جمہوریت کیوں ضروری ہے

ملک میں 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کے بعد جمہوریت کی  بحث زیادہ شدت اختیار کرگئی ہے۔ ایک طرف عوامی مسائل  میں اضافہ، حکومت سازی کے جوڑ توڑ اور سیاسی قوتوں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے لوگوں  میں  مایوسی پیدا ہوئی  تو دوسری طرف بعض سیاسی قوتیں بھی   یہ سمجھنے لگی ہیں کہ    جس جمہوری ’سیٹ اپ‘ میں وہ خود حصہ دار نہ ہوں، اسے  تباہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ایسی سیاسی حکمت عملی کے کیا فوائد ہوسکتے ہیں لیکن ایک بار  ملک میں جمہوری نظام کو پٹری سے اتار کر دوبارہ  عوامی نمائیندگی کے راستے پر گامزن کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔  پاکستان میں چونکہ یہ تجربہ متعدد بار ہوچکا ہے ، اس لیے پاکستانی عوام سے زیادہ کوئی اس بات کو نہیں سمجھ سکتا کہ آمرانہ دور حکومت کے مقابلے میں کوئی بھی ایسا نظام بہتر ہے جس میں   عوام کے نمائیندے کسی نہ کسی طریقے سے ملکی امور دیکھ رہے ہوں۔  البتہ اس حوالے سے اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ  ملک میں ہر انتخاب کے بعد دھاندلی اور نتائج تبدیل کرنے کی آوازیں بلند ہوتی ہیں ۔  جیتنے والا گروہ یا یوں کہہ لیجئے کہ انتخابات کے راستے اقتدار تک پہنچنے والے لوگ انتخابات کو شفاف اور جائز قرار دیتے ہیں کیوں کہ انہیں اقتدار حاصل ہوچکا ہے لیکن جو لوگ  حکومت بنانے کے قابل نہیں ہوتے ، ان کے لیے دھاندلی  کا شور مچانے کے سوا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہوتا۔

انتخابی دھاندلی کے بارے  میں عام طور سے جو طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے، اس سے البتہ یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ اس میں سچائی کو ایک خاص زاویے  سے  دیکھنے اور  من چاہی تصویر  پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فروری میں منعقد ہونے والے انتخابات ہی کو دیکھ لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ پروپیگنڈا کے  زور پر فارم 45 اور فارم47 کی بحث گھر گھر پہنچا دی گئی ہے۔   تحریک انصاف کے حامیوں کا واضح مؤقف ہے کہ موجودہ حکمران درحقیقت فارم 47 کی پیداوار ہیں  حالانکہ حقیقی کامیابی کا تعین فارم 45 میں ہوتا ہے۔ لیکن ان مباحث میں شامل اکثر لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ ان دونوں فارموں میں کیا فرق ہے اور ان کی مدد سے کیسے نتائج مرتب کرنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن دھاندلی کو نعرہ بنا لینے کے بعد ان  بنیادی باتوں کو جاننے  کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس پر مستزاد بعض سیاست دان ایسے مضحکہ خیز بیانات دیتے ہیں  جس سے فضا صاف ہونے کی بجائے ،   کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

گزشتہ روز ہی خیبر پختو ن خوا کے سابق وزیر اعلیٰ محمود خان نے ایک ٹی وی  ٹاک شو میں دعویٰ کیا کہ انہیں بھی فارم 47 کی پیشکش ہوئی تھی لیکن انہوں نے اپنی ہار قبول کی۔  کیوں کہ جن  لوگوں کو  عوام نے ووٹ دیے ہیں، حکومتی ایوانوں میں انہیں ہی نمائیندگی کرنے کا حق حاصل ہے۔ واضح رہے کہ  محمود خان  بھی  پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی طرح تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے چہیتے تھے جنہیں پارٹی کے اندر مخالفت کے باوجود خیبر پختون خوا میں پانچ برس تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رکھا گیا تھا۔  البتہ سانحہ نو مئی کے بعد جن لوگوں نے تحریک انصاف کو خیر آباد کہا ، ان میں محمود خان بھی شامل تھے۔  تب  انہیں   تحریک انصاف قومی سلامتی کے لیے خطرہ  دکھائی دینے لگی تھی۔ اب محمود خان ملک میں  تبدیل شدہ سیاسی ماحول کو محسوس کرتے ہوئے  اپنا سیاسی بوجھ بالواسطہ  طور سے  تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اقتدار کی سیاست کو جمہوریت سمجھنے والے معاشروں کا سب سے بڑا المیہ یہی ہوتا ہے کہ وہاں سیاسی کارکن پیدا نہیں ہوتے بلکہ ایسے سیاسی عناصر نمودار ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح اقتدار تک  پہنچنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔

محمود خان اب فارم 47  کی پیش کش کا دعویٰ تو کررہے ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس فارم کی بنیاد پر انہیں انتخابات میں کامیاب کروانے کی پیش کش کس نے کی تھی۔  جمہوریت کے نام پر مباحث کو آگے بڑھانے والے معاشروں میں کوئی ایسا الزام یا دعویٰ قابل قبول نہیں ہوسکتا جس میں متعلقہ شخص کوئی ٹھوس اور واضح شواہد سامنے نہ لاسکے۔   مثال کے طور پر اگر محمود خان  کو واقعی کسی  نے  انتخابات میں ہارنے کے باوجود جتوانے کے لئے ’فارم 47 کا منتر‘ چلانے کا کوئی طریقہ  بتایا تھا لیکن جمہوری طاقت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے انہوں نے اس جعل سازی کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا تو انہیں اس کا انکشاف کرتے ہوئے یہ ضرور بتانا چاہئے کہ یہ پیش کش  کس اہلکار،  افسر یا کس ادارے کے نمائیندے نے کی تھی؟ اگر وہ متعلقہ شخص کا نام لینے کا حوصلہ نہیں کرتے تو  پھر ان  کے دعوے کو  اس جھوٹے  پروپیگنڈے سے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتا جو اس وقت ملک میں سیاسی بے چینی پیدا کرنے کے لئے عام کیا جارہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ فارم 45 پولنگ اسٹیشن پر گنتی کے بعد تمام پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں پر  کیے جاتے ہیں اور ان پر ہر امیدوار کے نمائیدے کے دستخط ہوتے ہیں اور پریزائیڈنگ افسر ان اندراجات کی تصدیق کرتا ہے۔ مختلف پولنگ اسٹیشنوں سے فارم 45 موصول ہونے کے بعد ریٹرننگ افسر ، ان معلومات کی بنیاد پر فارم 47  تیار کرتا ہے ۔ اس طرح  غیر سرکاری نتائج کا  اعلان ہوتاہے۔ تحریک انصاف  کا کہنا ہے کہ فارم 45 کی بنیاد پر تو اس کے امید وار  اسمبلیوں میں تین چوتھائی اکثریت حاصل کررہے تھے لیکن فارم 47 تیار کرتے ہوئے  اصل معلومات تبدیل کردی گئیں اور ہارنے والے امیدواروں کو جتوا دیا گیا۔   البتہ تحریک انصاف یا دھاندلی کا شکوہ کرنے  والے ابھی تک یہ واضح نہیں کرسکے کہ اگر ان کے امید وار فارم 45 پر جیت رہے تھے اور  ان کے پاس ان فارمز کی نقول بھی موجود ہیں تو ابھی تک  الیکشن ٹریبونلز میں اپیلوں کے دوران  نتائج  میں بڑی تبدیلی کیوں دیکھنے میں نہیں آئی۔ یا ان معلومات اور دستاویزی جعل سازی کی بنیاد پر   عدالتوں سے کیوں رجوع نہیں کیا گیا۔

انتخابی نتائج پر اختلاف کرتے ہوئے اگر پاکستان جیسے  ملک میں جمہوری نظام کو داؤ پر لگانے کی سیاست کی جائے گی تو اسے قبول کرنا مشکل ہوگا۔  جمہوری طریقے سے انتخابات کا انعقاد اور ان کے نتائج کی بنیاد پر حکومت سازی  آئین کا بنیادی تقاضہ ہے۔  جمہوریت سے انحراف درحقیقت  ملکی آئین سے انحراف کے مترادف ہے۔  ایسے سیاسی انتشار سے کسی بھی پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔   1977 میں ذوالفقار علی بھٹو   کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کی جیت کے خلاف پاکستان نیشنل  الائنس نامی اتحاد کے تحت اپوزیشن جماعتوں  نے ایسی ہی  تحریک چلائی تھی۔ اس وقت بھی موقع تھا کہ  سیاسی قوتیں مل بیٹھ کر کوئی سیاسی تصفیہ کرلیتیں لیکن سیاسی  تنازعہ کو اس حد تک بڑھا لیا گیا کہ  جنرل ضیا نے مارشل لا لگا دیا اور ملک پر 11 سال   تک بلا شرکت غیرے  حکومت کرتا رہا۔   بعد از وقت  پی این اے کی تحریک میں شامل متعدد لیڈروں نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا لیکن سیاست میں  بعد از وقت اعترافات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ سیاست دان  اگر کسی تنازعہ  یا اختلاف کے وقت  کوئی سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکام رہیں تو اس سے پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری بھی انہیں قبول کرنا پڑتی ہے۔  بلکہ اکثر صورتوں میں بھاری قیمت بھی ادا کرنا  پڑتی ہے۔

آج ایک بار پر ویسی ہی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔  لیکن یہ سمجھنے سے انکار کیا جارہا ہے  کہ  سیاسی پارٹیاں تصادم   سے نہیں مصالحت و مفاہمت سے راستہ ہموار کرتی ہیں۔ 9  مئی کا وقوعہ اس حوالے سے سبق آموز ہونا چاہئے۔ تحریک انصاف نے اس روز  ریاستی اداروں  سے ٹکر لے کر  ملک میں  ’جمہوری انقلاب‘ برپا کرنے کی کوشش کی تھی۔  لیکن  اس نے اس سچائی کو فراموش کردیا کہ جمہوری انقلاب صرف بیلٹ پیپر کے ذریعے برپا کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے اس دلیل کو قبول کیا جاسکتا ہے کہ اگر جمہوری راستے پر قدغن لگائی جائے گی تو بے چینی پیدا ہوگی۔  البتہ اس مشکل سے باہر نکلنے کے لئے بداعتمادی اور شکست و ریخت کی بجائے اعتماد  سازی اور باہم احترام کا راستہ اختیار کرکے بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

انتخابات کے بارے میں پائی جانے والی بداعتمادی  دور کرنے کے لیے عدالتی تحقیقات کی تجویز بھی دی جاچکی ہے۔ شہباز حکومت نے البتہ اس تجویز کو قابل غور نہیں سمجھا ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر 8 فروری 2024  کے انتخابات کی  تحقیقات کروانی ہیں تو 25 جولائی 2018 کے انتخابات کی بھی جانچ ہونی چاہئے۔   حکومت اس قسم کے بیانات سے درحقیقت   عدالتی تحقیقات کے بارے میں تحریک انصاف کا مطالبہ مسترد کرتی ہے حالانکہ  غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے  انتخابی دھاندلی کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں دور ہوسکتی  ہیں۔   ہوسکتا ہے ماضی میں بھی غلطیاں ہوئی ہوں لیکن کسی حکومت کو زیب نہیں دیتا کہ ماضی کی کسی غیر قانونی یا غیر اخلاقی حرکت کا حوالہ دے کر  اس وقت روا رکھی جانے والی ناانصافی  کو جائز کہنے کی کوشش کی جائے۔

ملک میں جمہوریت، اقتدار پر قابض اور   اقتدار سے محروم دونوں گروہوں کے لیے ضروری ہے۔ کسی کو اس غلط  فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ جمہوری راستہ مسدود کرکے اقتدار پر قبضہ جاری رکھا جاسکتا یا کسی چور دروازے سے اس پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کوئی بھی طریقہ غیر آئینی ہوگا اور کسی سیاسی پارٹی کو اس سے فائدہ نہیں ہوسکتا۔ حالیہ انتخابات کے بارے میں شبہات موجود ہیں۔ اپوزیشن کے علاوہ حکومت کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ ان شبہات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیا رکی جائے تاکہ سب سیاسی عناصر ملک میں عوامی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے کے لیے مل کر کام کرسکیں۔ اگر سیاسی پارٹیاں باہمی سر پھٹول پر مصر رہیں گی تو اس  سے نہ  سیاسی لیڈروں کا بھلا ہوگا  اور نہ ہی ملک میں بہتری کے آثار پیدا ہوسکیں گے۔