جسٹس(ر) جیلانی کی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی سے معذرت، سپریم کورٹ کا از خود نوٹس
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کی جانب سے عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے خط پر جسٹس (ریٹائرڈ) تصدق جیلانی نے انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے چھ ججز کے خط کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دیے جانے کے کچھ دیر بعد یہ پیش رفت سامنے آئی۔ واضح رہے کہ 30 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے الزامات پر ایک رکنی انکوائری کمیشن بنانے کی منظوری دے دی گئی تھی۔ اور جسٹس (ر) تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
وفاقی کابینہ کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اجلاس نے 25 مارچ 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ معزز جج صاحبان کی جانب سے لکھے گئے خط کے مندرجات پر تفصیلی غور کیا۔
اس دوران پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مبینہ مداخلت کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے سات رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس جمال خان مندوخیل، اطہرمن اللہ، مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل سات رکنی بینچ بدھ سے مقدمے کی سماعت کرے گا۔
یاد رہے اتوار کو پاکستان بھر کے 300 سے زائد وکلا نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کو لکھے گئے ایک خط میں زور دیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت خفیہ اداروں کی طرف سے عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کا نوٹس لے۔ وکلا کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ تمام دستیاب ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دے کر اس معاملے کی سماعت کرے اور مفاد عامہ کے اس معاملے کی عدالتی کارروائی کو عوام کے لیے براہ راست نشر کیا جائے۔
یاد رہے کہ 26 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین کو ایک چونکا دینے والا خط لکھا تھا جس میں ان کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے ذریعے ججوں پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے بارے میں کہا گیا تھا۔ خط پر ججز محسن اختر کیانی، طارق محمود جہانگیری، بابر ستار، سردار اعجاز اسحاق خان، ارباب محمد طاہر اور سمن رفعت امتیاز کے دستخط تھے۔
ایک دن بعد، مختلف حلقوں سے تحقیقات کے مطالبے سامنے آئے تھے اور اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے ججوں کا فل کورٹ اجلاس طلب کیا تھا۔ واضح رہے کہ جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کی تھی جہاں دونوں نے کابینہ کی منظوری کے بعد عدالتی امور میں مداخلت کے خدشات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا۔
ہفتہ کو وفاقی کابینہ نے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کے قیام کی منظوری دی جو الزامات کی تحقیقات کرے گا اور فیصلہ کرے گا کہ آیا یہ الزامات درست ہیں یا نہیں