آئی ایم ایف پہ ختم، آئی ایم ایف سے شروع
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 23 / مارچ / 2024
اپنے زمانے کے مشہور و معروف استاد شاعر ابراہیم ذوق کا ایک شعر ضرب المثل کی طرح مشہور ہے:
اے ذوق دیکھ دخترِ رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
شاعرانہ تعلی اپنی جگہ لیکن انسان کی جبلت یہ ہے کہ ایک بار کسی علت کا عادی ہو جائے تو اس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ کسی شے کا نشہ ہو یا قرض کی مے یا آسان قرضوں کی لت، کوئی بھی ایک بار لگ جائے تو چھٹکارا بہت مشکل ہے۔
وطن عزیز کو آسان قرضوں کی لت یوں تو کافی پرانی ہے لیکن آہستہ آہستہ قرضوں کی آسان فراہمی مشکل سے مشکل تر ہوتی گئی۔ اور قرضوں کا حجم بڑھتا چلا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس پھرتی اور آسانی سے 20/ 30 سال پہلے آئی ایم ایف اور دنیا کے دوسرے قرض دینے والے اداروں سے بڑے بڑے قرض آسانی سے مل جاتے تھے، اب وہ عیاشی تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ لیکن کیا کیجئے کہ ملکی معیشت، حکمران طبقہ اور اشرافیہ کو آسان قرضوں کی لت لگی ہوئی ہے، اب کریں تو کیا؟ وقت گزارے کے لیےپچھلی دو دہائیوں کے دوران یہی صورت نظر آئی: پرانے قرض کی ادائیگی کے لیے نیا قرض اور اپنے جاری اخراجات، خساروں اور بیڈ گورننس کے حرجانے کے لیے مزید نیا قرض۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے قرضوں کے ایک پہاڑ کے ساتھ کئی پہاڑ کھڑے ہو گئے۔
یادش بخیر پی ڈی ایم کی حکومت اقتدار میں آئی تو سب سے پہلے اسے آئی ایم ایف کے ساتھ قرض پروگرام کی بحالی کا معرکہ درپیش تھا۔ بمشکل تمام اور سر بہ درد عوام وہ مرحلہ طے ہوا۔ پی ڈی ایم حکومت کا آخری کام بھی آئی ایم ایف کے ساتھ نئے عبوری قرض پروگرام کی تیاری اور منظوری کا بندو بست تھا۔ نئے قرض پر مبارک سلامت کے ساتھ پی ڈی ایم حکومت روانہ ہوئی تو نگران حکومت کا فرض اولین یہی تھا کہ جیسے بھی ہو آئی ایم ایف کے ساتھ نو ماہ کا عبوری پروگرام ہر صورت کامیاب کیا جائے۔
نگران حکومت اور کن کن اشاریوں میں کامیاب رہی، معلوم نہیں لیکن آئی ایم ایف پروگرام کی حد تک وہ ضرور کامیاب رہی کہ بخیر و عافیت پروگرام تقریباً مکمل کر دیا۔ اب ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ مزید ریلیز ہونے کے لیے آخری ریویو جاری ہے، امید ہے کہ یہ ریویو کامیاب ہو جائے گا۔
نئی اتحادی حکومت اقتدار میں آئی تو اتے ہی اس نے ببانگ دہل اقرار کیا کہ آئی ایم ایف کے نئے قرض پروگرام کے بغیر گزارا نہیں۔ خلاف معمول پہلی بار ن لیگ اسحاق ڈار کے علاوہ کسی نئے چہرے پر قانع ہوئی ۔ نئی مالیاتی ٹیم نے حلف اٹھاتے ہی یہ ہدف لے کر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔ البتہ عوام اور آئی ایم ایف کو یہ چتاونی بھی دے دی کہ اب کی بار مختصر یا عبوری قرض پروگرام سے کام نہیں چلے گا ۔ اس لئے حکومت وقت کھلے دل و دماغ کے ساتھ ایک طویل مدتی آئی ایم ایف قرض پروگرام کی خواہاں ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف بار بار قوم کو یہ بتانے میں کوشاں ہیں کہ ہر سطح پر طویل مدتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ البتہ انہوں نے یہ یاد دہانی نہیں کروائی کہ پچھلے 40 سالوں کے درمیان آج کا حکمران اتحاد ہی کسی نہ کسی شکل میں زیادہ تر برسر اقتدار رہا۔ یہ اصلاحات اس وقت کیوں نہ ہو پائیں؟ رات گئی بات گئی کہ مصداق پرانی باتیں کون یاد رکھے! اب یاد رکھنے کی یہی بات ہے کہ آئی ایم ایف کے بغیر گزارا نہیں اور وہ بھی ایک لمبے قرض والا پروگرام۔۔۔۔
دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سات سالوں کے دوران گلوبل معاشی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ یوکرائن جنگ کے بعد سپلائی چین میں بڑی بڑی تبدیلیوں کے سبب گلوبل مارکیٹ کے معمولات بدلے ہیں۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے ہاں معاشی نمو کے چیلنجز بہت بڑھ گئے ہیں۔ کہنا بہت آسان ہے کہ ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ چاہیے ۔ حکمران اشرافیہ کے لیڈرز یہ نعرہ پسندیدہ ترانے کی طرح اکثر کہتے نظر اتے ہیں لیکن ملکی معیشت کے خد و خال، اس کا بوسیدہ ڈھانچہ اور معیشت کے تمام کرداروں کا چلن اس امر کا گواہ ہے کہ پاکستان نے اپنی گلوبل ٹریڈ بڑھانے کے لیے پچھلے 30 سالوں کے دوران کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔ ایکسپورٹ باسکٹ لے دے کر ٹیکسٹائلز، لیدر اور چاول کی برآمدات پر اٹک کر رہ گئی ہے۔ دنیا بھر میں کیمیکلز ، انجینرئنگ، کمیونیکیشنز، جہاز رانی، سٹیل اور ان سے جڑی ہائی ٹیک ٹریڈ کا حجم کھربوں ڈالر تک ہے۔
گزشتہ 20 سالوں میں ابھرنے والی نئی معیشتوں مثلآ ویت نام، ترکی وغیرہ نے اپنی اپنی معیشت کے خد و خال ان نئی ٹیکنالوجیز پر استوار کیے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمی ٹریڈ میں ان کا غالب حصہ ہائی ٹیک ایکسپورٹ سے آتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی ایکسپورٹس تین چار لو ویلیو پراڈکٹس میں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ ایسے میں یہ نعرہ کہ ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ، خود پسندی کی سوا کسی کام کا نہیں۔ شاید اچھا نہ لگے لیکن یہ سوال بھی خود سے کرنے کی ضرورت ہے کہ ٹریڈ کے لیے ہمارے پاس ہے کیا؟
گزشتہ ایک سال کے دوران گاہے معدنیات کے ذخائر کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ کہ ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے یہ معدنیات ہی کافی ہیں، اور کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ شہرہ رہا کہ کئی دوست مالک ان معدنیات کے لیےسرمایہ کاری کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ لیکن پھر وہی۔۔ ۔۔ رات گئی بات گئی۔ اس دوران یہ ڈھنڈورا بھی خوب پیٹا گیا ، وقت کم اور مقابلہ سخت ہے، نقصان زدہ پبلک سیکٹر کارپوریشنز کو راتوں رات پرائیویٹائز کر کے جان چھڑا لینا ضروری ہے۔ پی آئی اے کا انتخاب کیا گیا، کم سے کم وقت میں یہ کاردارد سرانجام دینے کے لیے صبح و شام ایک کر دیا گیا۔ نگران حکومت کا اپنا دورانیہ مکمل ہو گیا لیکن پی ائی اے کا پرنالہ وہیں کا وہیں رہا۔
وطن عزیز میں پبلک سیکٹر کارپوریشنز کا معاملہ اس قدر سیدھا سادہ نہیں کہ یوں آسانی سے حل ہو جائے۔ ان پبلک سیکٹر کارپوریشنز کے بل بوتے پر سیاسی اشرافیہ نے اپنے اپنے وقت میں خوب سیاست چمکائی۔ ان کی سیاست تو پھلی پھولی تاہم قوم 700 سے ایک ہزار ارب روپے سالانہ حرجانے کی صورت میں ادا کر رہی ہے۔ کچھ یہی حال انرجی سیکٹر کا بھی ہے ۔ کس کس کا ذکر کریں، پنجابی زبان کا ایک محاورہ یاد اتا ہے جہیڑا بھنو لال اے ( یعنی تربوزوں کے اس ڈھیر میں جسے چیر کر دیکھو لال ہے)
ایک طرف ملکی معیشت کا یہ عالم ہے، دوسری طرف نئی حکومت کی ترجیحات کچھ یوں ہیں ، پنجاب میں نگہبان فوڈ پروگرام کے تحت 30 ارب روپے رمضان پیکج کی نذر ہو گئے۔ سندھ حکومت نے نوید دی ہے کہ وہ چند ہفتوں میں ڈیڑھ درجن نئی بسیں چلا کر عوام کو ریلیف دے گی۔
یہ سنے سنائے، آزمائے ہوئے سیاسی نسخے ہیں جن سے ماضی میں کوئی تبدیلی معیشت میں رونما ہوئی نہ اب ہونے کا امکان ہے۔ تاہم سیاسی استحکام سمیت جو مشکل کام ہیں حکومت اگر ان پر توجہ کر سکے اور پانچ سے سات سال پوری لگن کے ساتھ کوششیں جاری رکھے تو شاید معیشت اور گورننس میں کچھ بہتری آئے۔ ورنہ ماضی کی طرح ہر حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کے ساتھ ختم اور ہر نئی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام سے شروع ہوتی رہے گی۔