آئی ایم ایف سے آخری قسط کیلئے تمام اہداف پورے کرلیے ہیں: وزارت خزانہ

  • بدھ 13 / مارچ / 2024

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ سے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت آخری قسط کے لیے تمام اہداف مکمل کر لیے ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جائزہ مذاکرات کل سے اسلام آباد شروع ہوں گے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دوسرے جائزہ مذاکرات 18 مارچ تک جاری رہیں گے، جس کے لیے پاکستان نے تمام اہداف مکمل کر لیے ہیں۔ قلیل مدتی قرض پروگرام کے تحت یہ آخری جائزہ ہوگا اور جائزے کے بعد اسٹاف سطح معاہدے کی توقع ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق مذاکراتی کی کامیابی پر پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی آخری قسط ملے گی۔ قسط کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے لی جائے گی۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کا وفد آج رات پہنچے گا جبکہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ایک طویل مدتی اور بڑے اقتصادی بیل آؤٹ پیکج کے حصول پر بات چیت کرنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔ جس کا ہدف نئے میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنا ہوگا۔

گزشتہ روز نئے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا کے ساتھ اپنی پہلی باضابطہ گفتگو میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم 3 ارب ڈالر کے جاری اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے دوسرے جائزے کے لیے رواں ہفتے اسلام آباد آئے گی۔ ہم ان کے ساتھ ایک اور توسیع طویل المدت شدہ فنڈ کی سہولت  پر بات چیت شروع کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اس پروگرام پر مزید بات چیت واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اپریل میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر آگے بڑھائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جلد ہی ہول سیل کاروبار، رئیل اسٹیٹ اور زراعت سے ریونیو وصول کرنے کی جانب بڑھے گی۔ وزیر خزانہ نے اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں ممکنہ کمی کا اشارہ بھی دیا۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی خود مختاری کے حوالے سے متنبہ بھی کیا۔

محمد اورنگزیب نے ٹیکس کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کو تیزی سے لاگو کرنے کا وعدہ کیا، جس کا مقصد شفافیت کو بڑھانا اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی جلد نجکاری کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ زراعت صوبائی حکومت کا ڈومین ہے۔ وفاقی حکومت ہول سیل کاروبار میں مؤثر ٹیکس لگانے کا آغاز کرے گی اور ٹیکس شراکت اور جی ڈی پی شیئر کے درمیان عدم مطابقت کو دور کرے گی۔ پاکستان کے لیے حالیہ میکرو اکنامک استحکام کو مستقل برقرار رکھنا بہت ضروری ہے جس کے لیے ایک بڑے اور طویل مدتی پروگرام کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے آئندہ بجٹ پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا ہے کہ سال 2023 کا اختتام اس سے ایک سال پہلے کی نسبت بہت بہتر انداز میں ہوا، خاص طور پر اس کی وجہ میکرو اکنامک استحکام ہے جو ممکنہ طور پر بتدریج بلند شرح نمو کی طرف لے جائے گا۔ بصورت دیگر زرمبادلہ کا بحران پیدا کیے بغیر شرح نمو میں اضافے کے لیے کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ تقریباً تمام اصلاحاتی اقدامات اور اسٹرکچرل بینچ مارکس ہمارے سامنے ہیں۔ ہر کوئی ان کے بارے میں جانتا ہے اور یہ آئی ایم ایف کے حالیہ تمام پروگراموں کا حصہ رہے ہیں جن پر اسد عمر سے لے کر حفیظ شیخ، شوکت ترین، مفتاح اسمعٰیل اور اسحٰق ڈار تک تمام وزرائے خزانہ نے دستخط کیے۔

انہوں نے کہا کہ اب ملک کو تمام شعبوں میں اقتصادی اصلاحات پر عملدرآمد اور نفاذ کا مرحلہ طے کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کے پہلے اجلاس میں بھی واضح کیا کہ بہت بات چیت اور بحث ہو چکی ہے اور اب مزید کسی ’ڈیبیٹنگ کلب‘ کی ضرورت نہیں ہے۔ بہت ساری تجزیاتی رپورٹس دستیاب ہیں، جن میں ورلڈ بینک کی رپورٹ بھی شامل ہے، جس میں 2047 تک 300 ارب ڈالر سے زیادہ کی معیشت کو 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کی بات کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ شفافیت اور بہتر سروس کے لیے ڈیجیٹل توسیع کے ذریعے ایف بی آر اصلاحات کا آغاز کرتے ہوئے ہمیں اب مختلف شکلوں میں ’لیکیجز‘ کو روکنے کی ضرورت ہے۔

حکومت اب سرکاری اداروں کی نجکاری کے ایجنڈے پر بہت بڑے پیمانے پر عمل پیرا ہونے کا آغاز کرے گی، جس کا آغاز فوری طور پر پی آئی اے سے ہوگا۔ اس حوالے سے وزیر نجکاری علیم خان کو وزارت خزانہ کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔ نئی حکومت صرف پالیسی فریم ورک فراہم کرے گی اور نجی شعبے کو پبلک پرائیویٹ ماڈل سمیت کاروبار کا رخ طے کرنے دے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی ایک اہم مسئلہ ہے جس سے میکرو اکنامک استحکام کے ذریعے مرحلہ وار نمٹا جا سکتا ہے۔ اسٹیٹ بنک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آزاد ہے لیکن توقع ہے کہ پالیسی ریٹ مقررہ وقت پر نیچے آجائے گا کیونکہ یہ کاروبار کے لیے بھی بہت اہم ہے۔