حافظ نعیم، کیا یہ جماعت کی باز یافت ہے؟
- تحریر فاروق عادل
- سوموار 08 / اپریل / 2024
نو منتخب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی شخصیت ماضی کے تمام امراسے مختلف شخصیت دکھائی دیتی ہے۔ وہ حافظ بھی ہیں اور انجینئر بھی۔ وہ جماعت اسلامی کے کسی بھی بزرگ کی طرح مشرقی لباس زیب تن کرتے ہیں اور ایک عام پاکستانی کی طرح مغربی لباس پہننے میں بھی انہیں کوئی عار نہیں۔
یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جماعت کی قیادت اب مکمل طور پر نئی نسل کو منتقل ہو گئی ہے۔ کیا یہ واقعہ جماعت میں کوئی نظریاتی جست ہے یا پھر یہ محض ایک اتفاق ہے؟ میری نگاہ میں یہ نہ کوئی نظریاتی جست ہے اور نہ اتفاق ہے بلکہ یہ ایک صدی کو چھوتی ہوئی نظریاتی تحریک میں بازیافت کا واقعہ ہے جس نے اس جماعت کو اپنی تاریخ کے نہایت اہم سنگم پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس معمے کو سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا سا ماضی میں جانا پڑے گا۔
1857 کی جنگ آزادی میں عبرت ناک شکست کے بعد یہ سوال زیر بحث تھا کہ کیا اس خطے کے مسلمان تاریخ کے دھندلکے میں گم ہو جائیں گے یا ان کا سیاسی وجود برقراررہ سکے گا؟ اس سوال کا جواب سر سید احمد خان نے دیا یعنی جدید علوم سے مکمل آگاہی اور انگریزی استعمار کے سامنے ایک نئی شناخت۔ نئی شناخت کا مطلب یہ تھا کہ ہم اس نئی طاقت کے دشمن نہیں، دوست ہیں۔ سیاسی اعتبار سے یہ حکمت عملی غلط نہیں تھی۔
عقلیت پسندی اس علمی تحریک کی بنیاد تھی۔ سرسید نے اس بنیاد پر دین کی جو تعبیر کی اس کا شدید ردعمل ہوا، جس کے سرخیل علامہ شبلی نعمانی تھے۔ انہوں نے سر سید کی فکر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ دیگر اقوام کی ترقی ضرور آگے بڑھنے میں ہوگی لیکن مسلمانوں کی ترقی پیچھے ہٹتے ہٹتے صحابہ کرام کے عہد میں داخل ہو جانے میں ہے۔ گویا یہ ایک جوابی علمی تحریک تھی اور برعظیم کے مسلمان ان دو انتہاؤں کے بیچ ایک عظیم مخمصے میں پس رہے تھے۔
ہماری تہذیب میں علامہ اقبال وہ پہلی عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے برعظیم کے مسلمانوں کو اس مخمصے سے نکالا۔ گویا یہ ایک تیسری علمی تحریک تھی۔ اقبال کا کہنا تھا کہ اپنے دین کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہنا ناگزیر ہے ۔ صحابہ کرام کی پیروی سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے لیکن اس سوال کا جواب کیا ہے کہ ہرآن بدلتی ہوئی دنیامیں مسلمان کو اپنا سیاسی اور نظریاتی وجود کس طرح برقرار رکھنا ہے؟
پھر انہوں نے خود ہی اس سوال کا جواب بھی دیا کہ جدید اور قدیم کے امتزاج کے ساتھ۔ انہوں نے اپنی فکر کی بنیاد اس حدیث مبارکہ پر رکھی کہ حکمت مومن کی گم شدہ میراث ہے جہاں سے ملے، اسے حاصل کیا جائے۔ اقبال اپنا یہ فکری اثاثہ آنے والی نسلوں کو منتقل کرنا چاہتے تھے۔ ان کے معروف خطبات فکر اسلامی کی تشکیل جدید بھی اسی سلسلے کی کڑی تھے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے جدید مسلم اسکالروں سے روابط بھی استوار کیے۔ مولانا مودودی ان میں نمایاں تھے۔ مسلمانوں کی سیاسی اور نظریاتی بقا کے لیے اقبال کی فکر نے مولانا مودودی کو متاثر کیا اور انہوں نے کم و بیش ان ہی خطوط پر اپنی تحریک کی بنیاد رکھی ۔ بہ الفاظ دیگر اپنے دین اور عقیدے پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے جدید علوم و فنون پر مکمل دسترس۔
یہی سبب تھا کہ انہوں نے 1941 میں جماعت اسلامی قائم کی تو اس میں جمعیت علمائے ہندکی طرح صرف علما نہیں تھے۔ جدید تعلیم یافتہ ذہن بھی ان کے ہم قدم تھا۔ کپور تھلہ کے پہلے مسلمان قانون داں میاں طفیل محمد اِن میں نمایاں ترین تھے ۔اسی سے متصل زمانے میں پروفیسر خورشید احمد، انجینئر خرم مراد اور علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے عالمی شہرت یافتہ ماہر معاشیات ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی بھی ان کے ساتھ آملے۔ کم و بیش اسی عرصے میں پروفیسر غفوراحمد اور محمود اعظم فاروقی سمیت جدید تعلیم یافتہ کی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اِن کی فکر سے متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ غیر معمولی علمی شخصیات خالد اسحاق ایڈوکیٹ، اے کے بروہی اور کسی حد تک ایس ایم ظفر جیسے لوگ بھی مولانا مودودی سے قریب ہوئے۔ قدیم و جدید کا یہی امتزاج جماعت اسلامی کی اصل شناخت تھا۔ یہی سبب تھا کہ ایک زمانے میں ملک کے طول و عرض میں ہر جگہ جماعت اسلامی کے ہم درد مل جاتے تھے ۔ یہی لوگ اس کی انتخابی قوت تھے۔
جماعت اسلامی کا ثقافتی تجزیہ نہایت دل چسپ صورت حال پیش کرتا ہے۔ قراقلی ٹوپی اور شیروانی جماعت کے قائدین کی تقریباً شناخت تھی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ رفتہ رفتہ یہ شناخت مدھم پڑ گئی۔ اس کے ساتھ دوسری تبدیلی یہ آئی کہ میاں طفیل محمد، پروفیسر خورشید احمد، خرم مراد اور منور حسن جیسے جدید تعلیم یافتہ لوگ پس منظر میں چلے گئے یا ان کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ہو گئی۔ اس تبدیلی کے ساتھ ثقافتی تبدیلی بھی دکھائی دیتی ہے۔
قراقلی ٹوپی ہمیں قاضی حسین احمد صاحب تک ملتی ہے، ان کے بعد پگڑی پوش ملتے ہیں یا سراج الحق کی طرح اپنی ثقافتی ٹوپی اوڑھنے والے۔ علاقائی شناخت میں کچھ خرابی نہیں ہے لیکن جماعت اسلامی کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس تبدیلی کے ساتھ جماعت کا چہرہ اور مزاج ، دونوں بدلے۔ یہ تبدیلی اتنی مؤثر تھی کہ بعض صورتوں میں دیگر مذہبی جماعتوں ، جماعت کے وابستگان اور ان کے روّیوں میں فرق ختم ہوگیا۔
ایسا کیوں ہوا؟ یہی سوال سب سے اہم ہے۔ اس سوال کا جواب جہاد افغانستان فراہم کرتا ہے۔ اس واقعے نے جیسے پورے خطے کو تبدیل کر دیا۔ اسی طرح جماعت کو بھی بدلا جس نے اس کی انفرادیت کو قریب قریب ختم کر دیا ۔ اس سوال کے جواب کا دوسرا حصہ قاضی حسین احمد مرحوم کی گلاسنوسٹ یعنی جماعت کو عوامی رنگ اختیار کرنے کی پالیسی سے ہے۔
یہ رجحان بھی جماعت کے مزاج اور انفرادیت پر اثر انداز ہوا۔ ان تبدیلیوں نے جماعت کو دو طرح سے متاثر کیا ۔ ایک نظریاتی اور علمی پہلو تھا اور دوسرا سیاسی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جدید اسلامی ذہن رکھنے والے طبقات کی جماعت سے وابستگی رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی گئی اور وہ اپنے ووٹوں کی ایک بڑی تعداد سے محروم ہو گئی ۔
اس پس منظر میں حافظ نعیم الرحمن امید کا طاقت ور استعارہ بن کر ابھرے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کی وجہ سے جماعت کو غیر معمولی نقصان پہنچا تھا۔ اِن کے متحرک ہونے سے جماعت نے نئی زندگی پائی۔ انہوں نے اپنی پرعزم شخصیت سے مایوسی کے شکار کارکن کو حوصلہ دیا اور عوامی مسائل کو زیر بحث لا کر جماعت کو سیاسی حقیقت بنا دیا۔ اس اعتبار سے حافظ نعیم کا قومی سطح پر ابھرنا جماعت کے لیے مبارک ہے۔ وہ اپنی جواں عمری اور تحرک کے بل بوتے پر اسے نئی زندگی دے سکتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو ان کی شخصیت میں پوشیدہ ہے۔ حافظ قرآن کی حیثیت سے وہ روایتی دینی پس منظر رکھتے ہیں اور انجینئر کی حیثیت سے وہ خرم مراد اور دیگر کی طرح جدید تعلیم یافتہ ٹیکنو کریٹ ہیں ۔ ان کی شخصیت کی یہی انفرادیت انہیں جماعت کے اس مزاج کے قریب کرتی ہے جو جہادی اثرات کی وجہ سے پس منظر میں جا چکا تھا۔
مقبول عوامی سیاست پر یقین رکھنے کی وجہ سے وہ قاضی حسین احمد سے مماثلت رکھتے ہیں ۔ اس طرز سیاست نے جماعت کا نظریاتی چہرہ متاثرکیا تھا۔ اب یہ حافظ صاحب کا امتحان ہے کہ وہ عوامیت کو فروغ دیتے ہوئے نظریاتی پہلو کو اس کی اصل اہمیت کے ساتھ برقرار رکھتے ہیں، ماضی کے تجربے کو آگے بڑھاتے ہیں یا کوئی نیا تجربہ کرتے ہیں؟
ماضی میں جماعت جب سماج میں اپنے حامیوں کی بڑی تعداد رکھتی تھی تو اس کی ایک بڑی وجہ ایوب خان کے زمانے، اس سے پہلے اور بعد کی جمہوری تحریکوں میں اس کا قائدانہ کردار تھا جو بعد میں بہ وجوہ کمزور پڑتا چلا گیا۔ موجودہ دور میں محسوس کیا گیا ہے کہ جماعت جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعتوں سے فاصلے پر ہے اور فسطائی مزاج کے سیاسی گروہوں سے قریب۔ لیکن طرفہ یہ ہوا کہ یہ قربت عقابی مزاج رکھنے والے کارکنوں کو ان گروہوں میں جانے سے روک نہ سکی۔ اسی طرح ووٹ بھی گیا۔ اس رشتے سے جماعت کو کیا ملا؟
یہ تجزیہ تو ممکن ہے کہ کچھ عرصے کے بعد ہو لیکن سیاسی اعتبار سے حافظ صاحب کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہو گا کہ وہ جماعت کے نظریاتی جد امجد یعنی مولانا مودودی کی طرح اپنا نظریاتی تشخص برقرار رکھتے ہوئے آئین اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے حلیفوں کا انتخاب کرتے ہیں یا نہیں۔ جماعت کے سیاسی مستقبل کا انحصار اسی بات پر ہوگا۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس نیوز)