پاکستان دہشتگرد تنظیم ٹی ٹی پی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا: دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم افغان انتطامیہ سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن لیں۔
بشام میں چینی باشندوں پر حملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ اس معاملے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کررہے ہیں، جونہی تحقیقات مکمل ہو جائیں گی میڈیا کو آگاہ کریں گے۔ داسو حملے کے بعد چین کے ایک سیکیورٹی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس وفد کی سربراہی چین کی وزارت خارجہ نے کی۔ اس دورے کا مقصد چین کے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔
ممتاز زہرہ بلوچ نے بتایا کہ پاکستان کا دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف واضح ہے۔ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کو ختم کرنے کا خواہاں ہے۔ اگر افغانستان اس حملے میں ملوث پایا گیا تو پاکستان یہ معاملہ ان کے ساتھ اٹھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ چین کے حوالے سے اب تک تاریخوں پر فیصلہ نہیں ہوا۔ پاک ایران تعلقات کے حوالے سے ممتاز زہرہ بلوچ نے بتایا کہ پاکستان اور ایران نے تمام باہمی رابطہ چینلز کو بحال کر لیا ہے۔ تجارت کے حوالے سے پاکستان اور ایران میں گہرا تعاون ہے، ابھی ایران کے صدر کے دورے کے حوالے سے حتمی تاریخ نہیں دے سکتے۔ تاہم ایرانی صدر کے جلد دورے کی توقع ہے۔
انہوں نے دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم متاثرین کے اہل خانہ، عوام اور ایران کی حکومت کے تئیں اپنی گہری تعزیت پیش کرتے ہیں۔ یہ حملہ شام کی خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے اور اس کے استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ مقبوضہ فلسطین کی ہولناک صورتحال پر پاکستان اپنے سنجیدہ تحفظات ریکارڈ کراتا ہے اور ہر برس فلسطین پر قراردادیں جمع کراتا ہے۔ ہم غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہیں اور جنوری میں غزہ کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف کے آنے والے فیصلے پر عملدر آمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔