہوتے ہیں۔ اس بیان کا مقصد یہی ہے کہ حکومت این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کی حصہ داری کے حوالے سے  اصول تبدیل کرنے پر زور دے گی۔ لیکن سندھ  سے پیپلزپارٹی اور خیبر پختون خوا سے تحریک انصاف ا س کی مزاحمت کریں گی۔   اس مرحلہ پر آصف زرداری اور شہباز شریف کی ذہانت  اور سیاسی مہارت کا امتحان ہوگا کہ وہ اس  مشکل مرحلے سے کسی تنازعہ کے بغیر کیسے نکلتے ہیں۔ مسلم  لیگ (ن) نے حکومت سازی سے قبل ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے ، اس کے تحت این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کرکے صوبوں کے  وسائل کا کچھ حصہ براہ راست مقامی حکومتی اداروں کو دیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی اس طریقے کی بھی مخالفت کرے گی۔

آصف زرداری اور شہباز شریف کا دوسرا بڑا امتحان پی آئی  اے اور اسٹیل مل کی نجکاری کے حوالے سے بھی ہوگا۔ پیپلز پارٹی ان دونوں بڑے اداروں کو نجی شعبہ کے حوالے نہیں کرنا چاہتی لیکن  ان اداروں میں ہونے والا نقصان اب قومی معیشت کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے۔ آئی ایم ایف بھی شاید  نئی حکومت  کی طرف سے ان اداروں کی نجکاری کے واضح اقدامات  کے بغیر کوئی نیا مالی پروگرام شروع کرنے میں دلچسپی نہ لے۔

اس مشکل صورت حال میں البتہ امید یہ کرن دکھائی دیتی ہے کہ شہباز شریف کی طرح آصف زرداری  بھی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلنے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ دونوں کو فوجی قیادت کی حمایت  حاصل ہوگی ۔ یوں منتخب حکومت اور ملکی اسٹبلشمنٹ کے درمیان شاید کوئی بڑا تنازعہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن معاشی معاملات درست کرنے کے لیے  نئی حکومت اور نئے صدر  اگر کسی منصوبہ پر متفق نہ ہوسکے اور دیگر سیاسی پارٹیوں کو بھی اس میں  شامل کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو  معاشی ہی نہیں،  سیاسی طور سے  بھی پاکستان طوفانوں کی زد پر رہے  گا۔