اسرائیلی جارحیت، امریکہ کی انسان دوستی پر کلنک

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو سے کہا ہےکہ وہ اعلیٰ اختیاراتی وفد واشنگٹن بھیجے تاکہ رفحہ پر حملہ کے بارے میں بات چیت کی جائے۔  اسرائیلی حکومت رفحہ کے علاقے میں  زمینی کارروائی کی تیاری کررہی ہے اور  وزیر اعظم نیتن یاہو بار بار کہہ چکے ہیں کہ حماس کو مکمل طور سے ختم کرنے کے لئے رفحہ میں فوجی کارروائی اشد ضروری ہے۔ البتہ دنیا بھر سے اس حملہ کے بارے میں شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔

خیال ہے کہ رفحہ پر اسرائیلی حملہ سے  انسانی جانوں کا بے شمار نقصان ہوگا اور  اس تباہی  کا تدارک ممکن نہیں ہوگا۔ لیکن امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیلی حکومت کی ہٹ دھرمی  جاری ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر غزہ پر مکمل تسلط بحال کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ اسی مقصد سے  رفحہ پر  زمینی حملہ کی تیار ی کی جارہی ہے۔ اس علاقے میں اس وقت  دس لاکھ سے زائد شہریوں نے پناہ لی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال   7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملہ کے بعد سے  شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائی میں اب تک 31 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے  ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔  اسرائیل اس دعوے کے ساتھ ان حملوں  کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ حماس کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کررہا ہے ۔  اور یہ کارروائی اسرائیل کی حفاظت اور دفاع کے لیے بے حد ضروری ہے۔

امریکی لیڈروں سمیت دنیا بھر کے ممالک اس اسرائیلی دعوے کو قبول نہیں کرتے لیکن  انسانیت کا نام لینے اور بار بار غزہ کے لیے انسانی امداد بحال کروانے کی بات کرنے کے باوجود صدر جو بائیڈن کی حکومت نے  ابھی تک نہ تو اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی روکی ہے اور نہ ہی   اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم سے کوئی ایسی قرار داد منظور ہونے دی ہے جس میں اسرائیل جارحیت کی  مذمت کرتے ہوئے اسے اس جنگ کو بند کرنے کا پابند کیا جائے۔ امریکہ حماس کو دہشت گرد گروہ قرار دے کر اسرائیلی جنگ جوئی کو ’حق مدافعت‘ کہتا ہے لیکن  اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر  میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے غزہ میں قحط اور انسانی المیہ کے بارے میں متنبہ کررہے ہیں۔  واشنگٹن اور نیویارک سمیت مغربی دنیا کے بیشتر شہروں میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے اور عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن عوام کی یہ آواز بھی دنیا کے طاقت ور سفاک لیڈروں کو عقل کے ناخن لینے اور اسرائیل کو  انسانوں کے خلاف اس بے مقصد جارحیت سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوپارہی۔

اسرائیل  رفحہ پر حملہ کی دھمکیاں دے رہا ہے تاہم صدر جو بائیڈن نے یورپی حلیفوں کے دباؤ  کی وجہ سے اسرائیل کو اس حملہ  سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ واشنگٹن میں طلب کیے گئے اجلاس میں اسرائیلی حکام کے ساتھ مل کر متبادل حل پر غور کیاجائے گا۔ البتہ جنگ بندی فی الوقت مجوزہ کسی حل کا حصہ نہیں ہے۔ دوحہ میں قطری اور  مصری حکام  اسرائیلی نمائیندوں اور حماس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ  جنگ بندی کا کوئی معاہدہ ہوسکے۔ حماس نے اس وقت تک کسی جنگ بندی سے انکار کیا ہے جب تک اسرائیل  مستقل جنگ بندی پر  تیار نہ  ہو اور غزہ سے اسرائیلی فوجوں کو واپس نہ بلایا جائے۔ البتہ اسرائیلی وزیر اعظم مستقل جنگ بندی کو ناقابل قبول کہتے ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ  حماس کے مکمل خاتمہ کے بغیر اس جنگ کو بند نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اسرائیل ابھی تک کوئی ایسا منصوبہ  بھی سامنے نہیں لاسکا جس  کے تحت  وہ غزہ یا فلسطینی علاقوں سے حماس کا خاتمہ ممکن بنا سکے۔  بلکہ قیاس کیاجاسکتا ہے کہ بڑھتے ہوئے اسرائیلی جبر کے ساتھ فلسطینی عوام میں حماس اور اس کے حامی گروہوں کی جڑیں مضبوط ہورہی  ہیں۔ اسرائیل کو بھی اس صورت حال کا اندازہ ہے، اسی لیے  یہ شبہ موجود ہے کہ اسرائیل درحقیقت غزہ پر مستقل قبضہ کے ذریعے اس ’مسئلہ‘ کو حل کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ سمیت پوری دنیا دو ریاستی حل کو ہی مشرق وسطی میں امن کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔ اسرائیل البتہ اسے مسترد کرتا ہے۔

حماس کے سیاسی بیورو کے  رکن عزت الرشقہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں الشفا ہسپتال پر  تازہ حملہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور فوج شدید پریشان خیالی کا شکار ہیں۔ جس نام نہاد فتح کا اعلان نیتن یاہو کرتے ہیں، اس کا وجود سوائے خوابوں کے کہیں موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام تر مصائب کے باوجود  ہمارے لوگ حوصلہ مند اور پر عزم ہیں۔  اسرائیل اس وقت رفحہ پر حملہ کرکے حماس کو ختم کرنے کے دعوے کررہا ہے لیکن اس طرح کے سفاکانہ حملہ سے بھی وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے گا۔  اسرائیلی حکومت شہریوں کو نشانہ بنا کر اپنے مطالبے منوانا  چاہتی ہے   لیکن رفحہ پر حملہ سے بھی یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکے گا۔  اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس جنگ میں دس ہزار  سے زائد حماس کے جنگجو   ہلاک کیے ہیں لیکن اسرائیلی حملے چونکہ شہری آبادیوں پر کیے جاتے ہیں، اس لیے حماس کو تباہ کرنے کے بارے میں اسرائیلی دعوؤں کو تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے۔  البتہ یہ حقیقت سب سے سامنے ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر دہشت گرد حملہ کے دوران میں حماس کے جنگ جو جن دو اڑھائی سو اسرائیلیوں کو اغوا کرکے لے گئے تھے، ان میں سے نصف کےقریب لوگوں کو حماس کے ساتھ معاہدہ کے نتیجہ میں ہی رہا کروایا جاسکا تھا۔ باقی ماندہ ایک سو سے زائد اسرائیلی ابھی تک حماس کے قبضے میں ہیں اور اسرائیل اپنی تمام تر دہشت گردی  اور سفاکانہ جنگ جوئی کے باوجود ان میں کسی کو رہا کروانے میں کامیاب  نہیں ہؤا۔ اس حقیقت سے ان اسرائیلی دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے کہ حماس کے جنگجو  ہسپتالوں یا شہری آبادیوں میں پناہ لیتے ہیں۔ ایسے ہر حملے میں شہری ہی ہلاک ہوتے ہیں۔ یا اگر حماس کے کچھ لوگ  مارے  بھی جاتے  ہوں تو بھی  اسرائیلی فوجی  اپنے یرغمالیوں تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ متعدد مواقع پر دست بدست جنگ میں اسرائیلی فوجی بھی بڑی تعداد  میں مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی اطلاعات کے مطابق ان کی تعداد 1200 کے لگ بھگ ہے۔

اس دوران میں البتہ  دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کا سلسلہ  جاری ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے  ترجمان ماجد الانصاری نے بتایا ہے کہ اسرائیلی موساد کے سربراہ قطری وزیر اعظم اور مصری حکام سے جنگ بندی کے سوال پر بات کے بعد واپس چلے گئے  ہیں۔ البتہ ٹکینیکل ٹیمیں بات چیت کررہی ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ حماس کی طرف سے سامنے آنے والی تجاویز کے بعد متبادل تجاویز سامنے آئیں گی تاکہ جنگ بندی کی بات  کو آگے بڑھایا جائے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ کوئی معاہدہ ہوجائے گا لیکن چونکہ فریقین بات چیت کررہے ہیں ، اس لیے ہم کسی حد تک پرامید ضرور  ہیں۔  پہلے یہ امکان تھا کہ  رمضان کے دوران میں جنگ میں وقفہ ہوگا لیکن حماس نے کسی عبوری جنگ بندی پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ اب دوحہ کے علاوہ واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت سے امید کی جارہی ہے کہ عید الفطر  سے پہلے جنگ میں وقفہ ممکن بنایا جائے بصورت دیگر رفحہ پر حملہ  کی صورت میں ایک نئی دہشت و بربریت دیکھنے میں آئے گی۔

اقوام متحدہ مسلسل غزہ میں قحط  اور خوراک کی شدید قلت کے بارے میں متنبہ کررہی ہے۔  عالمی سطح پر امداد فراہم کرنے والے گروپ کئیر کی ڈائریکٹر حبہ ٹیبی نے کہا کہ کہ بھوک دھیرے دھیرے آنے والی تکلیف دہ موت ہوتی ہے۔ غزہ میں ہمارے کارکن روزانہ  ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جو غذاکی قلت کی وجہ سے  نہ تو بات کرسکتے ہیں اور نہ چل سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں قحط کی صورت حال موجود ہے اور وہاں خوراک اور دواؤں کی شدید کمی ہے۔ قحط کے بارے میں اقوام متحدہ کے اشاریوں کے مطابق جب کسی علاقے میں بیس فیصد گھرانوں کے پاس خوراک کی شدید قلت ہو یا 10ہزار افراد میں سے 2 ہر روز بھوک سے مررہے ہوں تو اسے قحط زدہ کہا جائے گا۔ غزہ میں یہ آثار نمایاں طور سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ عالمی فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ اس وقت غزہ میں دو سال سے کم تین میں سے ایک بچہ خوراک کی شدید قلت کا سامنا کررہا ہے اور وہ انتہائی لاغر ہے۔ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ اس وقت اس علاقے میں خوراک کی قلت سے پیدا ہونے والے حالات بچوں کے لیے ہلاکت خیز ہیں اور اس صورت حال  کے طویل المدت  اثرات دیکھنے میں آئیں گے۔  فوڈ پروگرام کے بیان کے مطابق اس وقت غزہ میں پائے جانے والے حالات فلسطینیوں کی پوری نسل پر اثر انداز ہوں گے۔

اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ لے جانے والے جنوبی افریقہ کی وزیر خارجہ نالیدی پانڈر کا کہنا  ہےکہ اسرائیل عالمی عدالت انصاف کی طرف سے جنوری میں جاری ہونے والے حکم کی خلاف ورزی کررہاہے جس میں شہری آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔لیکن اسرائیلی حکومت غزہ میں قحط کے حالات پیدا کرکے وہاں لوگوں کو بھوک سے مرنے پر مجبور کررہی ہے۔ واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب  کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو غزہ میں رونما ہورہا ہے، انسانوں کے طور پر اسے دیکھنا نہایت تکلیف دہ اور مایوس کن ہے۔ اسرائیلی اقدامات سے دنیا میں ناانصافی اور من مانی کی افسوسناک مثال قائم ہورہی ہے۔ اسرائیلی حکومت جیسے عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو نظرانداز کررہی ہے، اس سے یہی پیغام عام ہوتا ہے کہ جس کی جو مرضی چاہے کرے، اسے کوئی نہیں روک سکتا اور اس پر کوئی قانون نافذ نہیں ہوتا۔ 

دنیا اگر اسرائیل کو اس طریقے پر عمل کرنے کی اجازت دے گی تو بعد ازاں دوسرے ممالک کو بھی ایسا ہی انداز اختیار کرنے کا حوصلہ ملے گا۔ ان کاکہنا تھا کہ مغربی اداروں میں جمہوریت کی جو دلکش تصویر پیش کی جاتی ہے، عملی طور سے اس کا مظاہرہ نہیں ہوتا۔ اگر ہم آج اسرائیل کو انسانوں کے قتل عام سے نہیں روک سکتے تو کل کو اگر کوئی افریقی لیڈر بھی عالمی قوانین ماننے سے انکار کرتا ہے تو اسے کس منہ سے اصول و ضوابط  کی پابندی   پرمجبور کیا جائے گا؟

دکھ و رنج کے اس شدید اظہار کے باوجود اسرائیلی لیڈروں کی آنکھوں میں خون اترا ہؤا ہے۔ وہ اپنی تمام ناکامیوں اور اندرونی سیاسی کمزوریوں کا انتقام غزہ میں فلسطینیوں کو ہلاک کرکے لینا چاہتے ہیں۔  انسانیت کے خلاف یہ جرم دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ کی ناک کے نیچے  سرزد ہورہا ہے۔