گوجرانوالہ میں 9 مئی کیس کے 51 ملزمان کو 5، 5 سال قید کی سزا
گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو جلاؤگھیراؤ اور حساس تنصیبات پر حملے کے 51 ملزمان کو 5، 5سال قید کی سزا کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کی جج نتاشہ نسیم نے گوجرانوالہ سینٹرل جیل میں کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ واضح رہے کہ 9 مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد فسادات کے نتیجے میں نمایاں بے امنی دیکھی گئی تھی۔
گوجرانوالہ پولیس کے مطابق حملے میں ایک ایس پی سمیت 10پولیس اہلکار زخمی اور ایک شہری جاں بحق ہوا تھا۔ مظاہرین کی جانب سے 4گا ڑیاں بھی توڑی گئی تھیں۔
9 مئی کو تھانہ کینٹ پولیس نے ایس ایچ او مدثر بٹ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز سمیت 23 نامزد اور 100 نامعلوم افراد پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
9 مئی کو مشتعل افراد کی جانب سے ملک بھر میں مختلف مقامات پر عسکری تنصیبوں پر حملے، جلاؤ گھیراؤ اور مظاہرے کیے گئے تھے، اس دوران سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
خصوصی عدالت نے زذشتہ سال نو مئی کو راہوالی کینٹ چیک پوسٹ پر حملے کے مقدمے میں مختصر فیصلہ سنایا ہے۔ اس کے مطابق رکن پنجاب اسمبلی کلیم اللہ خان سمیت 51 ملزمان کو پانچ، پانچ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ یہ مقدمہ 9 مئی کو راہوالی کینٹ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد درج ہوا تھا۔ کیس کا تفصیلی فیصلہ ابھی جاری نہیں کیا گیا۔
فیصلہ عدالت کی جج مسز نتاشہ نسیم نےسنیچر کو مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد سنایا۔ ملزمان کا سینٹرل جیل گوجرانوالہ میں ٹرائل کیا گیا تھا اور فیصلہ بھی جیل کے کورٹ روم میں سنایا گیا۔ اس موقع پر جیل کے اندر اور باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
پی ٹی آئی کی قیادت و کارکنوں کی جانب سے نو مئی کو آرمی چیک پوسٹ راہوالی کینٹ اور پاکستانی فوج و پولیس اہلکاروں پر حملوں کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تھانہ کینٹ میں 10 مئی 2023 کو درج ہونے والے مقدمے میں ناجائز اسلحہ، قتل و دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں۔ مقدمے کے مدعی ایس ایچ او مدثر رفیق بٹ ہیں۔
مقدمے میں پنجاب اسمبلی کے رکن کلیم اللہ خان، پی ٹی آئی کے مقامی راہنماؤں جمال ناصر چیمہ، رضوان ظفر چیمہ، رضوان مصطفیٰ سیان، سابق ایم پی اے شبیر مہر سمیت 23 نامزد اور 400 نامعلوم افراد ملزم تھے جبکہ بعض ملزمان کو بعد ازاں شناخت ہونے پر مقدمے کی ضمنیوں میں نامزد کیا گیا۔
خیال رہے کہ 9 مئی حملوں میں راہوالی چیک پوسٹ کے قریب راشد مقبول نامی نوجوان جاں بحق ہوا تھا جوکہ پولیس رضاکار بتایا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق سرکاری گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی، ایس ایس پی انویسٹیگیشن، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت آٹھ افسران و اہلکاران زخمی ہوئے مقدمے میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔