دو بدو ....مگرکب تک؟

خلقت شہر کا عمومی مزاج ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اسے روز نت نئے تماشے کی طلب رہتی ہے۔  تماشا اس کا بنے یا اس کا ، اس سے خاص فرق نہیں پڑتا  لیکن تماشا ضرور ہو۔ بقول احمد فراز:

ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے

خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

سیاسی میدان میں گزشتہ کئی سالوں سے اس قدر رزم آرائی رہی ہے کہ تماشوں کا تسلسل کبھی ٹوٹا ہی نہیں ۔ بلکہ گزشتہ دو اڑھائی سال سے تو یہ سلسلہ جیسے ٹربو چارج ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے بعد پی ڈی ایم  کا دور بھی کچھ کم دلچسپ نہ تھا۔ الیکشن کی آمد ، انعقاد اور ما بعد الیکشن بھی یہ سلسلہ کہیں نہیں ٹوٹا ۔ 

تازہ ترین ہنگامہ خیز واقعہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کا خط، اس پر سپریم کورٹ فل کورٹ اجلاس ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی وزیراعظم سے ملاقات اور حکومت کا ایک انکوائری کمیشن بنانے کا فیصلہ۔۔۔ خلقت شہر اپنی اپنی مرضی کے مطابق ہر نئے تماشے کو اپنانے میں کوتاہی نہیں کرتی لیکن خلقت شہر کے ایک خاصے بڑے حصے پر اب تھکن کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں یعنی

fatigue

۔ تاہم جن کی توانائی اور طلب جواں ہے، ان کا عالم یہ ہے:

دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جان فراز

مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے

ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی کو کئی احباب بار بار 1970 کے الیکشن کے زمانے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اس زمانے میں پاکستان سے علیحدہ ہونے والے مشرقی پاکستان کے معروف ترین لیڈران سیاسی رزم آرائی کو کس نظر سے دیکھتے، اس رزم آرائی میں لازمی کسی کی جیت اور ہار پر ایک یا دونوں فریقوں کے اصرار نے حالات کو کہاں لا کھڑا کیا؟ سیاسی محاذ آرائی کے ہنگام مشرقی پاکستان کے لیڈرز کے نزدیک اس وقت پاکستان کے اہم ترین مسائل کیا تھے؟ اس کھوج میں معروف صحافی محمود شام کی کتاب رو برو ( پبلشر قلم فاونڈیشن لاہور) کو کھنگالنے کا موقع ملا۔ ان کے سوالوں کے جواب حیرت انگیز تھے۔ مزید حیرت یہ ہوئی کہ آج کی سیاسی محاذ آرائی میں بھی بنیادی مسائل تقریبا وہی ہیں۔

مولانا عبد الحمید بھاشانی مشرقی پاکستان کے معروف ترین لیڈرز میں سے ایک تھے۔ 1969 میں لیے گئے اس انٹرویو کے وقت ان کی عمر 87 برس تھی جس میں سے 29 سال جیل کی نذر ہوئے۔ مولانا عبدالحمید بھاشانی نے ابتدائی تعلیم بوگرہ اور بعد میں دارالعلوم دیوبند سے بھی تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے میں سیاست کا چسکا پڑ گیا۔ انٹرویو کے وقت 65 برس سے عملی سیاست میں تھے۔ تحریک خلافت، کانگریس کسان تحریک، مسلم لیگ اور عوامی لیگ سے مختلف وقتوں میں منسلک رہے ۔ انٹرویو کے وقت 11 برس سے نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک تھے۔ 

سوال کیا گیا اپ کے نزدیک پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک کیا ہے؟ مولانا نے جواب دیا اس وقت سب سے اہم مسئلہ وہ قحط ہے جو مشرقی پاکستان میں پڑ چکا ہے اور مزید پڑنے والا ہے۔ عام آدمی کو اپنی خوراک کا ایک چوتھائی بھی مشکل سے مل رہا ہے۔ خوراک کا مسئلہ اس وقت سب سے اہم ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ انتخاب  کے لیے آئینی بنیاد کی فراہمی ہے۔ ہم الیکشن چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں کہ اس دوران قحط سے لاکھوں ہم وطنوں کی جانیں چلی جائیں۔

 

 سمگلنگ کے سلسلے میں مولانا نے انکشاف کیا کہ مشرقی پاکستان کی سرحدوں سے مفاد پرست عناصر ضرورت کی سب چیزیں بھارت کو سمگل کر رہے ہیں۔ آلو ، پیاز ، گائے، بکری کی کھال، سب کچھ بھارت سمگل ہو رہا ہے ، رشوت دیتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ جن افسروں میں حب الوطنی کا جذبہ نہیں وہ اس کے علاوہ کریں بھی تو کیا۔ کہنے لگے کہ ملک پر بیوروکریسی کی مضبوط گرفت وغیرہ کچھ نہیں، وہ لوگ بھی اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ وہ مضبوط نہیں ۔ انہیں معلوم ہے کہ جڑ مضبوط نہیں تو درخت کیسے مضبوط ہوگا ۔ جڑ مزدور اور کسان ہے، وہ روز بروز کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ کسان کی حالت بھی  پتلی ہے۔ انسان اور مزدور کمزور ہوگا، تعلیم یافتہ کمزور ہوگا تو ملک بھی کمزور ہوگا۔

فضل القادر چوہدری مشرقی پاکستان کے ایک اور نمایاں سیاسی لیڈر تھے۔ چٹاگانگ میں پیدا ہوئے، تعلیم کلکتہ میں حاصل کی۔  قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔  سیاسی زندگی کی ابتدا سے مسلم لیگ میں ہی رہے ۔ قیام پاکستان کے لیے نہایت سرگرمی سے کام کیا۔ انہیں اس بات پر فخر تھا کہ میں شروع سے مسلم لیگ سے وابستہ ہوں اور  اج تک کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

سوال کیا گیا (1969 میں انٹرویو ) کہ پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک کیا ہے جواب ملا قومی یکجہتی!  اور اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔ پوچھا گیا یہ قومی یکجہتی کیسے حاصل ہو؟ کہنے لگے تاریخ عالم اس بات کی شاہد ہے کہ ہوس پرست سامراجی طاقتوں نے پہلے ثقافتی میدان میں فتح حاصل کی اور اس کے بعد وہ جغرافیائی تسخیر میں کامیاب ہوئے۔ ائیندہ جو کوئی بھی بر سر اقتدار آئے،  اسے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ثقافت اور تمدن نہایت اہم میدان ہیں۔ ہماری ثقافت اور تہذیب کی دوسری ثقافتوں سے شدید جنگ جاری ہے۔ یہ لڑائی ہم نے ہاری نہیں ہے لیکن تاخیر بہت ہو چکی ہے۔

بیوروکریسی کے بارے میں سوال پر جواب دیا: ملک میں اگر حقیقی معنوں میں جمہوریت ہو تو طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور پارلیمنٹ اصل اختیارات کی مالک۔  بیوروکریٹس نے اگر پوری طرح عوامی خدمت کے اپنے فرائض انجام نہ دیے تو بیوروکریسی کے ذریعے بلیک میلنگ کبھی ختم نہ ہو سکے گی۔ انتظامیہ میں بدعنوانیوں کا سب سے بڑا سبب بھی یہی ہے۔ سیاست دانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے جب تک انہیں عوام کا اعتماد حاصل ہے، اسی وقت تک وہ حکومت چلا سکتے ہیں۔ جونہی اعتماد انہوں نے کھویا، حکومت ان کے بس میں نہیں رہے گی ۔ اگر اس کے بعد بھی وہ کرسی اقتدار کا حوصلہ بڑھائیں گے تو ملک بیوروکریٹس کے رحم و کرم پر ہوگا اور انہیں اپنی من مانی کرنے کا موقع مل جائے گا۔۔۔ اور یہ سب کچھ سیاست دانوں کی اپنی کمزوری سے ہوتا ہے۔

شیخ مجیب الرحمن کے انٹرویو میں ایک خوبصورت تذکرہ آپ کی دلچسپی کے لیے۔ سوال کیا گیا، سنا ہے آپ کی صدر ایوب سے خفیہ ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں ؟جی ہاں، میں جیل میں ان سے خفیہ ملاقاتیں کرتا رہا۔ کمال کے لوگ ہیں یہ،  میں تو جیل میں پڑا تھا اور یہ آزاد تھے، ملاقات کا موقع انہیں مل سکتا تھا یا مجھے!

سوال کیا گیا ( انٹرویو 1969 میں) پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک کیا ہے ؟ کہنے لگے ایک نہیں دو مسئلے ہیں۔ ایک آئینی اور دوسرا اقتصادی۔ انہیں الگ الگ نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک مشرقی اور مغربی پاکستان کے عوام کا تعلق ہے وہ ایک ہیں۔ انہوں نے قیام پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں، ہم ایک ساتھ جیں گے ایک ساتھ مریں گے۔ ہم اگر مشرقی پاکستان کے لیے علاقائی خود مختاری مانگتے ہیں تو یہ مطالبہ ہم مغربی پاکستان کے لیے بھی کرتے ہیں۔

یہ چند نمونے 1970 کے الیکشن سے ایک سال قبل کے سیاسی ماحول کی غمازی کرتے ہیں سیاسی تفریق اور دوریاں تیزی سے بڑھ رہی تھی. مگر بعد میں حالات نے یوں پلٹا کھایا کہ ملک دو لخت ہو گیا۔

پاکستان کا موجودہ سیاسی عدم استحکام ماضی کی بہت سی انتظامی اور سیاسی بداعمالیوں اور غلطیوں کا ثمر ہے۔ اس وقت بدلتے ہوئے حالات اور سوشل اور مین سٹریم میڈیا کی موجودگی میں سیاسی افراتفری کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اپنا اپنا سیاسی سچ ہے اور اس پر ہی اصرار۔  تاہم سیاسی عدم استحکام کا یہ دراز ہوتا ہوا سلسلہ عوامی مسائل سے گریز کا باعث بن رہا ہے۔ ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے۔ بے روزگاری، کاروبار میں مندی، مہنگائی، امن و امان کی دگرگوں صورتحال اور  دہشت گردی کی اٹھتی نئی لہر۔۔۔ یہ سب کچھ عوام کی زندگی کو مشکل سے مشکل تر بنائے ہوئے ہیں۔ سیاسی گرما گرمی اپنی جگہ لیکن بقول جوش ملیح ابادی:

وہ حبس ہے کہ کو کی دعا مانگتے ہیں لوگ