یوم جمہوریہ سے یوم پاکستان تک کا سفر
- تحریر یاسر پیرزادہ
- سوموار 25 / مارچ / 2024
آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو 23 مارچ ہے۔ 1956 میں آج کے دن پاکستان نے اپنا پہلا آئین منظور کیا تھا اور انگریز کے بنائے ہوئے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 سے جان چھڑوائی تھی۔ اسی لیے 23 مارچ کو ہم یوم جمہوریہ کہتے تھے۔
کیونکہ یہ دن ہمارے جمہوری سفر کے آغاز کی نشانی تھا، لیکن بھلا ہو خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا جنہوں نے اس کا نام تبدیل کر کے یوم پاکستان رکھ دیا کیونکہ ایک چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر کے دور میں یوم جمہوریہ منانا ایسا ہی ہوتا جیسے کسی misogynist کا عورت مارچ میں شرکت کرنا۔ ( اس مثال پر میں معافی چاہتا ہوں، جلدی میں اس سے بہتر کچھ نہیں سوجھا) ۔ المیہ یہ ہوا کہ پھر آج تک ہم 23 مارچ کو دوبارہ یوم جمہوریہ نہ کہہ سکے۔ ہمارے بچے اسکولوں میں یہی پڑھتے ہیں کہ 23 مارچ کو چونکہ قرارداد لاہور منظور ہوئی تھی (جو کہ درست بات ہے) اس لیے ہم یوم پاکستان مناتے ہیں، انہیں یہ کوئی نہیں بتاتا کہ یوم جمہوریہ سے یوم پاکستان کے سفر کے دوران اس مملکت پر کیا قیامت ٹوٹ گئی!
پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے 1949 میں ایک قرارداد منظور کی جسے قرارداد مقاصد کہتے ہیں۔ انڈیا نے اپنی قرارداد مقاصد پنڈت نہرو کی نگرانی میں 1946 میں ہی تیار کرلی تھی جبکہ ہم نے اسے بانی پاکستان کی رحلت کے بعد منظور کیا۔ ویسے تو یہ قرار داد ہم سب نے رٹی ہوئی ہے لیکن پھر بھی اس کے چیدہ چیدہ نکات دہرانے میں حرج نہیں کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی جسے عوام کے منتخب نمائندے اللہ کی متعین کردہ حدود میں رہ کر ایک مقدس امانت کی طرح استعمال کریں گے۔ مملکت کو جمہوریت، رواداری، آزادی، برابری اور سماجی انصاف کے اصولوں کے مطابق، جو اسلام میں دیے گئے ہیں، چلایا جائے گا۔ مسلمانوں کو اس قابل بنا دیا جائے گا کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات کے مطابق گزار سکیں اور اس بات کا اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنے کلچر کی ترویج کرنے میں آزاد ہوں۔
یہاں چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔ پہلا، قرار داد مقاصد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ دوسرا، کیا یہ قرار داد، جیسا کہ ایک طبقے کا ماننا ہے، ہمارے مسائل کی بنیادی جڑ ہے؟ تیسرا سوال، اگر یہ قرار داد آئین کا حصہ نہ ہوتی تو کیا آج ہمارا حال پھر بھی یہی ہوتا جیسا کہ ہے؟
انڈیا نے بھی ہماری طرح قرار داد مقاصد منظور کی تھی مگر کانگریس چونکہ سیکولر جماعت تھی لہذا اس قرار داد کا رنگ سیکولر تھا، اس میں یہ نہیں لکھا تھا کہ بھارت کو ہندو دھرم کے صدیوں پرانے جمہوری اور رواداری پر مبنی اصولوں کے مطابق چلایا جائے گا۔ پاکستان کو یہ قرار داد پیش کرنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہم نے ایک علیحدہ ملک ہی اس بنیاد پر حاصل کیا تھا کہ ’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ﷺ ‘ یعنی ہم ایک علیحدہ قوم ہیں، ہندو اکثریت کے ساتھ نہیں رہ سکتے لہذا مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنا اسلامی نظام قائم کر کے دنیا کو دکھائیں گے۔
اگر ہماری قرار داد بھی کانگریس کی طرح سیکولر ہوتی تو اعتراض اٹھتا کہ علیحدہ ملک بنانے کی کیا ضرورت تھی، کانگریس بھی تو وہی کہہ رہی ہے جو مسلم لیگ کہہ رہی ہے۔ پھر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کیوں بنائی! اس اعتراض کا جواب قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر میں مل جاتا ہے۔ یہ تقریر ہی اصل میں قرار داد مقاصد ہے، یہ آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں کی گئی، بانی پاکستان کی اس تقریر کے بعد آئین ساز اسمبلی کے پاس یہ گنجایش ہی نہیں تھی کہ وہ قائد کی تقریر میں بیان کردہ اصولوں سے انحراف کر کے ان کی وفات کے بعد کوئی ایسی قرارداد منظور کرتی جس کی حمایت میں کسی غیر مسلم رکن نے ووٹ نہیں دیا۔ اگر بانی پاکستان کہہ رہا ہے کہ ہندو اور مسلم کا مذہب اس کا ذاتی معاملہ ہو گا اور ریاست کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہو گا اور پوری آئین ساز اسمبلی ڈیسک بجا کر اس کی تائید کرتی ہے تو دو سال بعد کوئی ایسی قرار داد پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی جو مسلم اور غیر مسلم اراکین کے درمیان باعث نزع بنے۔
اگلے سوال پر آتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود یہ کہنا کہ قرار داد مقاصد ہی ہمارے تمام مسائل کی جڑ ہے، نا مناسب بات ہے۔ یہ درست ہے کہ اس قرار داد نے مذہبی پیشواؤں کو ایک قسم کا قانونی جواز فراہم کر دیا کہ وہ مذہب کی آڑ میں جب چاہیں کسی بھی قانون سازی کے خلاف فتویٰ دے دیں یا ریاست کو یرغمال بنا کر مفلوج کر دیں، مگر کیا یہ محض قرارداد مقاصد کی وجہ سے ممکن ہوا؟ میرا دیانتدارانہ جواب ہے کہ نہیں۔ دلیل کے لیے پیش ہے انڈیا کی مثال جہاں سیکولر قرارداد مقاصد منظور کی گئی مگر اس کے باوجود انڈیا کی اقلیتیں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہیں اور مودی کا انڈیا اب سیکولر نہیں ہندو ہو چکا ہے۔
اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ محض قرارداد مقاصد منظور ہونے سے بھارت یا پاکستان کے مسائل پیدا یا حل نہیں ہوئے بلکہ ان کی وجہ کچھ اور تھی۔ پاکستان کے معاملے میں یہ مسائل اس وقت گمبھیر ہونا شروع ہوئے جب عوام سے ان کا حق حکمرانی چھینا گیا، یہ مسئلے کی وہ بنیادی جڑ ہے جس کی وجہ سے ہم 23 مارچ کو یوم جمہوریہ نہیں مناتے۔ آخری سوال۔ اگر قرارداد مقاصد منظور نہ ہوتی تو کیا آج ہمارا حال مختلف ہوتا؟ میری رائے میں شاید ہمارا حال پھر بھی ایسا ہی ہوتا کیونکہ خرابی کی اصل جڑ وہی حق حکمرانی پر ڈاکا ہے۔ 1958 میں جب ملک میں پہلا مارشل لا نافذ کیا گیا تو اس دن سے آج تک ہم سنبھل نہیں پائے۔
انڈیا نے یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہونے دیا، ملک بننے کے بعد پنڈت نہرو 17 برس تک زندہ رہے جبکہ قائد اعظم کی وفات ایک سال بعد ہی ہو گئی۔ ہم کچھ بھی کہہ لیں، لیڈر بہرحال قوم کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ قائد اگر چند برس زندہ رہتے تو نہ قرار داد مقاصد اس شکل میں منظور ہوتی اور نہ ہی عوام سے ان کا حق حکمرانی چھیننا اتنا آسان ہوتا۔
ہم تاریخ پر ماتم تو کر سکتے ہیں مگر اسے تبدیل نہیں کر سکتے۔ مطالبہ پاکستان کی بنیاد پر ہی قرار داد مقاصد منظور کی گئی، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ پاکستان کی تمام اسمبلیوں نے اس کی توثیق کی، یہ بھی حقیقت ہے۔ یہ آئین کا حصہ ہے اور اسے تبدیل کرنا اب تقریباً نا ممکن ہے، لہذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب کیا کیا جاوے؟ یہاں مجھے معروف امریکی قانون دان Learned Hand یاد آ گئے، انہوں نے کہا تھا کہ (مفہوم) لوگ آئین، قانون اور عدالتوں سے کچھ زیادہ ہی امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں، یہ ایک قسم کا ڈھکوسلہ ہے۔ انصاف اور آزادی کی شمع انسان کے دل میں جلتی ہے، اگر یہ بجھ جائے تو پھر چاہے جیسا مرضی آئین بنا لیں، کوئی بھی قانون نافذ کر دیں، عدالتوں کی عمارتیں تعمیر کر کے وہاں جج بٹھا دیں، اس سے فرق نہیں پڑے گا۔
قرار داد مقاصد پر بعینہ یہی بات منطبق ہوتی ہے۔ آپ اسے آئین کا حصہ رہنے دیں یا حذف کر دیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے مودی کے انڈیا کو اس سے فرق نہیں پڑ رہا کہ ان کی قرار داد مقاصد میں کیا لکھا ہے۔ میری رائے میں بانی پاکستان کی 11 اگست کی تقریر کے بعد قرار داد مقاصد منظور کرنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی لیکن اب یہ آئین کا حصہ ہے تو ہم اس پر یہ تنقید تو کر سکتے ہیں کہ اس کی وجہ سے مذہبی پیشواؤں کو ریاست کو بلیک میل کرنے کا قانونی جواز مل گیا مگر اس مسئلے کے حل کے لیے ہمیں پھر عوام کے حق حکمرانی پر فوکس کرنا پڑے گا اور یہ سوچنا ہو گا کہ ہم آخر یوم پاکستان کو یوم جمہوریہ والی اصل شکل میں کب اور کیسے واپس لا سکتے ہیں!
(بشکریہ: ہم سب لاہور)