19 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھالیا

  • سوموار 11 / مارچ / 2024

انیس رکنی وفاقی کابینہ نے ایوان صدر میں حلف اٹھا لیا ہے۔ ایوان صدر میں صدر آصف زرداری نے نئی کابینہ سے حلف لیا۔

 تقریب کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیا گیا۔ بعد ازاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے 19 رکنی وفاقی کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دیگر رکن اسمبلی نے بھی شرکت کی۔ کابینہ میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا تنویر ، اعظم نذیر تارڑ، جام کمال، اویس لغاری، عطااللہ تارڑ ، شزہ فاطمہ، قیصر شیخ، ریاض پیرزادہ، محمد اورنگزیب، خالد مقبول صدیقی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے امیر مقام، احدچیمہ، احسن اقبال، اسحٰق ڈار بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے چوہدری سالک، متحدہ قومی موومنٹ کے خالد مقبول صدیقی اور محسن نقوی نے بھی وفاقی کابینہ کا حلف اٹھایا ہے۔ بعد ازاں کابینہ ڈویژن نے وفاقی وزرا کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

13 ارکان قومی اسمبلی اور 2 سینیٹرز کو وفاقی کابینہ کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ 3 غیر منتخب افراد کو بھی وفاقی کابینہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ غیر منتخب ارکان میں محمد اورنگزیب، محسن نقوی اور احد چیمہ شامل ہیں، یعنی ان ارکان کو کابینہ کا حصہ رہنے کے لیے اگلے چھ ماہ میں قومی اسمبلی یا سینیٹ کا رکن منتخب ہونا لازمی ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے آج ہی وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عہدے کا حلف لینے کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی جہاں انہوں نے کہا کہ اب باتیں نہیں، کام اور عمل درآمد کرنا ہے۔

آئی ایم ایف کے نئے پروگرام میں جانا ناگزیر ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام مکمل کریں گے اور نئے پروگرام کے لیے فوری بات چیت کا آغاز بھی کریں گے۔ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ نجکاری کے حوالے سے وزیراعظم کا مؤقف واضح ہے، نجکاری پروگرام پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ آنے والے دنوں میں معاشی ٹیم میں مزید لوگ بھی شامل ہوں گے۔

بعد ازاں ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی کا مسئلہ پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے۔

وفاقی وزیر عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے سنجیدہ اور چند افراد پر مشتمل کابینہ تشکیل دی ہے۔ وزیر اعظم کچھ دیر بعد کابینہ ارکان سے خطاب کریں گے، وزیراعظم کابینہ ارکان کومستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے۔