برطانیہ میں چیرٹی کا کاروبار
- تحریر فیضان عارف
- منگل 26 / مارچ / 2024
30 برس پہلے کی بات ہے میرے ایک دوست نے مانچسٹر سے ایک نوجوان کو لندن بھیجا تاکہ میں یہاں اس کی ملازمت کا کوئی بندوبست کروں۔ چند روز کی تگ و دو کے بعد اس نوجوان کو ایک فوڈ سٹور میں ملازمت مل گئی۔
یہ ملازمت محنت طلب تھی اس لیے دو ماہ بعد ہی نوجوان کا دل اس ملازمت سے اچاٹ ہو گیا اور وہ لندن چھوڑ کر برطانیہ کے ایک اور شہر نوٹنگم میں جا کر مقیم ہو گیا اور پھر چند برس بعد جب میری اس سے ملاقات ہوئی تو میں اس کی وضع قطع دیکھ کر حیران رہ گیا۔ مجھے یوں لگا جیسے میں کسی متمول اور خوشحال بزنس مین سے مل رہا ہوں۔ رسمی سلام دعا کے بعد میں نے استفسار کیا کہ آج کل کیا کر رہے ہو؟ تو وہ مسکرا دیا اور کہنے لگا کہ ایک چیرٹی آرگنائز کر رہا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ ذریعہ معاش کیا ہے تو اس نے مختصر ساجواب دیا کہ بتایا تو ہے ایک چیرٹی آرگنائزیشن چلا رہا ہوں۔
اس وقت پورے یونائیٹڈ کنگڈم میں ایک لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ چیرٹی آرگنائزیشن یعنی (خیراتی ادارے) موجود ہیں جن کی اکثریت چیرٹی کمیشن کے ساتھ رجسٹر ہیں۔ یہ تمام خیراتی ادارے ہر سال مجموعی طور پر تقریباً 17 بلین پاؤنڈ کی خطیر رقم یعنی ڈونیشن اور خیرات اکٹھی کرتے ہیں۔ ان خیراتی اداروں میں 3 ہزار سے زیادہ مسلم چیرٹی آرگنائزیشنز ہیں۔ برطانیہ کی سب سے بڑی چیرٹی سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل ہے جس نے گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً ایک ارب 31 کروڑ پاؤنڈز کے عطیات (ڈونیشنز) جمع کیے۔ یو کے میں رمضان کی آمد سے پہلے ہی مسلمانوں کے گھروں میں مختلف مسلم چیرٹی آرگنائزیشنز کے کتابچے اور لیف لیٹ ڈاک سے آنا شروع ہو جاتے ہیں بلکہ اب تو خواجہ غریب نواز کی درگاہ کے لیے عطیات کے لفافے بھی انڈیا سے برطانوی مسلمانوں کو ڈاک سے موصول ہونا شروع ہو چکے ہیں۔
برطانوی مسلمان چیرٹی یا خیرات دینے کے معاملے میں دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں زیادہ فراخ دل ہیں لیکن خیرات لینے والوں میں بھی دنیا بھر کے مسلمان ہی پہلے نمبر پر ہیں۔ برطانیہ کی 450 بڑی مسلم چیریٹیز ہر سال اربوں پاؤنڈز کے عطیات اور خیرات جمع کرتی ہیں۔ ایسی چیریٹیز یا خیراتی ادارے جن کے سربراہ برٹش پاکستانی ہیں، ان کا طریقہ کار ہی نرالا ہے۔ پہلے یہ چیریٹیز آرگنائزیشنز پاکستان میں فلاحی منصوبوں (سکولوں کی تعمیر، دور افتادہ علاقوں میں کنویں کھدوانے اور نلکے لگوانے، مساجد یا ڈسپنسریز بنانے) کے دعوے کرتی تھیں لیکن جب بہت سے مخیر حضرات (ڈونرز) نے تحقیق کی کہ کیا واقعی ان کے عطیات سے وہ تمام فلاحی کام ہو رہے ہیں جن کے دعوے کیے جاتے ہیں تو انہیں بہت مایوسی ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے ایسی چیرٹی آرگنائزیشن کی امداد کرنا بند کر دی۔ لیکن اب بھی بہت سے شاطر لوگ ایسے ہیں جو خود کو چیرٹی ورکرز کہتے ہیں لیکن یہ چیرٹی ٹائیکون اپنے خیراتی اداروں کے ذریعے ہر سال لاکھوں پاؤنڈ کے عطیات جمع کرتے ہیں اور انہیں دنیا بھر کے غریب ممالک میں امدادی کاموں پر خرچ کرنے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ برٹش پاکستانی ایسے ہی ایک چیرٹی ٹائیکون سے پوری طرح واقف ہیں جو مختلف ملکوں میں امدادی کاموں کے لیے روانگی سے پہلے مختلف ہوائی اڈوں سے اپنی تصاویر فیس بک پر شیئر کرتے ہیں۔ یہ چیرٹی ورکر جو خیر سے اب خود کو پیر صاحب بھی کہلوانے لگے ہیں، سال بھر میں جتنے غیر ملکی دورے کرتے ہیں ان پر اگر لاکھوں نہیں تو ہزاروں پاؤنڈز کے اخراجات خیرات میں دی جانے والی رقم سے ہی ادا ہوتے ہیں۔
ان صاحب کا واحد ذریعہ معاش بھی صرف ان کی چیرٹی آرگنائزیشن ہی ہے اور وہ خیرات میں ملنے والے عطیات کو پاکستان میں سیاسی اثر و رسوخ اور اپنی ذاتی تشہیر کے لیے بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور پاکستان کے بڑے بڑے سرکاری اعزازات (سول ایوارڈز) کے حصول کی تگ و دو میں ہلکان ہوتے رہتے ہیں۔ برطانیہ میں رجسٹر برٹش پاکستانیوں کی چیریٹیز وطن عزیز میں جتنے سکول کھلوانے، ڈسپنسریز اور ہسپتال بنوانے اور صاف پانی کی فراہمی کے دعوے کرتے ہیں، اگر ان کے تمام اعداد و شمار جمع کیے جائیں تو اب تک پاکستان کے ہر علاقے میں تعلیم، صحت اور صاف پانی کی دستیابی کا مسئلہ حل ہو جانا چاہیے۔ تاریخ اور حقائق اس سچائی کے گواہ ہیں کہ خیرات اور خیراتی اداروں کے ذریعے آج تک کوئی ملک اور قوم خوشحال نہیں ہوئی۔ خیرات کے ذریعے قوم بھکاری تو بن سکتی ہے خوددار اور خوشحال نہیں ہو سکتی۔
ملک کو فلاحی ریاست بنانا حکومت اور حکمرانوں کا کام ہوتا ہے جس کے لیے انصاف پر مبنی ایک نظام قائم کرنا پڑتا ہے جس کی بڑی مثال یونائیٹڈ کنگڈم ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ کسی قسم کی قدرتی آفات (زلزلے، سیلاب، قحط) کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ازالے میں چیرٹی آرگنائزیشن وقتی طور پر امداد فراہم کر سکتی ہیں۔ کئی برس پہلے مجھے رمضان میں پاکستان کے ایک بڑے ٹی وی چینل پر ایک چیرٹی اپیل کی میزبانی کا موقع ملا۔ اس چیرٹی اپیل کے لیے پاکستان سے ایک نامور گلوکار اور مشہور شخصیت کو لندن بلایا گیا تھا جن کی وجہ سے اس لائیو اپیل میں ہزاروں پاؤنڈز کے عطیات جمع ہوئے۔ پروگرام کے بعد معلوم ہوا کہ اس مشہور شخصیت نے (جنہوں نے بعد میں مذہبی لبادہ اوڑھ لیا تھا) اس اپیل میں شرکت کے لیے بزنس کلاس کی ریٹرن ٹکٹ اور لندن کے فائیو سٹار ہوٹل میں قیام کے علاوہ ہزاروں پاؤنڈز کا معاوضہ وصول کیا ہے۔ میں نے جب اس بارے میں چیرٹی آرگنائزیشن کے سربراہ سے استفسار کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مجبوری ہے۔ پاکستانی لوگ نامور شخصیات کی اپیل پر ہی عطیات اور خیرات دینے میں سخاوت کرتے ہیں۔
آج کل یو کے میں کئی چیرٹی آرگنائزر ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ٹی وی چینلز بنا لئے ہیں اور اِن چینلز پر دن رات چیرٹی اپیل کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ چینلز برطانیہ اور یورپ میں اپنی نشریات کے ابلاغ کے لئے ہر ماہ ہزاروں پاؤنڈز کی رقم برٹش ٹیلی کام، سکائی اور کیبل نیٹ ورک کو ادا کرتے ہیں اور یہ رقم بھی ڈونرز یعنی خیرات اور عطیات دینے والوں کی جیب سے جاتی ہے۔ ان میں سے بہت سے ڈونرز ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے شراب کے کاروبار کی کمائی سے عطیات دیتے ہیں۔ معلوم نہیں مسلم چیرٹی آرگنائزیشنز ایسے مخیر حضرات کی ڈونیشنز کو جائیز یا حلال سمجھتے ہیں یا نہیں؟ ان دنوں مختلف چیرٹی آرگنائزیشنز لندن میں بڑے بڑے ریسٹورانٹس اور مہنگے فنگشن ہالز میں چیرٹی ڈنرز کا اہتمام کرتی ہیں جن میں پاکستان سے نامور اداکاروں، شاعروں اور صحافیوں کو خیرات کی رقم سے بھاری معاوضہ ادا کر کے برطانیہ بلایا جاتا ہے۔ اور پھر ان کے نام پر مزید عطیات اور خیرات جمع کی جاتی ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستان سے ایک چیرٹی آرگنائزر لندن آئے۔ ان کے ایک قریبی دوست بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یہ صاحب پاکستان میں پرائمری تعلیم کے فروغ کے لیے سینکڑوں جدید سکول کھولنے کے دعویدار ہیں۔ پہلے یہ ایک بڑی سرکاری ملازمت کرتے تھے۔ میں نے ان کے قریبی دوست سے پوچھا کہ ان صاحب (چیرٹی آرگنائزر) نے اتنا بڑا سرکاری عہدہ کیوں چھوڑ دیا تو وہ مسکرا کر کہنے لگے کہ انسان وہی کام کرتا ہے جس میں اس کو زیادہ فائدہ اور نفع ہو اور پھر انہوں نے ستارۂ امتیاز اور پرائڈ آف پرفارمنس بھی تو حاصل کرنا ہے۔ میں حیران ہوا کہ ہمارے لوگ ایک تیر سے دو شکار کرنے میں کتنی مہارت رکھتے ہیں۔ چیرٹی ورک کو (چاہے وہ صرف دکھاوے کے لیے ہو) اب چالاک لوگوں نے برطانیہ اور پاکستان میں سرکاری اعزازات اور سول ایوارڈز کے حصول کا بھی آسان ذریعہ بنا لیا ہے۔ کئی برس پہلے میں نے چیرٹی آرگنائزیشنز کے ”کاروبار“ کے بارے میں ایک کالم لکھا تھا جس میں عبدالستار ایدھی کی بے لوث خدمات اور نمود و نمائش کی خواہش سے ماورا منصوبوں کا ذکر کیا تھا۔ اسی کالم میں ڈاکٹر طاہر القادری کی ایک تقریر کا حوالہ دے کر میں نے یہ بتایا تھا کہ چیرٹی (خیرات اور عطیات) دیتے وقت سب سے پہلے اپنے اہل خانہ پھر اپنے رشتہ داروں اور ان کے بعد اہل محلہ کو ترجیح دیں اور اگر ان تینوں ترجیحات میں سے کوئی بھی مستحق نہ ہو تو پھر کسی چیرٹی آرگنائزیشن کو عطیات، امداد اور خیرات دی جا سکتی ہے۔
لیکن اس کے لیے بھی پہلے یہ تصدیق کرنا ضروری ہے کہ آپ کی اس خیرات سے کسی اداکار، گلوکار، شاعر یا صحافی کو تو ادائیگی نہیں کی جائے گی یا کوئی چیرٹی آرگنائزر اس امدادی رقم کو اپنے غیر ملکی دوروں، ذاتی تشہیر اور سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کرے گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس رمضان میں اپنی حلال کمائی سے خیرات، عطیات، صدقات اور کوٰۃ دیتے ہوئے ان ترجیحات کو ضرور پیش نظر رکھیں گے۔ اللہ ہم سب کو راہ ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔