عدلیہ کی خود مختاری کیسے یقینی بنائی جاسکتی ہے؟

ججوں کو ہراساں کرنے کے معاملہ میں سوموٹو نوٹس کے تحت 7 رکنی  بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی خود مختاری کے لئے پرعزم رہنے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔  اس دوران میں عدلیہ کے حوالے سے ملک میں سنسنی خیزی کا سلسلہ جاری ہے۔  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے متعدد ججوں کو بھی  دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے آٹھ ججوں کے بعد لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ  کے چار،  چار ججوں کو پراسرار خطوط  بھیجے گئے ہیں جن میں دھمکی آمیز نشانات کے علاوہ پراسرار سفوف نما چیز برآمد ہوئی ہے۔  چھان بین کی جارہی کہ کہیں یہ پاؤڈر جان لیوا انتھریکس تو نہیں ہے جسے ماضی میں  دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ابھی تک پولیس اس حوالے سے کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں لاسکی۔   بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ججز کو بھیجے گئے خطوط پر الگ الگ افراد کے نام لکھے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو بھیجے گئے خطوں  پر ریشم، لاہور ہائی کورٹ کے ججز کو بھیجے گئے خطوط پر موہد فاضل اور سپریم کورٹ کے ججز کو موصول ہونے والے  لفافوں پر بھیجنے والے کا نام گُلشاد خاتون درج ہے۔  تاہم ان تمام خطوط میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان پر ایک غیر معروف تنظیم ’تحریکِ ناموسِ پاکستان‘ کا نام درج تھا۔ اور خط میں ’ ججوں، فوجی افسران اور سیاستدانوں کو ملک کے لیے بیماری قرار دیا گیا ہے‘۔

پہلی مرتبہ اس تنظیم کا نام پاکستانی میڈیا میں گزشتہ برس ستمبر میں اس وقت سُننے میں آیا جب اسلام آباد   ججز   کالونی کے  قریب سے ایک تھیلے میں تین دستی بم، ایک پستول اور 50 گولیاں برآمد ہوئی تھیں۔ اس تھیلے میں ایک نقشہ بھی تھا جس میں اسلام آباد کی اہم عمارتوں کے بارے میں معلومات درج تھیں۔ اس کے ساتھ  ہی ایک خط بھی پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو ملا تھا جس میں ’تحریکِ ناموسِ پاکستان‘ کا نام درج تھا اور اس کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججوں اور پاکستانی فوج کے افسران کو دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس تنظیم نے پاکستان میں کبھی بھی کسی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس تنظیم کا نام پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں میں بھی شامل نہیں  ہے۔ اور نہ ہی  اس حوالے سے کوئی معلومات موجود ہیں۔

ایک غیرمعروف تنظیم کی جانب سے ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو بھیجے گئے یہ خطوط ایک سنگین اور تشویش ناک معاملہ ہے۔ اسے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اور بعض عناصر کی طرف سے مسلسل انتشار کی دھمکیوں   کے ساتھ ملا کر دیکھنا ضروری ہے۔ اگر ان دھمکی آمیز خطوط کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھے ججوں  کے خط کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کچھ عناصر ملک میں مسلسل بے یقنی اور پریشان حالی کی کیفیت  قائم رکھنا چاہتے ہیں۔  ان کے چہرے گو کہ  سامنے نہیں ہیں لیکن ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس کو اس معاملہ کی تہ تک پہنچنا چاہئے تاکہ ایک مشکل وقت میں  ملک میں  غیرمعمولی ہیجان کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے چند افراد یا گروہ کی بیخ کنی کی جاسکے۔

اس سارے معاملہ  میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ملک میں حالیہ انتخابات کے بعد نئی حکومت قائم ہوئے ابھی ایک ماہ بھی  نہیں ہؤا ہے۔ بلکہ ابھی تک انتخابی عمل بھی پورا نہیں ہؤا ۔ سینیٹ کی بعض نشستوں   کے علاوہ ضمنی انتخابات کا انعقاد باقی ہے تاکہ تمام اسمبلیوں کی رکنیت پوری ہوسکے اور جمہوری نظام مؤثر طریقے سے کام کا آغاز کرے۔ 8 فروری کے انتخابات کے حوالے سے تحریک انصاف کے علاوہ متعدد حلقوں کی طرف سے شکو ک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ایک طرف عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف موجودہ  انتخابی اداروں کو ‘جعلی اور دھاندلی زدہ‘ قرار دیتی ہے تو دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ ہے کہ  انتخابات کے نام پر اسٹبشلمنٹ نے اسمبلیوں میں اپنی مرضی کے لوگ  بھیج دیے ہیں اور یہ عوام کے نمائیندے نہیں ہیں۔   اس شدت پسندانہ سیاسی مخالفت کے ماحول میں نئی حکومت ابھی ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کے مرحلے ہی میں ہے کہ عدلیہ کے بارے میں سنسنی خیزی نے ایک نئی اور غیر متوقع طور سے پریشان کن صورت حال پیدا کی ہے۔

یہ محض اتفاق بھی ہوسکتا ہیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی  شکایت کے چند روز بعد ہی ججوں کو دھمکی آمیز خطوط ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔  تاہم کسی بھی مناسب  و متوازن تحقیقات میں ان دونوں وقوعات میں تعلق تلاش کرنا  اہم ہوگا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جن 6 ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے نام اپنے خط میں ایجنسیوں کی طرف سے دھمکانے اور ڈباؤ ڈالنے کی جو شکایت کی ہے، اب اس نئی صورت حال میں انہیں پولیس اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے وہ تمام معلومات فراہم کرنی چاہئیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ جن لوگوں نے ایجنسیوں  کے نام پر ججوں کو ہراساں کیا  تھا، کیا وہ واقعی ایجنسیوں کے ہرکارے ہی تھے یا ان کا تعلق بھی ویسے ہی  تخریبی عناصر سے تھا  جن کی طرف سے اب دھمکی آمیز پراسرار خطوط ججوں کو روانہ کیے جارہے ہیں۔ اس معاملہ  پر ملک  کے ہر طبقہ  میں ہرسطح پر یک جہتی اور اتفاق رائے   پیدا کرنا بے حد اہم ہے۔ تاکہ فساد پیدا کرنے والے عناصر کا سراغ لگا کر ان کی بیخ کنی کی جاسکے۔  خاص طور سے اپوزیشن کی ایسی سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا جو  ججوں کے خط کے بعد سے مسلسل ہیجان خیز سیاست کرنے پرکمر بستہ رہی  ہیں۔

عدالتوں کی خود مختاری  کے  سوال پر دو رائے نہیں ہوسکتیں۔  عدالتوں کے موجودہ ججوں  کے حامی اور مخالف سب لوگ اس اصول کی حمایت  کرتے ہیں۔ اس لیے  جب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ یہ کہتے ہیں کہ وہ عدلیہ کی خود مختاری کے لیے میدان میں ڈٹے رہیں گے تو انہیں یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ  صرف ان کے برادر جج ہی نہیں بلکہ ملک  کی وکلا تنظیمیں، سیاسی جماعتیں اور شہری حقوق کے لیے جد و جہد کرنے والے سب عناصر اس جنگ میں ان کے ہم رکاب ہیں۔  انصاف کی بالادستی کے لیے ججوں کی  حفاظت ضروری ہے  اور ججوں کی حفاظت کے لئے قوم کا متحد و متفق ہونا بے حد اہم ہے۔ 

بدقسمتی سے پاکستانی معاشرہ اس وقت بدترین پریشان خیالی کا شکار ہے اور سیاسی رائے کی بنیاد پر شدیدمعاشرتی تقسیم دیکھنے میں آئی ہے۔ البتہ عدلیہ کی خودمختاری ایک ایسا نکتہ ہوسکتا ہے جس میں سیاسی  طور سے دوست دشمن مل کر یہ عزم کریں کہ کہ عدالتوں  کی آزادی اور ججوں کی خود مختاری کے سوال پر ہمہ قسم اختلاف بھلا کر مل جل کر کوشش کی جائے ۔ کیوں کہ آزاد عدلیہ سے سب ہی کو فائدہ ہوگا۔ خوفزدہ جج اور پریشان کن حالات میں مشکوک فیصلے دینے والی عدلیہ کسی کے مفاد میں نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ آج برے فیصلوں کا نشانہ بننے  والے کل اقتدار میں آکر اپنے مخالفین کے بارے میں ویسے ہی فیصلے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی طرف سے لکھے گئے خط کے بعد  تو یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ تحریک انصاف کے علاوہ اس کے حامی وکلا کی طرف سے اس معاملہ کو  عدلیہ کی حفاظت اور خود مختاری سے زیادہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا معاملہ بنا لیا گیا تھا۔ اس کی  گونج آج  اس خط پر لیے گئے سو موٹو نوٹس  کیس  کی سماعت کے دوران میں بھی سننے میں آئی ۔ چیف جسٹس نے  وکیلوں کی طرف سے سوموٹو نوٹس لینے کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وکیل پھر اپنی پریکٹس کیسے کرسکتے ہیں؟ اسی طرح انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ جسٹس (ر) تصدق جیلانی کو تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا حالانکہ اس طرح اس معاملہ کی تہ تک پہنچنا آسان ہوتا۔ تاہم  اب معاملہ ججوں کی طرف سے دھمکیوں کے بالواسطہ حوالوں سے جد اہے ۔  اب تک مختلف عدالتوں کے16 ججوں کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوچکے ہیں۔  یہ انصاف کی آزادانہ فراہمی کے علاوہ انسانی زندگی اور موت کا سوال بھی ہے۔ اسی لیے   اہم ہے کہ سیاسی ضرورتوں اور اس حوالے سے  خبروں میں رہنے کے ہیجان کو قابو کیا جائے اور حقیقی مسئلہ حل کرنے کے لئے معاشرے کے تمام عناصر متحد و متفق ہوجائیں ۔ تب ہی سپریم کورٹ بھی عدلیہ کی خود مختاری کے لیے کسی مناسب  اور قابل عمل روڈ میپ کا اعلان کرسکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر اب بھی  ججوں  اور دیگر اداروں کے نمائیندوں کے خلاف سوشل میڈیا پر  جعلی اکاؤنٹس  کے ذریعے نفرت انگیز مہم جوئی  جاری رہے گی اور سیاسی مقاصد کے لیے عدلیہ اور فوج کے خلاف جھوٹ پھیلایاجاتا رہے گا تو عدالتی خود مختاری کسی ایک چیف جسٹس کی خواہش یا حکومت کے دعوؤں سے حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگی۔  اب وقت آگیا ہے کہ مرضی کا جج  یا چیف جسٹس لانے اور سیاسی خواہشات کے مطابق فیصلے لینے کو انصاف کا نام دینے کا مزاج ختم کیا جائے اور تمام سیاسی جماعتیں اس ایک  نکتہ پر اتفاق کریں کہ  عدالتوں کو سیاست میں ملوث کرنا ملکی نظام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ اس لیے سب سے پہلے تو عدلیہ کی خود مختاری کے لیے چیف جسٹس کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط اظہار یک  جہتی کیا جائے ۔ اس کے بعد یہ طے کیا جائے کہ ہر چھوٹے بڑے سیاسی معاملے پر عدالتوں کا رخ کرنے کی بجائے، ان مسائل کو سیاسی مواصلت اور پارلیمانی مباحث کے ذریعے حل کیا جائے۔

ملکی اداروں کو نقصان پہنچاکر ’حقیقی آزادی‘ کا خواب دیکھنے یا دکھانے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان ہتھکنڈوں سے رہی سہی آزادی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ جس عوامی سونامی کی خواہش پر  انتشار پیدا کرنے کی  کوشش ہورہی ہے،  اس کے آثار دور دور تک موجود نہیں ہیں۔ صدر آصف زرداری نے آج ہی آرمی چیف جنرل عاصم  منیرکے ساتھ ملاقات میں فوج کے خلاف مہم جوئی کا نوٹس  لیا اور کہا کہ ’ایک مخصوص سیاسی جماعت اور اس کے چند افراد کی جانب سے ادارے اور اس کی قیادت کے خلاف محدود سیاسی مفادات کے حصول کیلئے لگائے گئے بے بنیاد اور بلاجواز الزامات پر شدید تشویش  ہے‘ ۔صدر مملکت کا کہنا ہے کہ  رخنہ ڈالنے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے  کی ضرورت ہے۔

فوج کے علاوہ عدلیہ اور اس کے کچھ جج   بھی ایسی ہی  نفرت انگیز مہم جوئی کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔   یہ ایک آفاقی اصول ہے کہ فوج ہو یاعدالت ، اسے سیاسی معاملات  میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ تاہم یہ سلسلہ اسی وقت بند ہوگا جب سیاسی عزائم کے لئے قومی اداروں کو   لڑانے والے عناصر      کی شناخت  جائے اور نفرت انگیزی کا سلسلہ بند ہو۔