پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں کے لیے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج کردی

  • جمعرات 14 / مارچ / 2024

پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے دائر درخواست پر سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے کی۔ جس میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل ہیں۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن سے پہلے پاکستان تحریکِ انصاف سے بلے کا نشان لیا گیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر بلا واپس کردیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ نے دوبارہ الیکشن کمیشن کےحق میں فیصلہ دے کر بلا واپس لیا۔ سنی اتحاد کونسل رجسٹرڈ پارٹی ہے اور اس کا انتخابی نشان بھی ہے۔ الیکشن میں حصہ نہ لینا اتنی بڑی بات نہیں۔ بعض اوقات سیاسی جماعتیں انتخابات کا بائیکاٹ کر سکتی ہیں۔

اس موقع پر بینچ میں شامل جسٹس شکیل نے سوال کیا کہ ’یہ بتائیں اگر انتخابات میں حصہ نہیں لیتے پھر کیا ہو گا؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ میں پہلے اس پر بات کر رہا ہوں کہ میں سیاسی جماعت ہوں تو میرے بنیادی آئینی حقوق کیا ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک جماعت الیکشن نہ لڑے تو بھی سیاسی جماعت ہوتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کوئی پارٹی الیکشن لڑے۔ آرٹیکل 17 کے سب آرٹیکل 2 میں ہمارے حقوق موجود ہیں۔ آرٹیکل 17 کہتا ہے کہ ہر شہری کا حق ہے کہ کسی پارٹی کا حصہ بنے یا اپنی پارٹی بنائے۔

علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں سے دور رکھا گیا۔ الیکشن کمیشن پارلیمانی پارٹی اور پولیٹیکل پارٹی میں فرق کرنے میں کنفیوژ ہے۔ جسٹس ایس ایم عتیق نے سوال کیا کہ آزاد امیدوار اسمبلی میں اکٹھے ہو جائیں تو کیا ان کو مخصوص نشستیں ملیں گی؟ یا آزاد امیدواروں کو پارٹی جوائن کرنی ہو گی؟ عدالتی استفسار پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آزاد امیدوار کسی پارٹی کو جوائن کریں گے تو نشستیں ملیں گی۔

عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستیں تب ملتی ہیں جب سیاسی جماعتوں نے نشستیں جیتی ہوں۔ سنی اتحاد کونسل نے کوئی سیٹ جیتی ہی نہیں، آپ نے سیٹ نہیں جیتی تو آزاد امیدوار بھی آپ کو جوائن نہیں کر سکتے۔ جسٹس ایس ایم عتیق نے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے خود اس پارٹی سے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں الاٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد یہ نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو الاٹ کر دی گئی تھیں۔