یوم پاکستان اور غیر واضح مستقبل
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 23 / مارچ / 2024
پاکستان میں 23 مارچ کو یوم پاکستان منایا گیا۔ یہ بحث اپنی جگہ موجود رہے گی کہ اس دن کو یوم قرارداد پاکستان سے یوم پاکستان بننے میں کون سے عوامل کارفرما رہے۔ اور ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدہ شناخت اور مملکت کے بارے میں جو قرار داد 24 مارچ1940 کو منظور ہوئی تھی، اس کی یاد منانے کے لئے 23 مارچ کا کیوں انتخاب کیا گیا۔ بڑی تصویر میں یہ غیر ضروری مباحث ہیں لیکن تاریخ حقائق کے بارے میں غیر ضروری مغالطے پیدا کرکے کوئی راستہ ہموار نہیں ہوتابلکہ غلط فہمیوں اور شبہات میں اضافہ ہوتا ہے۔
مارچ 1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ نے جو مطالبہ کیا تھا ، اگست 1947 میں ہندوستان کی تقسیم ، اور دو ممالک کے قیام کی صورت میں اس کی تکمیل ہوئی ۔ اس طرح برصغیر میں پاکستان کے نام سے ایک نئی مملکت وجود میں آئی۔ مسلمانوں کو متحدہ ہندوستان میں اپنے مفادات اور شناخت کے بارے میں عدم تحفظ کا شدید احساس تھا جس کی بنیاد پر پاکستان کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔ اس موقع پر تاریخ کھنگالنے اور اس بحث کا موقع نہیں ہے کہ قیام پاکستان کا مطالبہ کس حد تک درست تھا اور یہ مقصد حاصل کرکے اس خطے میں آباد مسلمانوں کی کیا خدمت انجام دی گئی تھی۔
محمد علی جناح نے بھی پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا صدر منتخب ہونے کے بعد 11 اگست 1947 کوکی گئی تقریر میں ہندوستان کی تقسیم کے سوال پر اظہار خیال کیا تھا ۔ انہوں نے فراخ دلی سے مانا تھا کہ علیحدہ مملکت کے قیام کے حوالے سے دو رائے موجود رہی ہیں لیکن اب ہمیں اس اختلاف کو بھلا کر نئے ملک کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے ، جہاں سب شہریوں کو ان کے عقیدہ یا رنگ و نسل کی تخصیص کے بغیر مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔ قائد اعظم نے اسی تقریر میں یہ بھی فرمایا تھا کہ تاریخ ہی طےکرے گی کہ یہ فیصلہ کس حد تک درست تھا۔ جناح تحریک پاکستان کے ہراول دستے کی قیادت کررہے تھے، اس لیے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہم اپنی محنت و لگن سے اس ملک کو جنت نظیر بنا کر قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والوں پر واضح کریں گے کہ ہم نے درست فیصلہ کیا تھا۔
قیام پاکستان کے 77 سال بعد البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ خوش حال اور وسیع المشرب پاکستان کے بارے میں محمد علی جناح کا خواب شرمندہ تعبیر ہؤا ہے۔ دستور ساز اسمبلی میں پہلی تقریر کرتے ہوئے جناح نے امید ظاہر کی تھی کہ بدعنوانی، اقربا پروری اور امتیازی رویوں کو ختم کرکے ہم مل جل کر نئے ملک کو ترقی کی نئی منازل کی طرف گامزن کریں گے۔ ان کے الفاظ میں: ’ اگر ہم نے یہ بھلا کر کہ اس کا رنگ، نسل یا عقیدہ کیا ہے۔ اور ہم سب اول و آخر اس مملکت کے شہری ہیں اور اس حیثیت میں ہمیں مساوی حقوق حاصل ہیں اور ہم پر ایک سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہم نے اگر اس جذبے سے مل جل کر نئی مملکت کی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کیا تو بے پایاں ترقی ہمارا مقدر ہوگی‘۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ اہل پاکستان یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ تاہم اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا اس مقصد کو بھلا دیا گیا ہے یا پاکستان کی جغرافیائی حدود میں رہنے والے مرد و زن اب بھی یہ عزم رکھتے ہیں کہ وہ اس ملک کو بابائے قوم کے وژن، خواہش اور رہنما اصولوں کے مطابق ایک خوش حال ، کامیاب اور عوام دوست معاشرہ بنا کر دم لیں گے۔
اس حوالے سے سب سے بنیادی شرط تو یہ ہے کہ پاکستان کے وجود کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے اور تاریخ کے کمزور یابے بنیاد حوالے دے کر یہ مباحث شروع کرنے سے گریز کیا جائے کہ پاکستان کا قیام کس حد تک ضروری تھا۔ یا یہ کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کی بنیادی وجہ مسلم لیگ کی طرف سے مسلمانوں کے علیحدہ وطن کا قیام تھا۔ جیسا کہ محمد علی جناح نے بھی اعتراف کیا تھا کہ ان کے خیال میں ہندوستان کی تقسیم ہی درپیش مسائل کا بہترین حل تھا ۔ اور اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا۔ لیکن اس کے باوجود اس کا فیصلہ تاریخ ہی کرے گی۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ بانی پاکستان کہلانے والے شخص نے بھی قیام پاکستان کے سیاسی فیصلے کو پرکھنے کے لیے تاریخ ہی کو اصل کسوٹی قرار دیا تھا۔ ابھی تک جو حالات و واقعات ہمیں درپیش رہے ہیں اور جو منظر نامہ ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے، اس کی روشنی میں تو ابھی پاکستان کا تجربہ تاریخ کی میزان پر کامیاب ثابت نہیں ہوپایا۔ تاہم اقوام ، وقت کے دھارے میں جو سیاسی فیصلے کرتی ہیں انہیں تبدیل کرنے کا موقع انہیں نہیں ملتا۔ جیسے کہ پاکستان میں آباد لوگ اب یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ اسی پچاسی سال پہلے ان کے آبا و اجداد نے چونکہ پاکستان بنانے کی ’غلطی‘ کی تھی ، اس لیے اب اسے تبدیل کردیا جائے اور پاکستان کو اسی طرح ہندوستان کا حصہ بنا لیا جائے جو اگست 1947 سے پہلے موجود تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے کہ یہ اہل پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے کہ دسمبر 1971 میں جن غلطیوں کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہؤا اور اس میں سے بنگلہ دیش کے نام سے نیا ملک قائم کرلیا گیا، اس وقت کے دھارے کو تبدیل کرتے ہوئے اپنے دیرینہ ’بھائیوں ‘ کو ایک بار پھر ساتھ ملا لیا جائے۔
گزرا ہؤا وقت کبھی کسی قوم کو ماضی کے فیصلےتبدیل کرنے کا موقع نہیں دیتا لیکن وہ اسے مستقبل کا راستہ درست کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے نئے مواقع ضرور عطا کرتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ برصغیر کی تقسیم سے لے کر سقوط ڈھاکہ تک کے مباحث کوعلمی سطح تک محدود رکھا جائے اور اس بحث کو ملک کے ساتھ اپنی وابستگی اور اس ملک کی خود مختاری اور اکائی کے طور پر وجود کے ساتھ خلط ملط نہ کیا جائے۔ آگے بڑھنے کے لیے اپنے ہونے پر پورا یقین بے حد ضروری ہے۔ پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ 1947 کے بعد پیدا ہونے والی چار نسلوں کا وطن ہے۔ پاکستان میں رہنے والوں کی اکثریت قیام پاکستان کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔ کوئی سیاسی مباحثہ یا تاریخی تفہیم اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتی۔
تاریخ پڑھنے اور ماضی کے وقوعات کی درست تدریس کا مقصد گزرے وقت میں ہونے والی غلطیوں کی اصلاح نہیں ہوتا بلکہ ان سے سبق سیکھ کر مستقبل کو بہتر بنانے کی کاوش کی جاتی ہے۔ اہل پاکستان کو بھی اسی حوصلے اور ارادے سے آگے بڑھنا چاہئے۔ قیام پاکستان کے بارے میں جیسے دو آرا محمد علی جناح کے وقت میں موجود تھیں، وہ اس وقت بھی موجود ہیں۔ لیکن کسی رائے سے ملک کے ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ البتہ اگر اس خطے میں آباد لوگ ماضی کی غلطیوں پر اصرار کرتے رہیں گے اور بہتری کے لئے منزل کا تعین کرنے کا زاد راہ بہم نہیں پہنچائیں گے تو پھر مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لیں گی۔ پاکستان اور اہل پاکستان کو اس وقت اسی چیلنج کا سامنا ہے۔
پاکستان میں نظریاتی ہی نہیں بلکہ سیاسی تقسیم کی وجہ سے ترقی و خوشحالی کے مشترکہ اہداف حاصل کرنے کا مقصد داؤ پر لگا ہؤاہے۔ اس سال فروری میں ہونے والے انتخابات سے قومی یکجہتی کا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا بلکہ ان کے بعد تقسیم مزید گہری اور واضح ہوئی ہے۔ البتہ اس مرحلے پر کامیابی یا ناکامی کے پیمانے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی پارٹی یا فرد کی ناکامی کو پاکستان کی ناکامی کا نام نہ دیا جائے اور جو حکومت بھی ملک کی ترقی اور عوام کی بہبود کے لیے اقدام کرنا چاہتی ہے، اس کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں۔ اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ دھاندلی کو تسلیم کرلیا جائے بلکہ اس سے صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ دھاندلی یا ذاتی ناکامی و مشکلات کو پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ پاکستان کسی ایک گروہ یا کسی ایک رائے کے ماننے والوں کا ملک یا خواب نہیں ہے بلکہ یہ اس خطہ زمین پر آباد چوبیس پچیس کروڑ عوام کی آخری امید ہے۔ اس امید کو ختم کرنا کسی بھی پارٹی، گروہ یا لیڈر کے مفاد میں نہیں ہوسکتا کیوں کہ سب کا مفاد بالآخر اسی مملکت کے ساتھ وابستہ ہے۔
75 سال کے دوران میں یا اس سے بھی پہلے ہونے والی غلطیوں سے ضرور سبق سیکھا جائے لیکن ان غلطیوں کو نئی غلطیوں کا جواز نہ بنایا جائے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں یکے بعد دیگرے حکومتوں نے ملک میں انتشار اور تقسیم پیداکرنے کی غلطی تسلسل سے کی ہے۔ قائد اعظم نے یہی غلطی کرنے سے منع کرتے ہوئے عقیدے، رنگ و نسل اور ہمہ قسم تقسیم و تخصیص بھلا کر مل جل کر آگے بڑھنے کی تلقین کی تھی۔ لیکن پاکستان میں سیاسی مقاصد اور مختصر المدت اہداف حاصل کرنے کے لیے گروہی نفرت، مذہبی تعصب و انتہاپسندی کو ہوا دی گئی۔ اب ایک گروہ اگر یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اسے حق حکمرانی نہ ملا تو خدا نخواستہ ملک تباہ ہوجائے گا تو ایک دوسرا گروہ اپنا نظریہ اس ملک پر مسلط کرنے کے لیے ریاست اور اس کے اداروں و عوام کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہے اور دہشت گردی عام کی جارہی ہے۔ آگے بڑھنے کا راستہ کھوجنے کے لیے ان انتہاؤں سے گریز کی ضرورت ہے۔
قیام پاکستان کے موقع پر قائداعظم نے بدعنوانی اور اقربا پروری کو بنیادی علتیں قرار دیا تھا ۔ اس وقت تک یہ برائیاں نہ صرف یہ کہ معاشرے کے رگ وپے میں پیوست ہوچکی ہیں بلکہ اب ہر شخص یا گروہ ذاتی مالی مفاد کے لیے قومی مفادات کو نظر انداز کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا۔ یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے متعدد حکومتیں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور عوام کو اپنی استطاعت اور آمدنی کے مطابق ٹیکس ادا کرنے پر آمادہ کرنے میں ناکام ہیں۔ اس وقت ملک کی بقا کو معاشی احیا سے منسلک کیا جارہا ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوگا اگر اس ملک کا ہر شہری ذاتی مفاد یا نفع نقصان کو پس مشت ڈال قومی آمدنی میں اضافہ کے ایک نکاتی ایجنڈے کو کامیاب کروانے کے لیے کمربستہ ہو۔
پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا تھا۔ دوسری قوموں کی طرح اہل پاکستان کی راہ میں بھی نشیب و فراز آئے ہیں۔ لیکن آگے بڑھنے کا راستہ کبھی کھوٹا نہیں ہوتا۔ اگر اس ملک کے باشندے اب بھی کامیابی کا تہیہ کرلیں تو کوئی طاقت انہیں سرخرو ہونے سے نہیں روک سکتی۔