داسو ڈیم جانے والی گاڑیوں پر خودکش حملہ، پانچ چینی انجینئرز سمیت 6 افراد ہلاک

  • منگل 26 / مارچ / 2024

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں گاڑیوں کے ایک قافلے پر ہونے والے خود کش حملے میں پانچ چینی انجینئرز سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ قافلہ چینی انجینئرز کو لے کر داسو ڈیم جا رہا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق انجینئرز اور دیگر عملے پر مشتمل کئی گاڑیوں کا قافلہ اسلام آباد سے کوہستان جا رہا تھا کہ بشام کے قریب قراقرم ہائی وے پر اس کے قریب دھماکہ ہوا۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ریجنل پولیس افسر محمد علی گنڈا پور نے بتایا کہ چینی باشندوں کی گاڑی کے قریب ایک بارودی کار کے ذریعے دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں پانچ چینی باشندے اور ایک شہری ہلاک ہوگیا۔

بشام پولیس اسٹیشن میں موجود ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ 12 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ داسو ڈیم کی طرف جا رہا تھا کہ ایک بارود سے بھری گاڑی قافلے سے ٹکرائی جس سے ایک گاڑی میں سوار چینی انجینئرز ہلاک ہو گئے۔ دھماکے میں چینی باشندوں کے ڈرائیور کی بھی ہلاکت ہوئی ہے جو کہ مقامی شہری تھا۔

شانگلہ میں چینی انجینئروں کے قافلے کے فوری بعد وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی چین سفارت خانے پہنچے اور چینی سفیر کو دھماکے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی جامع تحقیقات کو یقینی بنا کر ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات پر حملہ ناقابلِ برداشت ہے۔ دو طرفہ تعلقات کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔

واضح رہے کہ داسو کے مقام پر ڈیم کی تعمیر کا پروجیکٹ جاری ہے۔ اس پروجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئروں پر ماضی میں بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ جولائی 2021 میں اپر کوہستان کے علاقے داسو میں ڈیم کی تعمیر کے دوران دہشت گردی کا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ اس حملے میں ڈیم کی تعمیر پر کام کرنے والے نو چینی انجینئرز سمیت 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی بس پر اس وقت مبینہ دہشت گردوں نے دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا تھا جب وہ رہائشی کیمپ برسین سے کام کی جگہ پر جا رہے تھے۔

اس واقعے کے بعد اپر کوہستان سمیت ملحقہ لوئر کوہستان اور گلگت بلتستان کے دیامیر چلاس میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی جب کہ چین سمیت عالمی بینک نے بھی اس واقعے کو افسوس ناک قرار دے کر حکومتِ پاکستان سے ملوث ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری اور سزا دینے پر زور دیا تھا۔