معزز خاتون کے خلاف ہراسمنٹ کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 23 / مارچ / 2024
مذہبی جنون کی ہر کوئی مذمت کرتا ہے۔ وہ بھی جو اس کے مرتکبین ہیں۔ ذرا ان سے بات کرکے دیکھیے یوں محسوس ہو گا کہ شاید وہ ہم لبر ل لوگوں سے بھی مذہبی جنونیت کی مخالفت میں دس ہاتھ آگے ہیں۔
ہر کوئی بولے گا کہ ہمارا مذہب دوسروں سے نفرت کرنا نہیں سکھلاتا، انسان اشرف المخلوقات ہے۔ ہمیں شرف انسانی کا تقدس بہرصورت ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ خواتین کا احترام کیا جائے۔ کسی کا دل نہیں دکھانا چاہئے۔ درویش کو آج تک زندگی میں کوئی ایک شخص ایسا نہیں ملا جو ان سب باتوں کو نہ مانتا ہو، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر رولا کیا ہے ؟
ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کسی پر بلاسفیمی کا سچا یا جھوٹا الزام لگنے کی دیر ہوتی ہے ہجوم اکٹھے ہو جاتا ہے جو لمحوں میں بلوے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ نفرت بھری آوازیں اٹھتی ہبں جو خوفناک نعروں سے آگے بڑھتے ہوئے پرتشدد حملوں تک چلی جاتی ہیں۔ زیادہ تر ان کا نشانہ ہماری کمزور ترین مذہبی اقلیتیں ہندو، مسیحی اور احمدی ہوتے ہیں یا پھر معاملہ اگر اسلام کے اندرونی فرقوں سے متعلقہ ہو تو شیعہ سینی، دیوبندی اور وہابی بھی ایک دوسرے کیلئے یہودوہنود سے بدترقرار پاتے ہیں۔ پہلے تو یہ فرقہ وارانہ مناظرے بازیاں اور لڑائیاں بکثرت ہوتی تھیں، اب ان کی جگہ زیادہ تر بلاسفتمی کے الزامات نے لے لی ہے۔ اس میں اہانت رسول ؐ و صحابہ کرام ؓ اور توہین قرآن کے الزامات نمایاں تر ہیں ۔
وقفے وقفے سے ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ کبھی چرچ جلائے جاتے ہیں اور کبھی مندر اور اکثر احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں یا مختلف النوع الزامات عائد کرتے ہوئے ان کمزور اقلیتوں کے افراد کو موت کے گھات اتار دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں اولیاء و صوفیاء کے ماننے والوں کو بالعموم قدرے معتدل خیال کیا جاتا تھا مگر جب سے ایک مخصوص تحریک پروان چڑھی ہے، یہ لوگ سب کو مات دے گئے ہیں۔ رشتوں اور قربتوں کا بھی کوئی پاس نہیں رہا۔ یہاں نوعمر طالبعملوں نے اپنے پروفیسروں کو بھی یہ کہتے ہوئے قتل کرنا لازم سمجھا ہے کہ وہ تو توہین مذہب یا توہین رسالتؐ کے مرتکب ہوئے تھے۔ یہ نعرہ بچے بچے کی زبان پر چڑھا دیا گیا ہے کہ من سبا نبیا فقتلوہ گستاخ رسول ؐ کی ایک ہی سزا تن سر سے جدا۔
گورنر سلمان تاثیر کا قتل کسے یاد نہیں جسے اس کے اپنے محافظ یا باڈی گارڈ نے گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ نوجوان و ذہین طالب علم مشعال خان کا اندوہناک سانحہ جسے اس کے اپنے ساتھی طالب علموں نے بے دردی و سفاکی سے تڑپا تڑپا کر مارا۔ اورپھر ایک بدقسمت سری لنکن پر جو قیامت ڈھائی گئی۔ یہ سب باتیں آج اس لئے یاد آ رہی ہیں کہ ہمارے لاہور کے وسط میں واقع اچھرہ کی بارونق مارکیٹ میں ایک معزز خاتون کو عربی خطاطی والے کپڑوں پر جس ہولناک ہراسمنٹ سے گزرنا پڑا۔ لمحوں میں سینکڑوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ نام نہاد علما یا مولوی صاحبان ہراسمنٹ کا ماحول پیدا کرتے ہوئے، ذرا شرم محسوس نہیں کر رہے تھے۔ دینی جذبے سے سرشار کئی نوجوان مارنے کے ارادے سے چاقو اور چھریاں لے کر وہاں پہنچ چکے تھے۔ اس لاچار خاتون کو کس قدر دہشت و وحشت کا سامنا تھا۔ توہین سے لبریز ذلت آمیز رویہ تھا جیسے چند متقی و شرعی لوگ اس پر خدا بنے کھڑے آرڈر فرما رہے تھے تم بیٹھی ہوئی کیوں ہے؟ کھڑی ہو جا۔ آواز ے کسے جا رہےتھے کہ اس نے قرآنی آیات کی توہین کی ہے ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔
نعرے لگائے جا رہے تھے کہ گستاخ کی ایک ہی سزا سر تن سے جدا۔ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا واقعی یہ انسانی سماج ہے یہ اتنے سارے لوگوں کے اذہان میں اتنی نفرت، اتنا زہر کس نےبھرا ہے ؟ شکر ہے اس بھیڑ میں کسی خدا ترس نے اسے ایک دکان میں پناہ دی اورپولیس کو بلا لیا اور پھر پولیس کی بہادر خاتون اسے حکمت اور سمجھ داری سے چادر میں لپیٹ کر بچا لے گئی۔ مگر تھانے میں پہنچ کر جس ذلت آمیز بے بسی میں اس سے معافی منگوائی گئی اور یہ اقرار کروایا گیا کہ میں فلاں حافظ صاحب کی عزیزہ ہوں میرا تعلق اہلسنت جماعت سے ہے انسانی حقوق کے لحاظ سے یہ کس قدر شرمناک اور قابل افسوس حرکت تھی ۔ کیا ان
پولیس والوں کو یا ہمارے طاقتوروں کو اپنی اس ذمہ داری کا احساس ہوا کہ جن بھیڑیوں نے یہ حرکت کی ہے انہیں قانون کے شکنجے میں لے کر نشان عبرت بنایا جائے تاکہ کل کلاں ہماری کسی اور معزز خاتون کے ساتھ اس نوع کی سفاکی روا نہ رکھی جاسکے ۔
سوشل میڈیا پر ایسی وڈیوز گردش کر رہی ہیں اگر 9مئی کے مرتکبین قابو کئے جاسکتے ہیں تو خاتون کے خلاف ہراسمنٹ کے ملزمان کی نشاندہی کیوں نہیں ہوسکتی ؟ سوشل میڈیا پر سب نے اس خوفزدہ خاتون کی تصاویر دیکھی ہیں اور وہ لباس بھی جو کویتی کمپنی کا تیار کردہ عرب میں ہر جگہ پہنا جاتا ہے۔ لفظ حلوہ کا مطلب خوبصورت اور میٹھا کے ہیں۔ یہی لفظ عربی کی خوبصورت خطاطی میں لکھا تھا جس کی توجیح یہ کی جا رہی ہے کہ اس سے اہل ایمان کے جذبات مجروح ہو گئے ہیں۔ کیونکہ انہیں مغالطہ لگا ہے کہ شاید یہ قرآنی الفاظ تھے۔ ایسی مسلمانی والے بھی ہیں جن کے نزدیک اس خاتون نے ایسا لباس زیب تن کیوں کیا جس سے مومنین کو اس امر کی غلط فہمی ہوسکتی تھی کہ مبادا یہ قرآنی الفاظ ہوں یعنی ان کے نزدیک اگر کوئی قرآنی لفظ ہوتا تو پھر یہ جو کچھ ہوا ہے یا وہ عورت قتل بھی ہو جاتی تو کوئی مضائقہ نہ تھا۔
اب شاید ایک نئی بحث بھی چھڑنے والی ہے کہ حج و عمرہ کرنے والے جو ہزاروں لاکھوں جائے نماز عرب شریف سے لاتے ہیں، ان پر خانہ کعبہ اور گنبد خضریٰ کی شبہ بنی ہوتی ہیں۔ ان کے اوپر کھڑے ہو کر لوگ نماز پڑھتے ہیں۔ پاؤں رکھتے ہیں یا چوکڑی مارکر بیٹھ جاتے ہیں تو کیا کل کو اس پر بھی ایشو نہیں اٹھ کھڑے ہو گا کہ یہ خانہ کعبہ اور گنبد رسول ؐ کی توہین ہے کیونکہ ایک حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ میں سبز گھاس پر چلنے کو گناہ سمجھتا ہوں اس لئے کہ اس کی مشابہت گنبد خضریٰ سے ہے۔ کل کلاں کالی چادروں یا کپڑوں کو بھی توہین سمجھا جاسکتا ہے کہ ان کی مماثلت غلاف کعبہ سے ہے ۔
اے میرے سادہ لوح پاکستانی مسلمانو تمہیں جو مذہبی بدہضمی ہو چکی ہے اس کی کوئی حدود نہ ہیں۔ بددیانتی میں تم اول ایوارڈ کے حقدار ہو لیکن مذہب سے تمہاری محبت کا کوئی کنارہ نہیں، حافظ صاحب نے خاتون پولیس آفیسر کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے جو پیغام دیا ہے خدا کرے کہ یہ بالفعل ان جنونیوں کو لگام دینے کا باعث بنے۔