نظام بدلنے میں کیا رکاوٹ ہے؟
- تحریر مختار چوہدری
- سوموار 01 / اپریل / 2024
ہمارا ملک پاکستان گوناگوں مسائل کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ اور یہ کوئی پہلا یا آخری ملک نہیں ہے جسے مسائل نے گھیر رکھا ہے اور نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔
اس دنیا کے معرض وجود میں آتے ہی مسائل بھی سامنے آ گئے تھے۔ آدم علیہ السلام کے بیٹے کا بھائی کے ہاتھوں قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے پیدا ہوتے ہی مسائل کا جنم بھی ہو گیا تھا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مسائل پیدا کرنے والے انسان ہی ہیں اور مسائل کا حل بھی انسانوں ہی کے پاس ہوتا ہے۔ انسانی تاریخ پر غور کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے نظام بھی آتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالٰی نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے جتنے انبیا علیہ السلام بھیجے اور ان میں سے کئی ایک پر اپنے پیغامات پر مشتمل کتب ارسال فرمائیں۔ ان میں سے ہر ایک میں ایسا نظام ہوتا تھا جو اپنے وقت کے مطابق مسائل کا حل لیے ہوتا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی نظام بنائے بغیر مسائل کا حل ناممکن ہوتا ہے۔ نظام ہوتا کیا ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پانی کی ایک خاص مقدار پہنچانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اگر ہم بالٹیاں بھر بھر کر اس رخ پر پانی بہاتے رہیں جدھر پانی بھیجنا مقصود ہے تو کئی ماہ لگ جائیں گے۔ پانی وہاں تک نہیں پہنچے گا، کیونکہ وہ پانی خود رو طریقے سے ادھر ادھر پھیلتا رہے گا۔ کچھ زمین پی جائے گی اور کچھ پانی راستے خراب کر کے مزید خرابی پیدا کرے گا۔ لیکن اگر ہم اس پانی کو اس کے مقام تک پہنچانے کے لیے ایک نظام یا ایک طریقہ کار بنا لیں اس کے لیے ایک پائپ لائن کا استعمال کریں تو پھر پانی کا ایک قطرہ ضائع ہوئے بغیر منٹوں میں اپنی جگہ پہنچ جائے گا۔ اور اگر راستے میں کہیں کچھ پانی نکالنا مطلوب ہو تو اس کے لیے ٹونٹی لگائی جا سکتی ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے اپنے ملکی مسائل کو سامنے رکھ کر اپنے نظام بنا رکھے ہیں جن میں بوقت ضرورت تبدیلیاں بھی کی جاتی رہتی ہیں۔ لیکن ہماری بدقسمتی سمجھیں کہ ملک کو معرض وجود میں آئے 77 برس ہونے کو ہیں مگر ہم اپنے ملک میں کوئی منظم منصوبہ بندی کر سکے، کسی پالیسی کا تسلسل قائم رکھ سکے نہ کوئی ایسا نظام بنا سکے جس کے تحت وسائل اور پیدوار میں اضافہ ہوتا اور وسائل کی درست تقسیم سے ملک میں خوشحالی آتی۔ ہر آنے والی حکومت اور حکمرانوں نے وقتی اقدامات پر اکتفا کیا، سیاسی جماعتیں انتخابات سے پہلے جو نعرے لے کر آتی ہیں، جو منشور پیش کرتی ہیں اور جو وعدے کرتی ہیں ان پر بھی عمل نہیں کرتیں۔ اور حکومت میں آتے ہی بدل جاتی ہیں جیسے کہ ان کو احکامات کہیں اور سے ملتے ہوں۔
اس ملک میں آمریت بھی رہی اور جمہوریت بھی آتی جاتی رہی لیکن کسی نے بھی ملک کو درست سمت دینے کی کوشش نہیں کی۔ سب صرف وقتی اقدامات سے کام چلاتے رہے۔ صدر ایوب، جنرل ضیا الحق اور پرویز مشرف نے بالتریب 11،10 اور 8 برس تک بلاشرکت غیرے اقتدار اپنے پاس رکھا مگر ملک کو کوئی نظام نہ دے سکے۔ بلکہ سب نے اپنے اقتدار کو طول دینے والے اقدامات سے ہی کام چلایا۔
موجودہ دنیا کا بہترین نظام پارلیمانی جمہوریت ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک نے جمہوریت ہی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں جمہوری نظام بھی مضبوط نہ ہو سکا۔ ہمارے وزیراعظم کہتے رہتے ہیں کہ یہ ہونا چاہیے، وہ ہونا چاہیے، ایسے ہونا چاہیے، ویسے ہونا چاہیے لیکن کرتے کچھ بھی نہیں۔ کسی بھی ادارے سے بغیر درست نظام کے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس وقت ملک کی جو معاشی صورتحال ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے سب سے پہلے ٹیکس وصولی کے ایسے نظام کی ضرورت ہے۔ جس میں ٹیکس چوری کے تمام راستے بند ہو سکیں اور ایسا نظام بنانا ناممکن نہیں ہے۔ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام کو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر نئی حکومت بھی صرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے تک محدود ہے۔ آئی ایم ایف اپنے قرضوں کی واپسی کے لیے پاکستان کی آمدن میں اضافے کا مطالبہ کرتا ہے۔ تو ہماری حکومت حرکت میں آ جاتی ہے۔ یہ کام خود کیوں نہیں کر سکتے؟
دنیا نے کس طرح ترقی کی ہے کیا ہم ان سے نہیں سیکھ سکتے؟ کیا ہمیں 2+2=4 کا علم بھی نہیں ہے۔ کیا ہمیں نہیں پتا کہ ہماری آبادی کتنی ہے، آبادی بڑھنے کی شرح کیا ہے، ہماری ضروریات کیا ہیں اور آنے والے 10 برس میں ہماری آبادی کیا ہوگی اور ہماری ضروریات کیا ہوں گی؟ ہمارے شمالی ہمسائے چین نے آبادی کا بوجھ اس طرح ہلکا کر لیا ہے کہ ہر فرد کے ہاتھ میں ہنر اور کتاب دے کر ہر فرد کو کمانے پر لگا دیا ہے۔ اس وقت پاکستان سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو چینی مصنوعات کے بغیر گزارہ کر سکتا ہو۔ ہمیں تو ایسے لگتا ہے کہ شاید ہمارے حکمرانوں کے پاس فیصلوں کا اختیار ہی نہیں ہے۔ شاید ہمارا نظام حکومت چلانے والے ہمارے دشمن ہیں جو پاکستان کو درست سمت کی طرف جانے ہی نہیں دے رہے ہیں اور ہم دائروں میں گھومے جا رہے ہیں۔
اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ فوری طور پر نظام نہ بدلا گیا تو پھر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جا سکے گا، نہ ملک میں امن قائم رہ سکے گا۔ موجودہ حکمران اگر ملک سے واقعی مخلص ہیں تو ہر ادارے کی درست پالیسی بنائیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر اپنی پیدوار اور اپنے محصولات میں بہت زیادہ اضافہ کیا جائے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اگر زراعت ہی کا نظام درست کر لیا جائے تو ہم خوراک میں خود کفیل ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی اجناس کی برآمدات سے قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔ صنعتی ترقی پر توجہ مرکوز کر کے بے روزگاری کو کم کیا جا سکتا ہے اور درآمدات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بیانات سے آگے بڑھ کر ہر شعبے میں بڑی تبدیلیاں لائی جائیں اور اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔