پولیس کلچر اور اخلاقیات
- تحریر بیرسٹر حمید بھاشانی خان
- سوموار 25 / مارچ / 2024
پاکستان میں نظام انصاف کے بارے میں آئے دن بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے۔ اس میں عام دلچسپی اس وقت بڑھ جاتی ہے، جب نظام انصاف کے حوالے سے پاکستان کی عالمی رینکنگ پر کوئی تازہ ترین رپورٹ آتی ہے۔
عموماً اس طرح کی عالمی رینکنگ میں پاکستان کے نظام انصاف کا نمبر بہت نیچے ہوتا ہے۔ اس باب میں کئی عالمی اداروں کی طرف سے اعدا دو شمار پیش کیے جاتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو دیکھ کر پاکستان کے اندر عدالتی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور عموماً عدالتی نظام کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے نظام انصاف کی حالت زار اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی عالمی رینکنگ میں عدالتوں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بات پاکستان پر بھی صادق آتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جیسے ملکوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا رول بھی بہت بنیادی ہوتا ہے۔ مگر منطقی اعتبار سے یہ تمام ادارے آئین و قانون کی روشنی میں عدالتوں کے تابع ہی ہوتے ہیں یا کم از کم آئین و قانون اور اصول کی روشنی میں یہ مانا جاتا ہے کہ ایسا ہی ہونا چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ نظام انصاف کی بات کرتے ہوئے عموماً عدالتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اور جب کبھی قانون کی حکمرانی یا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بات ہوتی ہے تو عدالتوں کی طرف ہی دیکھا جاتا ہے اور عدالتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بات ہوتی ہے تو آئین و قانون کی رو سے ان اداروں میں پولیس سر فہرست ہوتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا میں شاید ہی تیسری دنیا کا کوئی ترقی پذیر ملک ہو، جس میں پولیس کی کارکردگی اور عوام کے ساتھ ان کے سلوک پر عوام اور اداروں کو شکوہ نہ ہو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ادارے کو قانونی فرائض کی انجام دہی کے لیے براہ راست عوام کے ساتھ ڈیل کرنا پڑتا ہے۔ قانون کی حکمرانی، جرائم کی روک تھام، اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے پولیس کو عوام کے ساتھ براہ راست معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ملک کی اچھی یا بری کارکردگی کو اکثر اوقات عوام کے تاثرات کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ رائے عامہ پولیس کی کارکردگی اور عوام کے ساتھ ان کے سلوک کی عکاسی کرتی ہے، جس کا اظہار آگے چل کر عالمی رینکنگ میں بھی ہوتا ہے۔
دنیا میں پولیس کی رینکنگ اور اس ادارے کی اچھی یا بری کارکردگی کے حوالے سے مختلف عالمی ادارے، تنظیمیں، اور ریسرچ کرنے والے گروپ اپنے اپنے اعداد و شمار دیتے رہتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں کسی ملک کے لیے عالمی رائے عامہ تشکیل پاتی رہتی ہے۔ اس رائے عامہ کی روشنی میں بڑے بڑے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان میں کسی ملک میں سکونت اختیار کرنے، سرمایہ کاری کرنے یا سیر و سیاحت کے بارے میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان سب فیصلوں کا دارومدار کسی ملک کی امن و امان کی صورت حال اور قانون کی حکمرانی کی حالت پر ہوتا ہے۔
اس طرح کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق آج کل سب سے زیادہ بد عنوان، نا اہل قانون کی حکمرانی کے فقدان کے حوالے سے پہلے دس ملکوں کی فہرست میں پہلا نام کینیا کا آتا ہے۔ ان اعداد و شمار میں خود کینیا کی مقامی آبادی کے سروے کا نتائج بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس سروے کے مطابق اس ملک کے بانوے فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ کینیا میں پولیس قانون کی حکمرانی کو نظر انداز کرتی ہے، شہریوں سے رشوت لیتی ہے، اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قانون کے تقاضے پورے نہیں کرتی۔
بد ترین صورت حال والے ممالک کی اس فہرست میں پہلے پانچ نمبروں میں کینیا کے علاوہ برما، عراق، صومالیہ اور افغانستان کا نمبر آتا ہے۔ ان ممالک میں مشترک چیز جمہوری کلچر کی عدم موجودگی، قانون کی حکمرانی کا فقدان، رشوت، سفارش اور آمریت پسندی کے رجحانات کا غالب ہونا شامل ہے۔ اس فہرست کو مزید آگے بڑھا کر دیکھا جائے تو ان پانچ ملکوں کے بعد اس فہرست میں سوڈان، روس، پاکستان، ہیٹی اور میکسیکو جیسے ممالک شامل ہو جاتے ہیں۔
اس طرح اس باب میں پاکستان آٹھویں نمبر پر آتا ہے۔ اس تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو دنیا کی بہترین پولیس کی رینکنگ بھی مختلف اداروں اور تنظیموں کی طرف سامنے آتی رہتی ہے۔ اس رینکنگ کے مطابق اس وقت سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کو دنیا میں نمبر ایک قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس پولیس فورس کے اندرونی ڈسپلن کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ دوسری وجہ اس کی شفافیت ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ اس پولیس کے پاس ایک لچکدار نظام ہے، جس میں ہر طرح کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔
کینیڈین پولیس کو اس رینکنگ میں دوسرے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔ اس پولیس کو رائل مونٹ کینیڈین پولیس کہا جاتا ہے، جس کے پاس غیر معمولی کارکردگی کا سو سالہ تجربہ ہے۔ لیکن اس کے دنیا کی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر آنے کی وجہ اس کا پولیس کالج ہے، جہاں پولیس کو تربیت دی جاتی ہے۔ اس کالج میں پولیس کو قانون کے نفاذ اور عوام کی خدمت پر علمی اور عملی تربیت دی جاتی ہے۔ اس رینکنگ میں نیدرلینڈ کو تیسرے، فرانس کو چوتھے، جاپان کو پانچویں، امریکہ، آسٹریلیا، جرمنی، چین اور سویڈن کو بالترتیب چھٹے، ساتویں، آٹھویں، نویں اور دسویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
ان سب ممالک کے پولیس ماڈل تھوڑے بہت ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے کام کرنے کے طریقہ کار، ڈسپلن، اور تعلیم و تربیت میں تھوڑا بہت فرق بھی ہوتا ہے لیکن سب کا مشترکہ فوکس اور نقطہ ماسکہ قانون کی حکمرانی ہے، جس کا مقصد عوام کی خدمت کرنا اور ان کی حفاظت کرنا ہے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو بظاہر پوری دنیا میں عوام کی خدمت اور ان کی حفاظت پولیس کا بنیادی فرض قرار دیا جاتا ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے، جس کا مظاہرہ روز مرہ کی زندگی میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ہمارے ہاں رشوت، سفارش اور قانون کی حکمرانی کو نظر انداز کرنا تو عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ سر عام ایسے واقعات ہوتے ہیں، جن میں پولیس کو عام آدمی کے ساتھ انتہائی غیر انسانی اور بسا اوقات وحشیانہ سلوک کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ملک میں مخلتف حصوں میں اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں، جن کا اگرچہ اعلی سطح پر نوٹس لیا گیا اور ان واقعات میں ملوث اہل کاروں کو سزائیں بھی دی گئی ہیں۔ لیکن اس طرح کے ”کاسمیٹک“ اقدامات سے اس پولیس کلچر میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے، جس میں عوام کے ساتھ بد تمیزی، غیر قانونی حرکات اور تشدد جیسے واقعات عام ہیں۔
اس طرح کے کلچر کو لوگ انگریز سرکار یا نو آبادیاتی نظام کی دین قرار دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انگریزوں کو ہندوستان سے نکلے ہوئے پون صدی گزر چکی ہے، اور اس عرصے میں پولیس میں بھی بے شمار تبدیلیاں آئی ہیں۔ قواعد و ضوابط بدلے ہیں، مگر پولیس کے ساتھ ظلم، تشدد، رشوت ستانی، بد عنوانی، بد تمیزی کے جو تصورات جڑے ہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بلکہ ان چیزوں میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی درست ہے کہ نو آبادیاتی نظام کی بہت ساری باقیات ہیں، جن کا سامنا ہے، مگر سب سے بڑے بات پولیس کے مروجہ کلچر اور اخلاقیات میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کے بغیر بہتری کی توقع عبث ہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)