سرحد پار سے جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کو برداشت نہیں کرسکتے: شہباز شریف

  • بدھ 20 / مارچ / 2024

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم سرحد پار سے کسی بھی قسم کی دہشتگردی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج ہم سب سے پہلے شہدا اور ان کے عظیم والدین اور اہل خانہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ جن کے سپوتوں نے بڑی جرات اور بہادری سے دہشت گردوں کا چند دن پہلے مقابلہ کیا اور ان تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا اور ساتھ جام شہادت نوش کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ وطن کے ساتھ اس سے والہانہ محبت، قربانی اور ایثار کا اور کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔ اس موقع پر شہدا کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پھر چند سال پہلے دہشتگردی نے سر اٹھایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اتنی عظیم قربانیوں کے بعد اور بے پناہ توانائیاں خرچ کرنے کے بعد دہشتگردی کا واپس آنا کسی بھی المیے سے کم نہیں۔ اب دوبارہ اس کا سر کچلنے کے لیے یہی شہید اور غازی ہتھیلی پر جان رکھ کر ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں چند دن قبل لیفٹنٹ کرنل کاشف شہید اور کیپٹن احمد بدر شہید کے والدین اور گھر والوں سے ملنے گیا۔ یقین کریں، ان کے حوصلے نے میرا ایمان تازہ کر دیا۔  میں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان مل کر اس دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا پورا عزم رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کو یقین دلایا ہے کہ سرحد پار سے جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کو اب ہم برداشت نہیں کرسکتے۔ پاکستان کی سرحدیں دہشت گردی کے خلاف ریڈلائن ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم اپنے ہمسایہ برادر ممالک کے ساتھ انتہائی امن کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔ ہر قسم کے باہمی تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں، لیکن اگر بدقسمتی سے ہمسایہ ملک کی زمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوگی تو اب یہ قابل برداشت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بڑی واضح رہنی چاہیے کہ ہم سرحد پار سے کسی بھی قسم کی دہشتگردی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔ میں ہمسایہ ممالک سے گزارش کروں گا کہ آئیں بیٹھیں، مل کر دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل تیار کریں، جس کو سنجیدگی کے ساتھ اس کے خاتمے کے لیے مل کر کام کریں گے تو اس سے بہتر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے اور کوئی لائحہ عمل نہیں ہوسکتا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اس حوالے سے ہمسایہ ممالک ان کے ارباب اختیار میری اسی تجویز کو غور سے لیں گے اور مل کر خطے کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔