الیکشن 2024 اور راک ہڈسن
- تحریر حماد غزنوی
- جمعرات 14 / مارچ / 2024
پچاس کی دہائی میں ہالی ووڈ کے ایک نام ور اداکار ہوا کرتے تھے راک ہڈسن، انتہائی ہینڈسم اور خواتین میں بے حد مقبول۔ مسئلہ فقط یہ تھا کہ وہ ہم جنس پرست تھے اور اُس زمانے کے امریکا میں ابھی ایل بی جی ٹی نام کی کوئی تحریک نہیں تھی۔
معاشرے میں اس نوع کی جنسی آزادی نے ابھی رواج نہیں پایا تھا اور ہم جنس پرستوں کو مغرب میں Fairy اور Faggot جیسے توہین آمیز کلمات سے پکارا جاتا تھا۔ اگر راک ہڈسن کا یہ راز کُھل جاتا تو خواتین میں ان کی مقبولیت پر شدید ضرب پڑتی اور ان کا کیرئیر تباہ ہو سکتا تھا۔ مبینہ طور پر اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے راک ہڈسن نے ایک خاتون سے شادی کرلی۔ اورخود کو ایک ’سیدھا‘ مرد ثابت کر کے ایک کام یاب رومانی اداکار کے طور پردہائیوں تک ہالی ووڈ پر راج کرتے رہے۔
دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے، ورنہ آپ کو اچھوت قرار دے دیا جاتا ہے۔ ملکوں کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں۔ پاکستان کی مثال لیجیے، جس مقصد کے تحت راک ہڈسن کو شادی کرنا پڑی تھی، غالباً کچھ ایسی ہی وجوہ کی بنا پر پاکستان کو انتخابات کروانے پڑے ہیں۔ تاکہ پاکستان بارے ایک ’سیدھا‘ ملک ہونے کا التباس باقی رہے۔ ورنہ تو نہ آئی ایم ایف قرض دینے پر تیار تھا، نہ مغرب کوئی تعلق رکھنے پر، لہٰذا طوعاً و کرہاً، چاروناچار، خواہ مخواہ انتخابات کا انعقاد کروانا پڑ گیا۔
جمہوری ممالک میں شفاف انتخابات سیاسی استحکام کا باعث ہوا کرتے ہیں، جب کہ متنازع انتخابات تو بہ ذاتِ خود ایک مسئلہ ہوتے ہیں جو مزید سیاسی انارکی کو جنم دیتے ہیں۔ انتخابات تو ہمارے ہاں اکثر الٹے سیدھے ہی ہوئے ہیں۔ مگر الیکشن 2024 نے تو کمال ہی کر دیا۔ یعنی ایں چیزِ دِگر است۔ مثلاً، 2018 کے انتخابات میں ایک سیدھا سادہ ہدف تھا، عمران خان کو الیکشن جتانا تھا۔ نواز شریف کو الیکشن ہرانا تھا۔ زیادہ گنجل، گرہیں نہیں تھیں۔ مگر حالیہ انتخاب تو کسی عجیب الخلقت بچھڑے سے مشابہت رکھتے ہیں، دو منہ اور تین آنکھوں والا بچھڑا، جسے دیکھ کر خلقِ خدا دنگ رہ جاتی ہے۔
اس الیکشن سے پہلے عمران خا ن جیل میں تھے، انہیں سزائیں سنائی جا رہی تھی، ان کی جماعت میں توڑ پھوڑ ہو رہی تھی۔ یعنی لگ بھگ وہی صورتِ احوال تھی جو 2018 میں نوا شریف اور ان کی جماعت کو درپیش تھی۔ مگر فرق یہ تھا کہ 2018 میں مسلم لیگ کے الیکٹیبلز کو ہانک کر بہ طور ایک گروہ پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا تھا، جب کہ اس مرتبہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو ٹکڑیوں کی صورت میں، مختلف علاقوں میں، مختلف سیاسی جماعتوں میں داخل کیا گیا۔ سیاست کے طالبِ علم بھانپ گئے تھے کہ نقشہ سازوں کے دل میں کوئی پیچیدہ ڈیزائن ہے۔ سب سے بڑھ کر الیکشن 2024 کا ایک ہدف ’لاڈلے‘ نواز شریف کو وزیرِ اعظم ہاؤس سے باہر رکھنا بھی تھا۔ اندازہ لگائیے، منصوبے میں کتنے پیچاک تھے۔
اس عجیب الخلقت بچھڑے کے خدوخال پر ایک نظر ڈالیے۔ نواز شریف کی لاہور سے نشست کو مشکوک بنانے کے لیے کیسے کیسے جتن کئے گئے، جب کہ لاہور میں ساتھ والے حلقوں سے شہباز شریف ، حمزہ شہباز اور مریم نوازکی انتخابی جیت پر ہم نے کوئی بلند آہنگ اعتراض نہیں سُنا۔ جب کہ پاکستانی سیاست کا ہر طالبِ علم جانتا ہے کہ مسلم لیگ کا ووٹ بینک نواز شریف کا مرہونِ منت ہے نہ کہ شہباز شریف یا حمزہ شہباز کا۔ نواز شریف ہار گیا اور باقی سارا خاندان جیت گیا۔ بات کچھ ہضم نہیں ہوئی۔ بہرحال، اس ساری نقشہ سازی کا مقصد ’سیاست‘ میں سے سیاست کا عمل دخل ختم کرنا ہی نظر آتا ہے، جس کے لیے مائنس ٹو ضروری سمجھا گیا۔
اب ہماری سیاست خالصتاً بیبے بچوں کا کھیل ہے۔ اشتراکِ اقتدار کا ایک اور تجربہ ا ٓغاز کیا جا رہا ہے جس میں سیاست دانوں کا کردار مزید واجبی سا نظر آتا ہے۔ خارجہ امور پہلے بھی سیاست دانوں کی پہنچ سے باہر ہوتے تھے، اب داخلہ امور بھی محسن نقوی صاحب دیکھیں گے۔ ایس آئی ایف سی نامی فورم مالی اور اقتصادی امور کا نگراں ہو گا اور آئسنگ آن دی کیک کا کردار ایک ولندیزی شہری اورنگ زیب خان بہ طور وزیرِ خزانہ انجام دیں گے۔ غالباً سیاست دانوں نے میثاقِ معیشت کرنے میں بہت دیر لگا دی۔ اب آپ ہی بتائیں کہ خارجہ، داخلہ اور اقتصادی امور نکال کر پیچھے کیا بچا؟ چھان بُورا؟ بس اس چھان بورے کی راکھی بیبے سیاست دانوں کی ذمہ داری قرار پائی ہے۔
اس سے بڑھ کر کچھ سوچنے والے سیاست دانوں کے پر کترنے کا مناسب بندوبست موجود ہے۔ ریاستی قینچیاں اور اُسترے مزید تیز کیے جا رہے ہیں، فضا میں کچا کچ کا شور بلند تر ہونے کو ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک خبر آئی کہ تین افغان دہشت گرد اڈیالہ جیل پر حملہ کرنے چاہتے تھے۔ ان کے پاس سے اسلحہ اور جیل کے نقشے بھی برآمد ہوئے، خبر درست تھی یا نہیں، مگر اس کی آڑ میں عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ادھر کور کمانڈرز کانفرنس میں نو مئی کے ملزموں سے نمٹنے کے عزمِ صمیم کا اظہار کیا گیا ہے۔ عرض یہ ہے کہ حالات ایک ہی سمت میں اشارہ کر رہے ہیں۔ بلا شبہ یہ طے کر لیا گیا ہے کہ پاکستان سیاست نام کی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ الیکشن بین الاقوامی دباؤ کے تحت ایک مجبوری تھے، سو ہو گئے۔
راک ہڈسن کی ایک خاتون سے شادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ ’سیدھے‘ ہو گئے ہیں۔ وہ شادی فقط ایک پردہ تھا، ایک دھوکا، ایک سراب ۔ لیکن یہ پردہ آخر چاک ہو گیا تھا۔ راک ہڈسن دو اکتوبر 1985 کو ایڈز سے انتقال کر گئے تھے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)