پارلیمنٹ یا ایس آئی ایف سی
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 26 / مارچ / 2024
ایسے لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کا مستقل فیصلہ ہے کہ ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کرنا جس سے عوام مستفید ہو سکیں۔ بلکہ ہم نے عوام سے ہر بات اور اپنا ہر کام پوشیدہ بھی رکھنا ہے۔ تاکہ عوام کو کچھ علم ہی نہ ہو سکے کہ ایوانوں اور طاقت کے مراکز میں ہو کیا رہا ہے۔
جس ملک کے ایوانوں اور طاقت کے مراکز کی زبان ہی اپنی نہ ہو، وہاں سے درست معلومات عوام تک کیسے پہنچ سکتی ہیں؟ شاید حکمران یہی چاہتے ہیں کہ عوام کو ہمیشہ اندھیرے میں ہی رکھا جائے۔ کوئی ایسا شعبہ نہیں، کوئی ایسا محکمہ نہیں اور کوئی ایسا ادارہ نہیں جہاں صرف اردو زبان چلتی ہو۔ اگر ہم نے ایسا ہی کرنا تھا تو پھر ملک کی قومی زبان اردو بنا کر بنگالیوں کو ناراض کرنے کی ضرورت کئا تھی۔ ملک کی قومی زبان انگریزی رکھ لیتے تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا اور ہم بھی دنیا کے ہر ملک میں آسانی سے اپنا تعارف کروا سکتے۔
کچھ عرصہ پہلے عمران خان کے دور میں کسی ٹی وی پر ٹاک شوچل رہا تھا جس میں ن لیگ سے تعلق رکھنے والی ایک ممبر اسمبلی بار بار یہ کہہ رہی تھی کہ عمران خان کی حکومت میں جی ڈی پی کم ہو گیا ہے تو اینکر نے پوچھ لیا کہ بی بی یہ تو بتاؤ کہ جی ڈی پی ہوتا کیا ہے۔ یا کس کا مخفف ہے؟ اب بی بی کو اس کا علم نہیں تھا۔ جس طرح پی ٹی آئی کی مقبول لیڈر اور ممبر قومی اسمبلی زرتاج گل کو کوویڈ 19 کا علم نہیں تھا۔ پھر مجھ ایسا عام اور کم علم کیسے سمجھ سکے گا کہ جی ڈی پی کس بلا کا نام ہے؟ ہم تو اس کا مطلب یہی سمجھتے ہیں کہ جنرل ڈویلپمنٹ پاکستان یعنی جی سے جنرل، ڈی سے ڈویلپمنٹ اور پی سے پاکستان۔ اگر کوئی پڑھا لکھا بندہ ہمیں یہ بتا بھی دے کہ یہ گرینڈ ڈومیسٹک پراڈکٹ کا مخفف ہے تو پھر ہم اس کے معانی کہاں تلاش کریں گے۔
ہمارے اصل حکمرانوں کی بھی ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ہر تین چار سال بعد کوئی نیا ادارہ بنا لیتے ہیں یا آئین اور قانون کو تروڑ مروڑ کر اپنی مرضی کا نظام متعارف کروا دیتے ہیں۔ جنرل ایوب صاحب بنیادی جمہوریت کا ماڈل لائے، جنرل ضیاء نے مجلس شوری بنا کر دور خلافت کی یاد تازہ کروا دی۔ پرویز مشرف نے اپنا بلدیاتی نظام دیا، نیب کا تحفہ دیا اور این آر او کی اصطلاح متعارف کروائی۔ جنرل ضیاء نے جہاد کی بنیاد ڈالی تو پرویز مشرف نے جہادیوں کے خاتمے پر داد سمیٹی۔ آج کل ہم ایس آئی ایف سی کا چرچا سن رہے ہیں۔ ہم یہ جانے بغیر کہ یہ کس کی ایجاد ہے، یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر سارے اختیارات اس اتھارٹی کے پاس ہیں تو پھر پارلیمنٹ کا کام کیا ہے۔ کیونکہ پارلیمنٹ سے منتخب ہونے والے وزیراعظم صاحب بھی فرما رہے ہیں کہ یہی اتھارٹی ملکی ترقی کی ضامن ہے۔
سپیشل انوہسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل یا خصوصی سرمایہ کاری سہولتی ادارہ ہے جو وطن عزیز میں معیشت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تمام بڑے فیصلے کرے گا تو پھر پارلیمنٹ کا کام کیا ہے۔ ہماری بدقسمتی سمجھیں کہ کسی بھی دور میں قومی اسمبلی جو عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کا اعلی ایوان ہے کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی ہے۔ 1985 سے 2018 تک صدر صاحب جب چاہتے قومی اسمبلی کو گھر بھیج دیتے تھے۔ پارلیمنٹ نے صدر کے اس اختیار کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کیا تو پھر کئی اور پراجیکٹ پر کام شروع ہو گیا جو ہنوز جاری ہے۔ اب نئی قومی اسمبلی اور حکومت بن چکی ہے تو ان کا کام ملک کا نظام بنانا اور چلانا ہے۔ پھر پارلیمنٹ سے بالا فیصلوں کی ضرورت کیوں کر محسوس کی جا رہی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اندر چند اہم وزارتوں پر غیر منتخب افراد کو بٹھانا، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت اہم مالی معاملات کو پارلیمنٹ سے باہر کسی دوسرے فورم کے سپرد کرنا، وزیراعظم صاحب کا اپنے وزرا کے ساتھ فوجی صدر مقام راول پنڈی یاترا پر جانا اور سپہ سالار پاکستان کی طرف سے بار بار اس بات کا اعادہ کرنا کہ ہم معاشی بحالی میں حکومت کی معاونت کریں گے، ہم حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں وغیرہ وغیرہ، کیا ثابت کرتا ہے؟
ادھر وزیراعظم صاحب بھی اٹھتے بیٹھتے باور کرواتے ہیں کہ پاک فوج ہماری پشت پر ہے۔ کیا حکومت کی پشت اس قدر کمزور ہے کہ فوج کے دھکے کے بغیر معاشی گاڑی کو کھینچنے سے معذور ہے؟ یا پھر حکومت کو پتا ہے کہ عوام اس کی پشت پر نہیں ہیں؟ ہمارے ناقص ذہن کے مطابق تو حکومت اور فوج دونوں کی پشت پر عوام ہی کی طاقت ہو تو وہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ عوامی حمایت اور قوت کے بغیر فوج اپنا اصل کام ملکی سرحدوں کا دفاع کر سکتی ہے نہ حکومت ملک کا کاروبار چلانے کے قابل ہو سکتی ہے۔ اگر موجودہ سیاسی اور فوجی قیادت کا خیال ہے کہ ہم عوامی رائے کو روند کر طاقت کے ذریعے اپنی مرضی کے فیصلے کر لیں گے تو انہیں تاریخ کے ساتھ ساتھ موجودہ دنیا کے حالات پر بھی ایک نظر دیکھنا ہوگا۔ دنیا کا ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں عوام کی تائید کے بغیر فوج نے کوئی جنگ جیت لی ہو یا کسی حکومت نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہوں۔ خود ہمارا ملک ایسے کئی تجربات سے گزر چکا ہے۔ لیکن نہ جانے کیوں ہمارے حکمران اس ملک کو تجربہ گاہ سے آگے نہ بڑھانے پر بضد ہیں۔
اگر ہماری فوجی قیادت اور نومنتخب حکومت ملکی معیشت کی بہتری اور پاکستان کو مشکلات سے نکالنے میں سنجیدہ ہیں تو پھر انہیں عوام پر اعتماد کرنا ہوگا اور عوام کو اپنی پشت پر کھڑا کرنے کے لیے عوامی رائے کا دل سے احترام کرنا ہوگا۔ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کے لیے 8، 9 اور 10 فروری کی تلخیوں کو ختم کیا جائے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں اور ان کو مکمل اعتماد میں لیں۔ جمہوری نظام ایک طرف کے پہیوں سے نہیں چل سکتا ہے۔ اس وقت ہماری حکومت اور فوجی قیادت بھلے اس بات کی گردان کرتے رہیں کہ ہم عوام کے ساتھ مل کر مسائل پر قابو پا لیں گے یا یہ کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ عوام کی بھاری اکثریت کا ملکی نظام سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔