اسلام آباد ہائی کورٹ سے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی ضمانت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو توشہ خانہ کے مقدمے میں دی گئی سزا کو معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاورق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی طرف سے اس مقدمے میں احتساب عدالت کی طرف سے دی گئی سزا کی معطلی کی درخواستوں کی سماعت کی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اس سال جنوری کے آخر میں توشہ خانہ مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے عمران خان کو کوئی بھی سرکاری عہدہ رکھنے پر دس سال کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ مجرمان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالت نے توشہ خانہ کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے نہ صرف جلد بازی کا مظاہرہ کیا بلکہ حقائق کو بھی سامنے نہیں رکھا۔
انہوں نے کہا کہ رات گئےتک اس مقدمے کی سماعتیں ہوتی رہی ہیں۔ اس سے پہلے مجرمان کے وکیل نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل بھی سماعت کرلیں جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ کیا آج یہ اپیل سماعت کے لیے مقرر ہے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ یہ اپیل سماعت کے لیے مقرر نہیں ہے۔ عدالت نے بیرسٹر علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس اپیل پر سماعت نہیں کریں گے اور اگر وہ سزا کی معطلی کے بارے میں دلائل دینا چاہیں تو دے دیں۔
بینچ میں شامل جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس مقدمے میں نیب اپنا کوئی موقف پیش کرنا چاہتا ہے جس پر نیب کے پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انہیں سزا کی معطلی پر کوئی اعتراض نہیں ہےلیکن اپلیں ابھی نہیں سنی جاسکتیں۔ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سزا کے ساتھ ساتھ سزا کا فیصلہ بھی معطل کر دیں جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ابھی اس کو چھوڑ دیں۔
عدالت نے نیب کے پراسیکوٹر کے بیان کے بعد مجرمان کی سزا معطلی کےخلاف درخواستیں منظور کرلیں۔ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطلی کے باوجود سابق وزیر اعظم جیل سے باہر نہیں آسکیں گے کیونکہ وہ سائفر کے مقدمے میں قید ہیں جبکہ ان کی اہلیہ بشری بی بی کو عدت والے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نیب کے ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں انہوں نے ضمانت کروا رکھی ہے۔