یو این سلامتی کونسل کا پہلی بار غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل میں امریکا نے قرارداد پر ہونے والی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جب کہ کونسل کے بقیہ 14 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ جنگ بندی کی قرارداد کو سلامتی کونسل کے 10 منتخب اراکین نے تجویز کیا تھا۔
لڑائی کے دوران اب تک 32 ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ جنگ بندی کے لیے بڑھتے عالمی دباؤ کے درمیان رمضان میں فوری جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی قرار داد پر امریکا نے ووٹنگ سے پرہیز کیا۔ قرارداد میں تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد میں غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے انسانی امداد کی ترسیل کو بڑھانے اور اس کو بہتر کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور انسانی امداد کی فراہمی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ہٹانے کے مطالبے کا اعادہ کیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کی رپوٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قراردادپر ووٹنگ ہوئی۔ سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
فوری جنگ بندی کی قرارداد سلامتی کونسل کے 10 رکن ممالک نے پیش کی جن میں الجزائر، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر شامل ہیں۔ دوسری جانب رفح میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں تیزی آگئی، کل سے اب تک مزید 107 فلسطینی شہید کر دیے گئے۔
الشفا، ناصر اور ال امل اسپتالوں کا محاصرہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے الشفا اسپتال میں بلڈوزروں اور ٹینکوں سے لاشوں کو روند ڈالا۔ شمالی غزہ میں امدادی سامان کے ٹرکوں کو آنے سے روک دیا۔ حماس کے جوابی حملے، الشفا اسپتال کے اطراف 3 صیہونی فوجیوں کو نشانہ بنایا اور متعدد ٹینکوں، فوجی گاڑیوں کو تباہ کر دیا۔ اسرائیلی شہر اشدود میں راکٹ حملے کیے۔
اسپین، مالٹا، آئرلینڈ، سلووینیا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے ان ملکوں کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اقدام علاقائی عدم استحکام بڑھائے گا۔