ماسکو دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 115 ہوگئی

  • ہفتہ 23 / مارچ / 2024

روس کے حکام نے جمعے کی شب ماسکو کے مضافات میں کنسرٹ ہال پر دہشت گرد حملے میں ملوث چار مسلح افراد سمیت 11 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 115 ہو گئی ہے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کی ایف ایس بی سیکیورٹی سروسز کی جانب سے صدر ولادیمیر پوٹن کو آگاہ کیا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں چار دہشت گرد شامل ہیں۔ ان کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

روس کے حکام کے مطابق جمعے کی شب ہونے والے اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 115 ہو گئی ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں حملہ آوروں کی اندھا دُھند فائرنگ سے ہوئیں جب کہ بعد ازاں کنسرٹ ہال کو لگنے والی آگ سے بھی کچھ ہلاکتیں ہوئیں۔

روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ چار مشتبہ مسلح افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ یوکرین بارڈر کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے اور اُن کے یوکرین میں روابط تھے۔ حکام کے مطابق ان افراد کو حراست میں لے کر ماسکو منتقل کر دیا گیا ہے۔ روس نے حملے میں یوکرین کے ملوث ہونے سے متعلق کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔ تاہم یوکرین پہلے ہی اس حملے سے لا تعلقی کا اظہار کر چکا ہے۔

اسلامک اسٹیٹ گروپ (داعش) نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں نے اس حملے میں کئی افراد کو ہلاک اور زخمی کیا اور بحفاظت اپنے ٹھکانوں پر واپس پہنچ گئے۔

روسی قانون ساز الیگزینڈر کھنشٹین کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی میں فرار ہو رہے تھے جنہیں جمعے کی شب ماسکو سے تقریباً 340 کلو میٹر دُور برائنسک کے علاقے میں رکنے کا کہا گیا۔ لیکن وہ گاڑی بھگاتے رہے اس دوران گاڑی کا پیچھا کر کے چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ مشتبہ افراد کی گاڑی سے پسٹل، میگزین اور تاجکستان کے پاسپورٹ بھی ملے ہیں۔

جمعے کی شب یہ حملہ اس وقت ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد ماسکو کے مضافات میں کروکس سٹی کنسرٹ ہال میں جمع تھی۔ اس ہال میں سوویت یونین دور کے راک بینڈ نے بھی پرفارم کرنا تھا۔ خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھے ہیں اور اچانک فائرنگ کی آواز سن کر باہر کی جانب بھاگتے ہیں۔ اس دوران مسلسل فائرنگ اور لوگوں کی چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

ایک عینی شاہد نے 'رائٹرز' کو بتایا کہ اچانک ہمارے پیچھے گولیاں چلنے اور دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں۔ واقعے کے بعد ماسکو میں خون کا عطیہ دینے والوں کی قطاریں لگ گئیں، محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق واقعے میں 120 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ روس میں سنگین جرائم کی چھان بین کرنے والی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

امریکہ میں قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے بتایا ہے کہ امریکہ نے اس ماہ کے شروع میں ماسکو میں ایک منصوبہ بند دہشت گرد حملے کے بارے میں انٹیلی جینس جمع کی تھی جس میں ممکنہ طور پر بڑے اجتماعات کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ روس کو اس سے آگاہ کیا گیا تھا۔

روسی سلامتی کونسل کے سکریٹری نکولائی پیٹروشیف نے کہا ہے کہ ماسکو حملے کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے گی۔ سرکاری ٹی وی کی ایڈیٹر مارگریٹا سمونیان نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 143 افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں یہ اعدادوشمار کہاں سے ملے ہیں۔

ہزاروں افراد کی گنجائش کے حامل کنسرٹ ہال میں راک بینڈ میں ’پکنک‘ کا کنسرٹ تھا اور حملے کے بعد کنسرٹ ہال کے ایک تہائی حصے میں آگ لگ گئی اور چھت تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق کچھ لوگ ابھی بھی اندر موجود ہیں۔

دوسری جانب پاکستان، بھارت، امریکا سمیت عالمی برادری نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔