شوکت صدیقی کیس: عدلیہ کی بالادستی کااعلان
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 22 / مارچ / 2024
سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کی برطرفی کو غیرمنصفانہ قرار دیا ہے اور انہیں ان کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم اس دوران میں 62 سال کی عمر کو پہنچنے کی وجہ سے جسٹس شوکت صدیقی بطور جج کام نہیں کرسکیں گے لیکن ایک ریٹائرڈ جج کے طور پر پنشن اور مراعات کے مستحق ہوں گے۔ یہ فیصلہ سات سال کے طویل انتظار کے بعد سامنے آیا ہے۔
عدالت عظمی نے اس فیصلہ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ کسی جج کو محض کسی پبلک پلیٹ فارم پر کوئی ایسی بات کہنے پر سزا نہیں دی جاسکتی کیوں کہ اس میں بعض اعلیٰ افسروں کا نام لیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ اس حوالے سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ جسٹس صدیقی نے پبلک اجلاس کے دوران میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید پر عدالتی کارروائی میں مداخلت کر نے، فیصلوں پر اثر انداز ہونے اور ہائی کورٹ کے بنچ بنانے میں مداخلت کرنے جیسے الزامات عائد کیے تھے۔
آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ کو براہ راست نشانہ بنانے پر ہائی کورٹ کے ایک جج کو فوری کارروائی کرتے ہوئے برطرف کیا گیا تھا۔ 2018 میں ہونے والے فیصلہ سے یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ ملک کے حساس اداروں اور فوج کے بارے میں کھل کر بات کرنے والے کسی بھی شخص کو سزا دے گی خواہ وہ ہائی کورٹ کا جج ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح صرف شوکت صدیقی ہی سزا کے مستحق نہیں ٹھہرے تھے بلکہ یہ واضح کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی اور دیگر حساس ادارے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ عدلیہ کی بھی ریڈ لائن ہیں۔ تاہم آج سامنے آنے والے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ فیصلہ میں واضح کیا گیا ہے کسی جج کو مناسب تحقیقات میں الزامات ثابت کیے بغیر سزا دینا ناجائز ہے۔ اسی طرح یہ گمان کرلینا بھی غلط ہوگا کہ اعلیٰ پوزیشن پر کام کرنے والا کوئی شخص لازمی طور سے سچ کہتا ہے اور اس سے کم تر عہدے پر کام کرنے والا ہی جھوٹ بولتا ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس تاثر کی بھی نفی کرتا ہے کہ بعض معاملات میں عدلیہ اور ملٹری اسٹبلشمنٹ میں باالواسطہ طور سے افہام و تفہیم موجود رہتی ہے اور عدالتیں بہتر صورت فوج کے مفادات یا مؤقف کی حمایت ہی میں فیصلے صادر کرتی ہیں خواہ ان میں یہ ادارے ہی زیادتی کے کیوں نہ مرتکب ہوئے ہوں۔ فیصلہ کے نتیجہ میں شوکت صدیقی تو عہدے پر بحال نہیں ہوں گے لیکن عدالت عظمی نے اس اصول کو تسلیم کیا ہے کہ کسی پبلک پلیٹ فارم سے اگر کسی اعلیٰ عہدے پر کام کرنے والوں کے خلاف بات کی جائے گی تو وہ بجائے خود کوئی جرم نہیں ہے بلکہ اسے وارننگ کے طور پر دیکھ کر مناسب کارروائی ہونی چاہئے۔ البتہ اگر الزامات عائد کرنے والا جھوٹ بول رہا ہو تو ضرور اسے سزا ملنی چاہئے۔ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانچ رکنی بنچ نے شوکت صدیقی کو سچا مانا ہے۔ اس طرح اس فیصلہ سے طاقت ور افراد اور اداروں کے خلاف رائے ظاہر کرنے اور خفیہ معلومات سامنے لانے کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کےچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ بنچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت شامل تھے۔ جولائی 2018 میں شوکت صدیقی نے راولپنڈی بار میں تقریرکرتے ہوئے آئی ایس آئی کے سربراہ پر عدلیہ پر اثر انداز ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔ اسی سال اکتوبر میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جسٹس صدیقی جج کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیاتھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے متفقہ طور پر قرار دیا تھا کہ ’راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں 21 جولائی 2018 کو ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر میں ایسا رویہ اختیار کیا جو جج کے عہدے کے شایان شان نہیں تھا، اس لیے وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہیں آئین کی شق 209(6) کے تحت برطرف کیا جائے‘۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ سامنے آنے کے تھوڑی ہی دیر بعد صدر عارف علوی نے جسٹس شوکت صدیقی کو ان کے عہدے سے فارغ کردیا تھا۔ اس طرح پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں شوکت صدیقی عہدے سے برطرف کیے جانے والے دوسرے جج بن گئے تھے۔ اس سے پہلے ایوب خان کے دور میں ایک جج اخلاق حسین کو سپریم جوڈیشل کونسل نے برطرف کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے جسٹس صدیقی کے خلاف برطرفی کو ناجائز قرار دیتے ہوئے انہیں ہائی کورٹ کے ریٹائر جج کی پنشن اور مراعات کا مستحق قرار دیا کیوں کہ وہ 62 سال سے زائد عمر ہونے کی وجہ سے اب جج کے عہدے پر بحال نہیں ہوسکتے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلہ میں شوکت صدیقی کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ روا رکھا گیا اور یہ قیاس کرلیا گیا کہ انہوں نے آئی ایس آئی پر جھوٹے الزام لگائے تھے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے الزامات کی تحقیق کیے بغیر انہیں مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا۔ اگر جسٹس صدیقی کی تقریر میں عائد الزامات درست تھے تو انہیں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والی غلطیوں کا راز فاش کرنے پر سزا دینا ناجائز ہوگا۔ لیکن اگر ان کے الزامات غلط تھے تب انہیں مس کنڈکٹ کی سزا دی جاسکتی تھی۔ البتہ الزامات کے حوالے سے کبھی حقائق سامنے نہیں لائے گئے۔
شوکت صدیقی کی اپیل منظور کرتے ہوئے فیصلہ میں سپریم کورٹ کے ججوں نے لکھا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ شوکت صدیقی نے ایک عام پلیٹ فارم سے آئی ایس آئی پر الزامات عائد کیے تھے۔ حالانکہ جسٹس صدیقی نے پورے ادارے پر نہیں بلکہ چند افراد پر مخصوص الزامات لگائے تھے۔ جوڈیشل کونسل کا یہ رویہ بھی درست نہیں تھا کہ سینئر عہدے پر فائز شخص ٹھیک ہی کہہ رہا ہے اور جونیر پوزیشن پر کام کرنے والا جھوٹا ہی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس صدیقی کو اپنے خلاف عائد الزامات کو غلط ثابت کرنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا ۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی جج کو مانسب انکوائری کے بغیر نکالنے سے عدلیہ کمزور ہوگی۔
اس فیصلہ نے ملکی سیاست اور عدالتی معاملات میں عسکری اداروں کے اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک ریڈ لائن کھینچی ہے۔ اگرچہ شوکت صدیقی کی اپیل پر غور کے دوران میں ان الزامات کی تحقیقات کروانے کا اہتمام نہیں کیا گیا اور نہ ہی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید کے بارے میں کوئی رائے دی گئی ہے لیکن یہ اصول البتہ ضرور طے کیا گیا ہے کہ ملک کا کوئی ادارہ یا طاقت ور شخص محض الزام تراشی کے ذریعے کسی جج کا منہ بند نہیں کرسکتا۔ نہ ہی سپریم جوڈیشل کونسل کو مناسب شواہد کے بغیر ججوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس فیصلہ سے عدلیہ کی پوزیشن مستحکم ہوگی اور باالوسطہ طور سے آزادی رائے کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی ہے۔ فیصلہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ملکی عدالتیں اسٹبلشمنٹ کے بارے میں فیصلے کرنے میں آزاد ہیں اور اس حوالے سے کوئی دباؤ قبول کرنے پر تیار نہیں ۔ اس سے پہلے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ٰ ہی کی سربراہی میں سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا فیصلہ بھی بحال کیا گیا تھا۔ حالانکہ اس معاملہ میں بھی عام طور سے یہ تاثر قائم تھا کہ کوئی عدالت عسکری قیادت کے بارے میں حساس فیصلے نہیں کرسکتی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے خوف کے اس حصار کو توڑ رہے ہیں۔ اسے موجودہ اسٹبلشمنٹ کی طرف سے حقیقت حال اور جمہوری سیٹ کا احترام کا رویہ بھی سمجھا جاسکتا ہے جو سیاسی منظر نامے پر پھیلائی گئی تمام تر مایوسی کے باوجود امید کی ایک کرن ثابت ہوسکتا ہے۔
البتہ سپریم کورٹ کو بھی اپنی حد تک اصلاح احوال کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کی فراہمی میں دیر نہ ہو اور ناجائز کارروائی کا شکار ہونے والے کسی شخص کو انصاف کے لیے سال ہا سال تک انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس حوالے سے حال ہی میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے اپنے ایک اختلافی نوٹ میں سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کی کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف شکایات و ریفرنس کے اندراج و سماعت کے طریقہ پر سوال اٹھائے ہیں ۔ 19 فروری کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے چار کے مقابلے میں ایک کی اکثریت سے قرار دیا تھا کہ کہ کسی جج کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی جج کے استعفیٰ یا ریٹائرمنٹ کی وجہ سے ختم نہیں ہوگی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے اس فیصلہ پر اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ماضی میں مرضی کی شکایات پر غور کرنے کا رجحان موجود رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے ججوں کے خلاف ان کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے کارروائی نہیں ہوسکی۔ سپریم جوڈیشل پروسیجر آف انکوائری مجریہ 2005 کے تحت چیف جسٹس کو سپریم جوڈیشل کونسل کے چئیرمین کے طور پر بے شمار اختیارات حاصل ہیں۔ یہ ان کی صوابدید پر ہوتا ہے کہ کس جج کے خلاف آنے والی شکایت پر غور کے لیے کب اجلاس بلایا جائے۔ ان حالات میں اس طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہوگا کہ وہ اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل کو کوئی واضح ہدایت جاری کرے۔ تاہم یہ توقع کی جاتی ہے کہ کونسل شکایات کے اندراج اور سماعت کے لیے مقرر کرنے کا کوئی منصفانہ طریقہ اختیار کرے گی۔ جسٹس رضوی نے خاص طور سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف شکایت نظرانداز کرنے کا حوالہ دیا۔
سپریم کورٹ اور ملک کی ہائی کورٹس سے ملک کا عام شہری انصاف کی توقع کرتا ہے۔ زیریں عدالتوں یا اہم اداروں کے ہاتھوں ناانصافی کا شکار ہونے والے لوگوں کی آخری امید اعلیٰ عدلیہ ہی ہوتی ہے۔ اسی لیے انتخابات میں دھاندلی سے لے کر سیاسی وابستگی کی بنا پر غیر قانونی کارورائیوں کے خلاف درجنوں معاملات عدالتوں کے سامنے آتے ہیں۔ ان حالات میں ججوں کا کردار شفاف ہونا چاہئے اور ان کے خلاف شکایت کی صورت میں اس پر فوری کارروائی کا کوئی طریقہ وضع کرنا بے حد ضروری ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا یہی مقصد ہے کہ وہ ججوں کے کردار پر اٹھائے ہوئے سوالات کا جواب فراہم کرے۔ البتہ اگر شکایات کا انبار لگا رہے گا اور سپریم جوڈیشل کونسل ان پر سماعت ہی نہیں کرے گی تو ججوں کو بھی یہی یقین رہے گا کہ وہ احتساب سے بچے رہیں گے۔ اگرچہ سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل نے حال ہی میں سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کے معاملہ میں غور کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ یا استعفیٰ کے بعد جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے بچنے کا راستہ مسدود کردیا ہے لیکن سپریم جوڈیشل کونسل کو اس حوالے سے زیادہ مستعدی سے کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کے اختلافی نوٹ میں کچھ پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نوٹ سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ ججوں کے خلاف شکایات پر غور کرنے اور ان کا احتساب کرنے کا کوئی مناسب اور فعال پیمانہ موجود نہیں ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مظاہر نقوی کیس کے بعد اب شوکت صدیقی کیس کے فیصلہ کے تناظر میں ججوں کے احتساب کے لیے قواعد وضوابط سخت کرنے چاہئیں تاکہ اگر کسی جج کو ناجائز طور سے نکالا نہ جاسکے تو کسی بدعنوان جج کو شکایات کے باوجود محض اس لیے کام کرنے کا حق بھی نہ دیا جائے کیوں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب نہیں کیا جاتا۔