سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کے لئے امریکی قراردار

  • جمعہ 22 / مارچ / 2024

امریکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی سے متعلق جمعے کو پیش کی جانے والی قراردار کی منظوری کے لیے پرعزم ہے۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا ہے کہ وہ پر امید ہیں کہ مسودہ قرارداد کو 15 رکنی کونسل سے منظور کر لیا جائے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے گزشتہ روز سعودی عرب میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ غزہ جنگ بندی کے لیے واشنگٹن نے سلامتی کونسل میں ایک قراردار جمع کرا دی ہے۔ قراردد کے متن میں کہا گیا ہے کہ تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی "فوری اور پائیدار جنگ بندی" شہریوں کی حفاظت کرے گی اور انسانی امداد کی فراہمی کی اجازت دے گی۔

قرارداد میں قطر میں ہونے والے مذاکرات، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کی حمایت کی گئی ہے۔ امریکہ عارضی جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل کی حمایت چاہتا ہے جو کہ غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی سے منسلک ہو۔ اس سے قبل امریکہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کا دفاع کرتا رہا ہے اور غزہ جنگ بندی سے متعلق سلامتی کونسل میں کئی قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی مؤقف میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں دیکھی جارہی ہے جب پانچ ماہ سے جاری جنگ کی بڑھتی ہوئی عالمی مذمت، فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں، صدر جو بائیڈن کو سیاسی مخالفت اور غزہ میں قحط کے امکانات ہیں۔ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد پر فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

سلامتی کونسل میں منظوری کے لیے قرارداد کے حق میں کم از کم نو ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے کونسل کے مستقل رکن امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس یا چین کی جانب سے ویٹو کا نہ ہونا بھی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں پانچ ماہ سے جاری جنگ سے خوراک کی شدید قلت کی وجہ سے لوگوں کو قحط کا سامنا ہے جب کہ امریکہ سمیت عالمی برادری نے بڑے پیمانے پر فلسطینی ہلاکتوں پر اسرائیل پر تنقید کی ہے۔

فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے گزشتہ سال سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 253 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ میں اب تک تقریباً 32000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر جمعے کو اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔ دوسری طرف ایک اسرائیلی وفد قطر میں ہونے والے مذاکرات میں شریک ہو گا۔

قطر کی ثالثی میں جنگ بندی کے مذاکرات تقریباً چھ ہفتوں کی جنگ بندی پر مرکوز ہیں جو اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینیوں کے بدلے 40 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنائے گا جب کہ غزہ میں مزید امداد کی راہ ہموار ہو گی۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق مذاکرات کاروں کو اس اختلافی نقطے کا سامنا ہے کہ حماس یرغمالیوں کو صرف اس معاہدے کے حصے کے طور پر رہا کرے گا جس سے جنگ کا خاتمہ ہو۔ جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک عارضی توقف پر بات کرے گا۔