چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب رکوانے کی درخواست پر سماعت

  • سوموار 08 / اپریل / 2024

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب رکوانے کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے آرڈر جاری کیا۔

اس سے قبل سماعت کے دوران وکیل شعیب شاہین عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے؟ شعیب شاہین نے بتایا کہ نہیں وہاں پر اور معاملہ ہے۔ ہم نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کو چیلنج کیا ہے، کل الیکشن ہو رہا ہے اور ہم نے اس کو چیلنج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینے پر خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن ملتوی کردیے۔ اب خیبرپختونخوا کے سینیٹرز کے بغیر کل چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہورہا ہے۔ یہ مخصوص نشستوں کا مسئلہ تھا ، الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو نشستیں دینے سے انکار کیا۔ اسے سنی اتحاد کونسل نے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور پشاور ہائی کورٹ نے بھی مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا ۔

وکیل پی ٹی آئی نے بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ خیبر پختونخوا کی سینیٹ نشستوں کے انتخاب تک چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب روکا جائے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ فاٹا کا اب کیا ہوگا؟ وکیل نے جواب دیا کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کردیا گیا ہے۔ اب باقی صوبوں میں سینیٹ الیکشن ہوگئے ہیں اور خیبر پختونخوا میں ملتوی کردیے گئے ہیں۔ وفاق کی نشستوں پر بھی سینیٹ الیکشن ہوچکے ہیں۔

چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ الیکشن کب ہے؟ وکیل نے آگاہ کیا کہ کل الیکشن ہے، اگر الیکشن روک دیا جائے تو بہتر ہوگا۔ عید کے بعد اگر الیکشن ہو جائیں تو کیا حرج ہے؟

بعد ازاں چیف جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی آئی سینیٹرز کی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب روکنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں دیکھنا ہوگا کہ الیکشن روک سکتے ہیں یا نہیں۔

یاد رہے کہ آج ہی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 اپریل کو ہونے والے چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ تحریک انصاف کی سینیٹر ڈاکٹر زرقہ تیمور، فلک ناز، فوزیہ ارشد، سیف اللہ نیازی اور سیف اللہ ابڑو کی جانب سے دائر درخواست میں الیکشن کمیشن، صدر پاکستان اور سینٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔