شراکت اقتدار کا فارمولا بنایا جائے!

سیاسی مقاصد کے لئے پروپگنڈے کے استعمال میں پاکستان تحریک انصاف کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔   پارٹی کے لیڈر عمر ایوب نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران  دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس  معتبر معلومات  ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو نوازنے کے لیے وفاقی حکومت انہیں کنیڈا میں سفیر نامزد کررہی ہے۔ بعد میں الیکشن کمیشن نے ایک اعلامیہ میں ان خبروں کی تردید کی اور غلط معلومات عام کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی  کی دھمکی بھی دی ہے۔

اس دوران میں البتہ تحریک انصاف کے محبّان نے  کنیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو   سکندر سلطان راجہ کے خلاف احتجاجی یادداشتیں بھیجنے کا سلسلہ شروع کردیا تھا جس میں انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور چیف الیکشن کمشنر کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے میں ناکامی کا مرتکب قرار دیا گیا  ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ واقعی ایسی کوئی یادداشت کینیڈا کے وزیر اعظم کو بھجوائی جاچکی ہے یا نہیں لیکن تحریک انصاف کے  حامی اس قسم کے احتجاجی مراسلے کا متن  سوشل میڈیا گروپس میں  پھیلا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں البتہ واضح کیا گیا ہے کہ سکندر سلطان راجہ نے کوئی نیا عہدہ قبول نہیں کیا اور وہ ملک سے باہر جانے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

 جب قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں غلط بیانی سے کام لے اوراس پر کسی شرمندگی کا اظہار بھی سامنے نہ آئے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی درحقیقت  جمہوریت کے نام پر احتجاجی سیاست کرتے ہوئے جھوٹ عام کرکے عوام کے جذبات سے کھیلنے کی افسوسناک کوشش کررہی ہے۔ اس سے پہلے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کی  منتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی بعد میں یورپئین یونین کو بھی حکومت کے خلاف خط لکھنے کے بارے میں بیانات دیے گئے تھے۔

اس وقت تحریک انصاف میں  قیادت  کا ڈسپلن ناپید ہے، ا س لیے یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ کس لیڈر کی  کس بات کو درست مانا جائے اور کسےنظر انداز کردیا جائے۔ سوشل میڈیا  کو اپنی طاقت  بنانے والی اس پارٹی  کے لیے  دو ہی کام سب سے اہم ہیں۔ ایک تحریک انصاف کسی نہ کسی طرح خبروں میں موجود رہے۔ دوئم  موجودہ حکومت اور سیاسی مخالفین کے بارے میں  ہر قسم کا جھوٹ،  سچ بنا کر پیش کیا جائے۔ 

بعض تجزیہ نگار اسے تحریک انصاف کے  ’بیانیہ ‘ کی کامیابی   قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کیاجاتا ہے کہ برسر اقتدار پارٹیاں اپنے سیاسی ایجنڈے کے بارے میں عوام کو مطمئن کرنے  میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ جبکہ عمران خان اور تحریک انصاف کا بیانیہ عوام کے دلوں میں گھر کررہا ہے۔  اگر مسلسل جھوٹ بولنے اور مخالفین کی  پگڑی اچھالنے ہی کو سیاسی بیانیہ کہا جاتا ہے تو شاید اس دعوے کو تسلیم کرلیا جائے لیکن حقیقت میں  جھوٹ کی بنیاد  پر عوام کو گمراہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن نہ تو اس سے ملکی معاملات طے ہوسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت  عوامی مسائل حل کرنے کا کوئی پروگرام پیش کرتی ہے۔  مخالفین کو  چور  چور کہنے   کے بعد اب مینڈیٹ چوری کو  نعرہ بنا لینے سے نہ تو پاکستان کا بھلا ہوسکتا ہے ، اور  نہ ہی عوام کو درپیش مسائل حل ہوں گے۔  ایسے ہتھکنڈوں سے ہوسکتا ہے کہ وقتی طور پر تحریک انصاف کو توجہ ملتی رہے لیکن اس کے ساتھ ہی  سیاسی حلقوں میں ایسی پارٹی کا اعتبار بھی کم ہوتا رہے  گا۔ 

تحریک انصاف مسلسل اقتدار میں شراکت داری کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہی ہے۔  انتخابات میں حصہ لینے اور کامیابی حاصل کرنے والی ہر پارٹی کا حق ہے کہ وہ اقتدار کے لیے سیاست کرے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقتدار بجائےخود ہدف ہے یا عوام کی حمایت سے اقتدار لینے کے بعد کسی ٹھوس سیاسی ایجنڈے  پر عمل درآمد حقیقی مقصد ہوتا ہے؟ اگر اقتدار حاصل کرنا ہی انتخابات اور سیاسی سرگرمیوں کا واحد مقصد ٹھہرایا جائے تو بتایا جائے کہ عوام کو اس مشکل ، پیچیدہ اور مہنگے عمل سے گزارنے کا کیا فائدہ ہوگا۔  عوام تو اسی وقت  کسی بہتری کی امید کرسکتے ہیں اگر ملک میں نظام  حکومت مستحکم بنیادوں پر استوار ہو، باہمی اعتبار کے لئے کام  ہو اور ملک کو درپیش اہم مسائل حل کرنے کے لئے ٹھوس اور واضح سیاسی پروگرام  سامنے لائے جائیں۔  ایسا  سیاسی پروگرام متعارف کروانے والی پارٹی کو ضرور قدر کی نگاہ سے دیکھنا  چاہئے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی کسی بھی بڑی سیاسی پارٹی نے اپنے انتخابی پروگرام میں کوئی  واضح سیاسی منصوبہ پیش نہیں کیا۔  تحریک انصاف بھی اس معاملے میں باقی پارٹیوں سے مختلف نہیں ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کے پہلے اجلاس میں واضح کیا ہے کہ اب باتوں کا وقت نہیں ہے بلکہ ٹھوس کام کرنے کی ضرورت ہے۔  وزیر خزانہ اورنگ زیب خان نے گزشتہ روز وزیر اعظم کے حوالے سے بتایا تھا کہ پاکستانی معیشت کی ابتری کے بارے میں  پوری  تصویر قومی و عالمی اداروں کے سامنے ہے اور سب کو یہ بھی معلوم ہے کہ اسے کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔  ایک ماہر بنکار کی طرف سے  ملک کی بیمار معیشت کے حوالے سے یہ درست تجزیہ ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو بات شہباز شریف کابینہ میں بیٹھ کررہے ہیں کیا مسلم لیگ (ن) کے صدر کے طور پر  بھی انہوں نے اپنی پارٹی کے ذمہ داروں کو اس بارے میں مطلع کرنے کی کوشش کی ؟ کیا  عوام کے پاس ووٹ لینے کے لیے جاتے ہوئے بھی انہیں بتایا تھا کہ  جو بھی سیاسی پارٹی انتہائی مشکل حالات میں حکومت سنبھالے گی، اس سے معجزوں کی توقع نہ کی جائے۔  بلکہ عوام و خواص کو مل کر صبر، ضبط اور شدید ڈسپلن کے تحت پھونک  پھونک کر قدم اٹھاتے ہوئے اس مشکل سے نکلنا ہوگا۔

سیاسی جلسوں اور انتخابی مہم کے  دوران تو یہی تاثر دینے کی کوشش کی  جاتی ہے کہ ایک بار کسی ایک خاص  پارٹی کو اقتدار مل گیا تو عوام کو پھر کوئی شکایت نہیں رہے گی۔ ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا، مہنگائی کا عفریت بھی سینگوں سے پکڑ لیا جائے گا اور  عوام کو نت نئے فلاحی منصوبوں سے  بہرہ ور کیا جائے گا۔ جبکہ یہ حقیقت سب سیاست دانوں کو معلوم ہوتی ہے کہ  یہ  وعدے عکس بر آب کی صورت ہیں۔ معیشت سدھارنے کے لئے آئی ایم ایف جیسے اداروں کی فوری مالی امداد اسی وقت معاشی تحرک کا سبب بن سکتی ہے،  اگر ملک میں  امن و امان ہو اور تجارتی و صنعتی اداروں کو دل جمعی سے کام کرنے کا موقع دیا جائے۔  ایسے سرکاری اداروں سے جان چھڑائی جائے جو روپے نگلنے والے دیو بن چکے ہیں لیکن ان کی افادیت صفر کے برابر ہے۔ 

یہ اقدام تو فوری معاشی ڈسپلن کے لیے اہم ہیں لیکن طویل المدت معاشی ترقی کے لئے  شرح آبادی میں کمی اور  انتہاپسندی کے رجحان کو   روکنا اہم ہوگا۔ سب جانتے ہیں کی ملک کے سیاسی و سماجی منظر نامہ پر مذہب کے نام پر پھیلائی گئی تقسیم، نفرت اور  شدت پسندی   معاشی احیا کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے باوجود  انتخابی مہم کے دوران  کسی سیاسی لیڈر نے ان اہم معاملات کو زیر بحث لانے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ اقتدار سنبھالنے کے بعد راستہ درست کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور ناکامی کی ساری ذمہ داری  سیاسی مخالفین  پر ڈال دی جاتی ہے۔

پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے  ایسی  ہی ایڈہاک سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر چلایا جارہا ہے۔ اگرچہ شہباز حکومت اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت و  تعاون کی حکمت عملی کے ذریعے سیاسی، انتظامی  اور معاشی نظم و ضبط پیدا کرنے  کی بات کررہی ہے لیکن انتخابی مہم کے دوران  میں تو عوام کو اس مقصد کے  لیے تیار نہیں کیا گیا تھا۔ انہیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ اگر ایک بار اقتدار مل گیا تو مسائل کا رخ موڑ دیا جائے گا ۔  جبکہ حقیقت  حال اس سے برعکس ہے۔  یہ معاملہ  انتخابی عمل میں عوام کی پسند اور حکومت سازی کے بعد ملک کے طاقت ور اداروں کے ساتھ  اشتراک و تعاون کے بارے میں دیکھا جاسکتا ہے۔  اسٹبلشمنٹ   اگر  قومی مفاد کے لیے دست تعاون دراز کرتی ہے تو اسے ’گالی‘ کیوں بنا لیا گیاہے؟  یہ بھی تو ممکن ہے کہ سیاسی پارٹیاں  ملک کو درپیش  مسائل کی سنگینی کے سبب ایک طرف  وسیع تر سیاسی پلیٹ فارم استوار کرنے کے لیے کام کریں اور دوسری  طرف تمام اسٹیک ہولڈرز کو ’پاور شئیرنگ‘ کے کسی قابل قبول مگر شفاف طریقے پر آمادہ کیا جائے۔ اس طرح   ’درپردہ قوتوں‘ کا نام لے کر مسلسل   گھٹن، خوف اور پریشانی کا جو ماحول قائم کیا جاتا ہے، کم از کم اس سے تو نجات مل سکے گی۔ اور جب ملکی سیاسی پارٹیاں بلوغت کی اس سطح پر پہنچ  جائیں،  جہاں وہ غیر منتخب قوتوں کو لگام دینے کے قابل ہوں، تو سیاسی حاکمیت کا خواب بھی پورا کرلیا جائے۔

اس قسم کی شفافیت کم از کم  ملک میں غیر محسوس خوف  کو ختم کرسکے گی۔ اس وقت  تحریک انصاف سمیت ہر پارٹی عسکری قیادت کی خدمت گزاری پر آمادہ ہے اور اس کے ’دست شفقت‘ کی طلب گار ہے لیکن  اس کی پہلی شرط یہی ہوتی ہے کہ اسٹبلشمنٹ دیگر سیاسی گروہوں کو سوتیلی اولاد سمجھے۔   پاکستان میں حکمرانی کے موجودہ مسائل کی بنیاد اسی سیاسی رویہ میں تلاش کی جاسکتی ہے۔  عمران خان کئی طریقوں سے ناراض فوجی قیادت کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کی کوشش کرچکے ہیں لیکن مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر ملک کی بہبود پر بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں ۔ یہی سیاسی رویہ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور دیگر سیاسی گروہوں میں بھی موجود ہے۔  سب اسٹبلشمنٹ کوحقیقت مانتے ہیں لیکن  اس کے ساتھ مواصلت   و تعاون کو کسی ’ناجائز عشق‘ کی طرح خفیہ رکھا جاتا ہے۔   سب سے پہلے شہباز حکومت کو اس بارے میں واضح مؤقف اختیار کرنا چاہئے۔  وفاقی حکومت کے بعض  یا بیشتر اختیارات ڈھکے چھپے طریقے سے  عسکری قیادت کے حوالے کرنے کی بجائے انہیں کسی قانونی پارلیمانی انتظام کے تحت شرکت اقتدار کے کسی فارمولے کے تحت انجام دیا جائے تو کم از کم نظام حکومت کی حد تک معاملات درست ہوسکتے ہیں۔ اور میڈیا، یوٹیوبرز یا  زیرک تجزیہ نگار بھی ہر وقت ’اندر کی خبر‘ نکالنے میں ہلکان نہیں ہوں گے۔

تحریک انصاف کو بھی انہیں خطوط پر حکمت عملی استوار کرنی چاہئے۔ آج پشاور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے خصوصی نشستوں کے لئے ’سنی اتحاد کونسل‘ کی درخواست مسترد کردی کیوں کہ  اس میں قانونی سقم موجود ہیں۔  بیرسٹر گوہر علی کہتے ہیں کہ وہ اس معاملہ کو اب سپریم کورٹ میں لے جائیں گے۔ پشاور ہائی کورٹ میں  جو قانونی صورت حال سامنے آئی ہے، اس کی روشنی میں تحریک انصاف یا سنی اتحاد کے  لیے سپریم کورٹ میں بھی  کامیابی ممکن نہیں ہوگی۔ تحریک انصاف کی قیادت اس وقت ممتاز قانون دانوں کے ہاتھ میں ہے، انہیں ان حالات کا زیادہ بہتر علم ہونا چاہئے۔  قانونی معاملات سیاسی دباؤ سے حل کرنے کی حکمت عملی کامیاب ہو بھی  جائے تو دیرپا نہیں ہوگی۔

تحریک انصاف پہلے مینڈیٹ چوری کا شور مچاتے  ہوئے  ’حلقے کھولنے‘ کی بات کررہی ہے البتہ پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں آج یہ نیا مؤقف سامنے لایا گیا ہے کہ بعض حلقوں میں  دوبارہ گنتی کے ذریعے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ہرایا جارہا ہے۔ بہتر ہوگا کہ پروپیگنڈے اور نفرت انگیزی کی بجائے تحریک انصاف عدالتوں کا رخ کرے،  اسے اپنی قانونی پوزیشن کا درست جواب مل جائے گا۔ اسی کو ’قسمت ‘ سمجھ کر قبول کیا جائے اور ایک طاقت ور اپوزیشن کے طور پر مثبت کردار ادا کرکے خود کو حکمرانی کا اہل ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔