دہلی کے وزیراعلیٰ کیجری وال کی درخواست ضمانت مسترد

  • ہفتہ 23 / مارچ / 2024

دہلی کی ایک عدالت نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے اور انھیں سات دنوں کے لیے مالی بدعنوانی کے انسداد کے ادارے ’انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ‘ (ای ڈی) کی تحویل میں دے دیا ہے۔

ای ڈی نے اروند کیجری وال کو دہلی شراب پالیسی میں مبینہ بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزام میں جمعرات کی شب دہلی میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ اسی کیس میں دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسو دیا اور عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ای ڈی نے تیلنگانہ کے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی بیٹی اور رکن اسمبلی کے کویتا کو بھی اس معاملے میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔

سماعت کے دوران ای ڈی نے کیجری وال کو مبینہ بدعنوانی کا ’سرغنہ‘ اور ’کلیدی سازش کار‘ قرار دیا۔ کیجری وال پر الزام ہے کہ وہ کالعدم شدہ شراب پالیسی وضع کرنے میں شامل رہے ہیں جس سے جنوبی بھارت کے شراب تاجروں کو مالی فائدہ ہوتا۔ ای ڈی نے جنوبی بھارت کے شراب کے تاجروں کو ساؤتھ لابی کہا ہے۔

الزام کے مطابق اس لابی نے عام آدمی پارٹی کو 100 کروڑ روپے رشوت دی تھی جس کا استعمال گوا اور پنجاب کے انتخابات میں کیا گیا۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ مالی بدعنوانی 600 کروڑ روپے سے زائد کی ہے۔ عام آدمی پارٹی اس الزام کی سختی سے تردید کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ای ڈی ابھی تک کچھ بھی کیش برآمد نہیں کر سکی ہے۔

عدالت میں سماعت کے دوران ای ڈی کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس وی راجو کا استدلال تھا کہ اروند کیجری وال اس معاملے میں براہ راست ملوث ہیں۔ کیجری وال کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ ای ڈی کے لیے کیجری وال کو گرفتار کرنا ضروری نہیں تھا۔ ان کے مطابق گرفتاری کا اختیار سب پر لاگو نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق ای ڈی کا یہ کہنا کہ اس معاملے میں پیسے کا لین دین ہوا ہے، وزیر اعلیٰ کی گرفتاری کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ وہ ان سے تفتیش کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ای ڈی کے پاس اپنے الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ای ڈی نے پوچھ تاچھ کے لیے کیجری وال کو نو مرتبہ سمن کیا تھا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر حاضر ہونے سے انکار کر دیا تھا کہ ای ڈی کا سمن غیر قانونی ہے۔ انہوں نے ای ڈی کے سمن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جس پر عدالت نے کہا کہ وہ گرفتاری پر روک نہیں لگا سکتی۔ اس کے بعد ہی انہیں جمعرات کی رات نو بجے گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتاری کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں کیجری وال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میری زندگی قوم کے لیے وقف ہے۔ اس کے فوراً بعد ان کی اہلیہ سنیتا کیجری وال نے ایکس  پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وزیر اعلیٰ اندر رہیں یا باہر وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کی زندگی قوم کے لیے وقف ہے۔

کیجری وال نے جمعے کو کہا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گے بلکہ وہ جیل سے حکومت چلائیں گے۔ انہوں نے سماعت کے موقع پر نشریاتی ادارے ’انڈیا ٹوڈے‘ سے کہا کہ میں اندر رہوں یا باہر حکومت وہیں سے چلے گی۔ قبل ازیں عام آدمی پارٹی نے بھی کہا تھا کہ کیجری وال گرفتاری کے باوجود دہلی کے وزیر اعلیٰ رہیں گے۔ کوئی بھی قانون انہیں جیل سے حکومت چلانے سے نہیں روکتا۔

ادھر ’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق تہاڑ جیل کے ایک سابق لا آفیسر سنیل گپتا نے کہا کہ کوئی بھی قیدی ہفتے میں دو بار میٹنگ کر سکتا ہے۔ اس طرح اروند کیجری وال کا جیل سے حکومت کی ذمہ داری انجام دینا مشکل ہوگا۔