سویلین اتھارٹی اتنی کمزور کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 14 / مارچ / 2024
جبر و آمریت اور اسٹیبلشمنٹ کی پرزور مخالفت اس درویش کے رگ و ریشے یا ہڈیوں تک پہنچی ہوئی ہے۔ اس اپروچ کے زیر اثر اس کی کتاب “جمہوریت یا آمریت؟” تخلیق ہوئی اس پس منظر میں محترم ڈاکٹر جاوید اقبال سے کئی مواقع پر بحث بھی ہو جاتی۔
جن کا فرمانا ہوتا کہ دیکھیں اصولی اور نظریاتی سچائیاں اپنی جگہ مگر کچھ تلخ زمینی حقائق ایسے شدید ہوتے ہیں جن سے آنکھیں بند کی جا سکتی ہیں۔ اور نہ ہی ان سے ٹکرا کر ٓآگے بڑھا جا سکتا ہے۔ ہم مانیں یا نہ مانیں چاہے جتنی بھی کراہت کریں اس ملک کی تخلیق کے ساتھ ہی جس نوع کا ہائبرڈ سسٹم تشکیل پایا اس کی وجوہ پر بحث ہو سکتی ہے لیکن اس کے وجود سے انکار کر کے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اگر آپ یہ چاہیں کہ اسے بائی پاس کرکے گزر جائیں گے یا اسے پاش پاش کرکے عوامی اقتداراعلی منوا لیں گے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ جب تک جمہوریت کے حوالے سے عوامی کمٹمنٹ بنیان مرصوص کی طرح قطعی مضبوط نہیں ہو پاتی۔ آپ کو بیچ کی کوئی راہ نکالنی پڑے گی۔
یہ درویش محترم ڈاکٹر جاوید اقبال سے خوب الجھتا مگرآج وقت نے ان کی فکری پختگی اس ناچیز پر نہ صرف یہ کہ واضح کر دی ہے بلکہ وہ اس اصولی ہدایت پر ایمان لے آیاہے کہ پریکٹس کے بغیر تھیوری محض دماغی خلل ہے۔ مثال کے طور پر درویش کی ہمالہ جیسی بلند آرزو ہے کہ پاک ہند تعلقات یا دوستی محض تاریخی تہذیبی یا سفارتی سطح سے کہیں آگے بڑھ کر تجارتی یا موسٹ فیورٹ نیشن جیسی، ایک جان دو قالب کی طرح ہو لیکن کیا یہ سب ہمارے طاقتوروں کی رضا یا خوشنودی کے بغیر ممکن ہے؟ ہرگز نہیں، اس سلسلے میں چاہے ہم اس خطے کے کروڑوں باسیوں کی غربت بے بسی یا دکھوں کو لے آئیں، چاہے آئینی دستاویز اٹھا لائیں کہ یہ اتھارٹی تو بہر صورت منتخب قیادت کی ہے۔ چاہے میثاق مدینہ کے مذہبی حوالہ جات پیش کریں کہ اگر یہود کی ہم وطنی متحدہ قومیت کی بنیاد بن سکتی ہے تو اس خطہ ہند میں ہندو کے ساتھ کیوں قربت گوارا نہیں۔ سچائی یہی ہے کہ ہم اپنے طاقتوروں کو نہ تو بائی پاس کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی ہم ان سے ٹکرا کر چند قدم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ مرتا کیا نہ کرتا، ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات لہذا سیدھے سبھاؤ ان سے بات کرو ، دلائل کے ساتھ ان کی ذہنی کایا پلٹ کرو۔ پھر کسی بھلائی کی امید رکھو۔
ہر دو ممالک سے عوام کا جو بھی نمائندہ قومی قیادت کے لیے منتخب ہو، خطے کےعوام اس سے بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ جنوبی ایشیا میں بھڑکائی گئی منافرتوں کی آگ کو ٹھنڈا کرتے ہوئے دشمنی کو دوستی میں بدلے یا بدلنے کی کاوش کرے۔ شرارت کی جڑ یا بون آف کنٹینش کو غیر معینہ یا طویل مدت کے لیے سرد خانے میں ڈال کر ترقی و خوشحالی کے نئے دریچے کھولے۔ لیکن نہیں صاحب آپ کی جو بھی تمنائیں ہیں کروڑوں انسانوں کی جو بھی حسرتیں ہیں، وہ سب ایک تنازع کی یرغمالی بن کر رہ جائیں گی۔ ن لیگ نے الیکشن سے قبل پاک ہند اچھے تجارتی اور برادرانہ تعلقات یا دوستی کا منشور تو جاری کر دیا اور یہ کہا کہ اسی سے خطے میں خوشحالی آ سکتی ہے لیکن افسوس کہ بڑوں نے اپنی طاقت کا لوہا منواتے ہوئے ہمالہ پہاڑ جیسی بڑی رکاوٹ بھی اس صراط مستقیم یا شاہراہ عظیم پر ڈال دی۔ ایسی کنڈیشن اس میں ڈال دی جس کا پورے ہونا ناممکن ہے۔ یوں لگا کہ ساری لفاظی محض ثواب دارین کیلیے تھی۔ نہ ہوگا، نو من تیل نہ رادہا ناچے گی۔ یا یہ کہ نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری۔ اس بند گلی سے
نکلنے کی ایک ہی ترکیب ہے کہ طاقتوروں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھا جائے۔ جس طرح ہم نے اپنی ہمسائیگی میں منافرتوں کے طوفان اٹھا کر دیکھ لیا نتیجہ سوائے ہماری قومی بربادی کے کچھ نہیں نکلا، ہماری معاشی زبوں حالی ہی نہیں ہوئی، شدت پسندی و جنونیت یہاں چھا گئی۔ ہماری عالمی ساکھ دو ٹکے کی ہو کر رہ گئی۔ اسی طرح ہماری سیاسی قیادت نے جب بھی عسکری قیادت سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنائی اس کا نتیجہ سوائے سویلین اتھارٹی کی کمزوری اور آمریت کی مضبوطی کے اور کچھ نہیں نکلا۔ آج ہمارے کچھ سیاسی اناڑی جس طرح بظاہر سویلین اتھارٹی کا راگ الاپ رہے ہیں اور طاقتوروں کے خلاف منافرت پھیلاتے ہوئے جس نوع کی کنفرنٹیشن یا محاذ آرائی کی راہ پر گامزن ہیں، اس کی آؤٹ پٹ کیا برآمد ہو رہی ہے؟ وہ شخص جو طاقتوروں کے سامنے کھڑے ہونے یا استدلال سے اپنا موقف منوانے کا یارا رکھتا تھا اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔ طاقتوروں کو اپنی مرضی کا مادھو سوغات بن کر مل گیا جو کسر رہ گئی تھی وہ نئی کابینہ میں غیر منتخب افراد کی شمولیت سے سب کے سامنے ہے۔
آگے چل کر آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات اور ماورائی ہدایات کے ساتھ اس نوع کے مزید کرشمے بھی سامنے آنے والے ہیں۔ اگر آپ اپنے ساتھی سیاستدانوں کو چور چور کہتے ہوئے ان کے ساتھ اچھوتوں جیسا برتاؤ کرو گے تو آئندہ بھی ایسے ہی نتائج کے لیے تیار رہیں جو آج آپ لوگ بھگت رہے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ آپ سب لوگ باہمی احترام و وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نہ صرف یہ کہ گفت و شنید کی راہ اپنائیں بلکہ داخلی و خارجی پالیسیوں میں خالص قومی مفاد کا تعین میرٹ پر استدلال سے کریں، جس طرح ہمیں اس منفی ذہنیت کو بدلنا ہے کہ ہمارا ہمسایہ ہمارا دشمن ہے۔ اسی طرح ہمارے طاقتور بھی غیر نہیں ہمارے اپنے ہیں، بشرطیہ کہ آزادی اظہار کی فضا میں اپنی بات منطقی استدلال اور وسیع تر انسانی مفاد میں منوائی جاسکے