محسن نقوی کتنا آگے اور اسحاق ڈار کتنا نیچے جائیں گے؟

وزیر خزانہ اورنگ زیب خان نے ملکی معیشت کی اصلاح کا اعلان کرتے ہوئے  بعض دلچسپ باتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی یہی کہا ہے  کہ باتیں بہت ہوچکیں اب کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اب  معیشت پر کسی ڈبیٹنگ کلب کی ضرورت نہیں ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ نقص کیا ہے اور اسے کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔

البتہ ملین ڈالر سوال یہی ہے کہ یہ   کام کیسے کیا جائے۔ کیا  بیانات داغنے اور اعلانات کرنے سے یک بیک ملکی پیداوار میں اضافہ، مہنگائی میں کمی اور  حکومتی آمدنی  بڑھنے لگے گی؟   مسئلہ پیداوار میں کمی اور سرکاری ریوینیو میں زبوں حالی کا ہے۔ برآمدات  معیشت و آبادی  کے حجم کے تناظر میں نہ ہونے کے برابر  ہیں اور  ملکی صنعت   کے لیے  خام مال درآمد  کرنے کے وسائل موجود نہیں ہیں۔ وزیر خزانہ  نے  یہ  صورت حال تبدیل  کرنےکے لیے تین تجاویز پیش کی ہیں:

ایک: موجودہ معاشی ڈھانچے کو کام کرنے دیا جائے ۔ اس استحکام سے اصلاحات کا راستہ ہموار ہوگا اور قومی پیداوار میں اضافے اور مہنگائی میں کمی کے اہداف حاصل کیے جاسکیں گے۔

 دوئم :  فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کا پورا نظام ڈیجیٹل کیاجائے  جس سے شفافیت پیدا ہوگی اور  ٹیکس بیس میں اضافہ کیا جاسکے گا۔ وزیر خزانہ کے خیال میں ٹیکس وصولی کا ایسا نظام ضروری ہے  جس میں ’لیکیج‘ نہ ہوں۔ یہ اصطلاح  غیر واضح ہے لیکن اسے ملک میں ٹیکس وصول کرنے کے نظام میں پائے جانے والی  ’کرپشن‘ بھی سمجھا جاسکتا ہے ۔   یعنی جو آمدنی سرکاری خزانے میں جانی چاہئے وہ نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے یا تو وصول نہیں  ہوپاتی یا سرکاری عمال کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔  اس نقص کو دور کرنے کے  لیے نئے  وزیر خزانہ پورا نظام ڈیجیٹل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں  جس میں کسی اہلکار کا عمل دخل نہیں ہوگا اور پورا نظام مشینوں کے  ذریعے کام کرے گا۔  اورنگ زیب خان کو  بنکاری کا تجربہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ پاکستان کے ناقص  و بوسیدہ بیورکریٹک نظام میں ایسا انقلابی اقدام نافذ کرسکیں گے اور کیا حکومت اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کی سکت رکھتی ہے؟

سوئم:   آمدنی میں اضافہ کے لیے حکومت جلد ہی ہول سیل کاروبار، رئیل اسٹیٹ اور زراعت سے ریونیو وصول کرنے کی جانب بڑھے گی۔ البتہ وزیر خزانہ  نے اس کے ساتھ ہی اعتراف  بھی کیا کہ زراعت صوبائی  حکومتوں کا دائرہ کار ہے لیکن وفاقی حکومت ہول سیل کاروبار پر ٹیکس لگانے اور پی آئی اے جیسے بڑے قومی ادارے نجی ملکیت میں دینے کے منصوبے پر عمل کرنا چاہتی ہے۔

 پی آئی اے اور اسٹیل مل  جیسے ادارے فروخت کرنے کے سوال پر کئی  سال سے سیاست ہورہی ہے لیکن ہر حکومت وعدے کرنے اور رپورٹیں تیار کروانے سے کام چلاتی رہی ہے۔ تاہم معاشی اعتبار  سے اب حالات ناقابل قبول ہوچکے ہیں۔  اس لیے   حکومت کو شاید  پی آئی  کی نجکاری میں عجلت دکھانا پڑے۔   نئی حکومت کا مکمل  انحصار  آئی ایم ایف سے ہونے والے مالی معاہدوں پر ہے۔ اسلام آباد پہنچنے والی آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کو دیے گئے   3ا رب ڈالر کے عبوری  پروگرام کی آخری قسط کی ادائیگی کے  لیے مذاکرات  کرے گی۔ حکومت امید کررہی ہے کہ اس حوالے سے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کی گئی ہیں لہذا ایک ارب ڈالر سے کچھ زائد کی آخری قسط ملنے میں دشواری نہیں ہونی چاہئے۔ البتہ  وزیر خزانہ اورنگ زیب کا ہدف  آئی ایم ایف سے ایک بڑا اور طویل المدت پروگرام پر اتفاق کرنا ہے۔ اس کا حجم 6 سے 8 ارب ڈالر بتایا جارہا ہے۔ اورنگ زیب خان نے  کہا ہے کہ  پاکستان حالیہ مذاکرات میں ہی اس حوالے سے آئی ایم ایف سے بات چیت شروع کردے گا۔ اور  انہی خطوط پر اپریل کے دوران میں واشگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے اجلاسوں میں   بات چیت کو  آگے بڑھایا جائے  گا۔

یہ سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ آئی ایم ایف سے کوئی نیا  بڑا مالی پیکیج  حاصل کرنے کے لیے شہباز شریف کی حکومت کو فوری مالی ڈسپلن کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی بھی بڑا مالی معاہدہ  ملک میں سیاسی استحکام سے مشروط ہوگا۔   قومی منظر نامہ فی الوقت اس حوالے سے  خوشگوار منظر پیش نہیں کرتا۔ تحریک انصاف انتخابی نتائج ماننے پر آمادہ نہیں ہے اور موجودہ حکومت کو مینڈیٹ چور حکومت قرار دے کر   عوامی تحریک چلانے کا اعلان کیا جارہا ہے۔   تحریک انصاف نے اتوار کو احتجاج کا عزم کیا تھا تاہم پنجاب حکومت کے شدید اور سخت رد عمل کی وجہ سے یہ  مظاہرے  دیکھنے میں نہیں آئے۔   البتہ گرفتاریوں کے جلو میں پریس کانفرنسوں اور زور دار بیانات سے  ’عوام  کی شدید ناراضی‘ کا تاثر قائم کرنے کی ضرور کوشش کی گئی تھی۔ عمران خان نے آج اڈیالہ جیل میں  القادر ریفرنس  میں سماعت کے  موقع پر  میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے دھاندلی کا الزام دہرایا اور دعویٰ کیا کہ ملک میں سری لنکا کے حالات پیدا ہونے والے ہیں پھر عوام کا ہجوم سڑکوں پر نکل آئے گا اور  انقلاب برپا ہوگا۔ عمران خان یہی انقلاب برپا کرنے کی امید پر جیل سے  اپنے ساتھیوں کو مسلسل اشتعال دلاتے رہتے ہیں ۔  یہ طرز عمل  حکومت کے لیے مسلسل چیلنج بنا رہے گا۔ اسی لیے معاشی اصلاح کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے بارے میں خدشات موجود ہیں۔

اس حوالے سے  البتہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ امین گنڈا پور کی وزیر اعظم  شہباز شریف سے ملاقات ایک مثبت اشارہ ہے۔  امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم سے خیبر پختون خوا کے  واجب الادا وسائل مانگنے کے علاوہ انہیں عمران خان سے سیاسی رابطہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کیوں کہ سیاسی رابطوں سے ہی سیاسی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔  وزیر اعظم نے خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امین گنڈا پور کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات میں سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔   جیل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے ’ڈیل‘ کی باتوں کو غلط قرار  دیا تھا اور کہا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ لیکن ایسے اشاروں کو عام طور سے اسٹبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان رابطوں یا مفاہمت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

البتہ اگر عمران خان کسی سطح پر شہباز حکومت کے ساتھ  سیاسی مواصلت  پر آمادہ ہوں تو یہ ملکی سیاست    ایک مثبت  پیش رفت ہوگی۔  امین گنڈا پور کو عمران خان کا اعتماد حاصل ہے۔ اگر وہ وزیر اعظم سے عمران خان کے ساتھ  رابطہ کرنے کی سفارش کررہے ہیں تو اسے عمران خان کی تائید حاصل ہونی چاہئے۔   البتہ  آنے والے وقت میں ہی صورت حال واضح ہوسکے گی۔  خیبر پختون خوا کا انتظام چلانے اور وہاں عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے امین گنڈا پور کو وفاقی حکومت کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ آج شہباز شریف کے ساتھ ان کی ملاقات اسی مجبوری کی وجہ سے دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم دیکھنا ہوگا کہ کیا عمران خان بھی خیبر پختون خوا  کی بہتری کے لیے قومی سطح پر  احتجاجی بیانیہ میں وقفے پر آمادہ ہوں گے۔

وزیر خزانہ اورنگ زیب  خان  نے معاشی بحالی کے لیے جو نقشہ پیش کیا ہے ، ا س کی کامیابی کے لیے اپوزیشن  کے تحمل کے علاوہ بین الصوبائی تعاون  بے حد اہم ہوگا۔ پیپلز پارٹی گو کہ موجودہ حکومت کی حمایت کرتی ہے لیکن اس نے اس کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے۔  خیال کیا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی پی آئی اے جیسے قومی اداروں کی نجکاری اور آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ نئے پروگرام کے نتیجے میں عوام پر پڑنے والے بوجھ  میں شراکت دار نہیں بننا چاہتی۔ اس لیے یہ دونوں کام مکمل ہونے کے بعد پیپلز پارٹی شاید حکومت کا حصہ بن جائے۔  اس دوران میں  ’مینڈیٹ چوری  تحریک‘  کوئی نیا  رخ اختیار کرتی ہے یا    شدید قومی مشکلات کے باوجود تحریک انصاف عوام کو سڑکوں پر نکلنے پر  آمادہ کرلیتی ہے تو شہباز حکومت کا مستقبل  مسلسل  مشکوک رہے  گا۔ یہی بے یقینی ملک میں معاشی بحالی کے منصوبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس سے نمٹنے کا کام بظاہر  وفاق میں شہباز شریف اور پنجاب میں مریم نواز کو سونپا گیا ہے یا انہوں نے خود آگے بڑھ کر اس چیلنج کو قبول کیا ہے۔

شہبازشریف  پرجوش اور مصروف  دکھائی دیتے ہیں لیکن اس سوال کا جواب کسی  کے پاس نہیں ہے کہ   انتخابات میں دھاندلی  کے شور میں وہ  کس حد تک  اپنی پوزیشن اور ملکی معیشت مستحکم کرسکیں گے۔ دوسری طرف اسٹبلشمنٹ کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کا معاملہ بھی مسلسل چہ میگوئیوں کا سبب  بنا ہؤا ہے۔  پنجاب کے  سابق نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی وزیر داخلہ کے طور پر تقرری  نے وفاقی حکومت پر اسٹبلشمنٹ کی گرفت کے حوالے سے   قیاس آرائیوں میں اضافہ کیا  ہے۔  متعدد تجزیہ نگار مختصر مدت  میں  محسن  نقوی   کی سیاسی  ترقی سے نت نئے اندازے قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ وہ پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔  اس کے  بعد انہیں خود بھی نئی حکومت  میں کوئی عہدہ قبول نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ محسن نقوی کی رفتار سے اندازہ ہوتا ہے ہے کہ وہ بہت آگے جائیں گے۔ کتنا آگے؟ اس کا اندازہ تو  شاید کمند پھینکنے والے کو بھی نہیں ہوتا۔ لیکن کھوجنے والوں کے لیے انجانی منزلوں کا جہان آباد رہتا ہے۔  دوسری طرف   نواز شریف کے معتمد اسحاق ڈار اگرچہ وزیر خارجہ بنائے گئے ہیں لیکن  نہ تو انہیں سفارت کاری کا تجربہ ہے اور پھر ان کی  معاونت  یا ’نگرانی‘ کے لیے سابق نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کو معاون خصوصی بنایا جارہا ہے۔  دیکھنا ہوگا کہ   یکے بعد دیگرے کئی حکومتوں میں  وزیر اعظم کے معتمد اور نائب کے طور پر  متمکن رہنے کے بعد سیاسی زندگی کے آخر میں اسحاق ڈار  زوال  کی مزید کتنی منزلیں طے  کرتے ہیں۔

ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے دعوؤں اور امیدوں کے  دوران میں صدر مملکت آصف زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر  داخلہ محسن نقوی نے  خزانے پر بوجھ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ  تینوں نے  اپنے عہدوں کی تنخواہ نہیں  لیں گے۔  دوسری طرف وزیر خزانہ اورنگ زیب نے حبیب بنک کے سربراہ کے طور پر پرکشش پوزیشن اور نیدرلینڈ کی شہریت ’قوم  کی خدمت‘ کے لئے قربان کردی ہے۔  سوچنا چاہئے کہ جس ملک میں ایسے  جاں نثار لیڈر موجود ہوں، اس کے سر پر زوال  کیوں سایہ  فگن رہتا ہے۔