احتساب عدالت نے حسن، حسین نواز کو ایون فیلڈ، العزیزیہ ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز سے بری کر دیا

  • منگل 19 / مارچ / 2024

احتساب عدالت اسلام آباد نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو تینوں ریفرنسز ایون فیلڈ، العزیزیہ ملز اور فلیگ شپ ریفرنس میں بری کردیا۔

احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے قومی احتساب بیورو کے ریفرنسز میں حسن اور حسین نواز کی بریت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ اس موقع پر حسن اور حسین نواز کی جانب سے قاضی مصباح الحسن ایڈوکیٹ کے علاوہ ان کے پلیڈر رانا محمد عرفان بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

احتساب عدالت نے استفسار کیا کہ بریت کی درخواست پر آپ کی رپورٹ آنی تھی، جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب اظہر مقبول نے بتایا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ رکاوٹ نہیں۔ عدالت اس کیس کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ عدالت نے ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب اظہر مقبول سے مکالمہ کیا کہ ہم آپ کا بیان ریکارڈ کرلیتے ہیں۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب اظہر مقبول نے عدالت کو بتایا کہ آپ میرا بیان ریکارڈ کرلیں۔ یہ کیس نیب ترامیم سے متعلق نہیں ہے۔ اس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کی حد تک فیصلہ بھی کر چکی۔

وکیل قاضی مصباح ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ جن دستاویزات پر عدالت نے مریم نواز کو بری کیا انہی پر نواز شریف کی بریت ہوئی۔ نیب نے مریم نواز کی بریت کے خلاف اپیل دائر نہیں کی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی کاپی ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ وکیل صفائی قاضی مصباح نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز کے خلاف ریفرنس میں نیب کوئی شواہد پیش نہیں کر پائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز، نواز شریف کو کیس سے بری کردیا تھا۔

العزیزیہ کیس میں ٹرائل کورٹ نے سزا دی۔ دسمبر 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی اپیل منظور کی۔ نیب نے نواز شریف کی اپیل منظور ہونے کے فیصلے کوبھی چیلنج نہیں کیا۔

وکیل قاضی مصباح کا کہنا تھا کہ حسن نواز، حسین نواز کے خلاف کیس چلانا عدالتی وقت ضائع کرنا ہوگا۔ کیس میں مرکزی ملزم بری ہوگئے تو معاونت کے الزام میں کیس چل ہی نہیں سکتا۔

احتساب عدالت نے حسن نواز، حسین نواز کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بعد ازاں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حسن نواز اور حسین نواز کو 7 سال اشتہاری رینے کے بعد تینوں ریفرنسز سے بری کردیا۔

واضح رہے کہ 14 مارچ کو احتساب عدالت اسلام آباد نے حسن اور حسین نواز کے تین ریفرنسز (ایون فیلڈ، العزیزیہ ملز اور فلیگ شپ ریفرنس) پر اشتہاری کا اسٹیٹس ختم کرتے ہوئے وارنٹ گرفتاری منسوخ کردیے تھے اور 50 ہزار روپے مچلکوں کی عوض ضمانت بھی منظور کی تھی۔