سیاست دانوں کی خطرناک مداخلت
- تحریر محمد طارق
- جمعہ 05 / اپریل / 2024
آج کل پاکستان کی سیاست، سیاسی منظرنامے میں لفظ مداخلت کا بڑا شور ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے خفیہ ادارے عدلیہ کے ججوں کے فیصلوں میں مداخلت کرتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست دانوں، حکومت کے کاموں میں دخل اندازی کرتی ہے۔
عدلیہ ، حکومتی فیصلہ سازی میں خفیہ اداروں ، اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کو ذرائع ابلاغ اور عوام ناپسند کررہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں صرف خفیہ ادارے، اسٹیبلشمنٹ دوسرے حکومتی اداروں، حکومتی اجتماعی نظام کے ڈومین میں دخل اندازی کرتے ہیں یا کہ دوسرے اسٹیک ہولڈر بھی کسی دوسرے کے ڈومین میں دخل اندازی کرتے ہیں کہ نہیں۔ جیسے سیاست دان، سیاسی پارٹیوں کے لیڈر وغیرہ۔
اردو لغت میں مداخلت کا مطلب دخل دینا، دست اندازی کرنا، قبضہ کرنا ہے۔ ان معاملات میں دخل دینا یا خود کو شامل کرنا کسی کی دعوت یا اجازت کے بغیر، خاص کر جو معاملات اور ڈومین کسی دوسرے کی ملکیت میں ہوں۔ انگریزی میں اسے انٹرفیر اور انویشن کہتے ہیں۔ مداخلت ایک منفی عمل ہے ، مداخلت غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔
قارئین ذرا سوچیں جیسے اوپر لفظ مداخلت کی تعریف کی گئی ہے کہ ہر ملک میں سب اداروں کو اپنی ڈومین، اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ اس ڈومین میں جو کہ ریاستی آئین میں درج ہیں۔ ریاستی آئین پر سب سے پہلے عمل عوامی نمائندوں یعنی سیاست دانوں نے کرنا ہے۔ اس کے بعد سیاست دان دوسرے اداروں کی کسی اور ادارے میں مداخلت پر تنقید، رائے زنی کرسکتے ہیں۔ جب سیاست دان خود ریاستی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ، دوسرے اداروں، بلکہ دوسری اسمبلیوں کے کام میں مداخلت کریں گے جو کہ غیر قانونی ہے تو پھر ان سیاست دانوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہونی چاہیے ۔
جیسے آصف علی زرداری، نواز شریف اور عمران خان کیسے صوبائی وزرائے اعلیٰ کی نامزدگی کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ ملکی آئین کے مطابق صوبائی اسمبلیاں خود مختار ہیں۔ جبکہ آصف علی زرداری، نواز شریف اور عمران خان کو اپنی اپنی پارٹیوں کی طرف سے صرف مرکزی سطح کے معاملات پر کام کرنے کے لیے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ تو پھر یہ لوگ کیسے صوبائی اسمبلی ممبران کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ سب سے افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس سطح کی سرعام غیر قانونی مداخلت پر صوبائی اسمبلیوں کے ممبران اپنے جمہوری حقوق پر کم آگاہی سے آواز اٹھانے سے قاصر ہیں۔ اور یوں پورا ریاستی انتظامی ڈھانچہ چند پارٹی ڈکٹیٹرز کے ہاں یرغمال ہے۔
آصف علی زرداری، نواز شریف اور عمران خان نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو نامزد کرکے نہ صرف ملکی آئین، جمہوریت، جمہوری اقدار کی پامالی کے مرتکب ہوئے ہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کا گلا دبانے کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ نواز شریف ، آصف علی زرداری اور عمران خان قومی اسمبلی کے ممبر ہوتے ہوئے کیسے اور کیوں کر صوبائی اسمبلیوں کے معاملات میں سرعام مداخلت کرتے ہیں۔ کیوں یہ دوسروں کے ڈومین میں دخل اندازی کررہے ہیں؟ کیا یہ مداخلت نہیں؟