مولانا مودودی نے قیام پاکستان کے بعد بھی قائد اعظم کی مخالفت کی
- تحریر وجاہت مسعود
- سوموار 08 / اپریل / 2024
جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کچھ احباب کا موقف ہے کہ جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کے برعکس جماعت اسلامی مطالبہ پاکستان کی مخالف نہیں تھی۔ جماعت اسلامی کا موقف تو یہ تھا کہ مسلم لیگ کے پاس وہ مردان کار موجود نہیں ہیں جو اس نصب العین کو حاصل کر سکیں۔
انہی دو نکات پر بات کر لیتے ہیں۔ کیا جماعت اسلامی قیام پاکستان کی حامی تھی؟ دوسرے یہ کہ جن مسلم لیگی رہنماؤں کی بصیرت، اہلیت اور دیانت پر انگلی اٹھائی جا رہی تھی، وہ کون تھے۔ اس گزارش کو مدنظر رکھئے کہ یہاں 40 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں شائع ہونے والی سید ابو اعلیٰ مودودی کی تصنیف ”مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش“ کا حوالہ نہیں دیا جا رہا جسے قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی مناسب قطع برید کے بعد ’تحریک آزادئ ہند اور مسلمان‘ کے عنوان سے شائع کرتی رہی ہے۔ ہمارا موقف تو یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور اس کے قائدین پاکستان بننے کے بعد بھی تصور پاکستان اور قائداعظم کے مخالف رہے۔ یہ کہنا تاریخ کو جھٹلانے کے مترادف ہے کہ پاکستان کے بنتے ہی جماعت اسلامی کی کایا کلپ ہو گئی تھی۔
جماعت اسلامی کے ترجمان ہفت روزہ ’کوثر‘ نے 16 نومبر 1947 کو لکھا۔ ”ہم اس تحریک کو آج بھی صحیح نہیں سمجھتے جس کے نتیجے میں پاکستان بنا ہے اور پاکستان کا اجتماعی نظام جن اصولوں پر قائم ہو رہا ہے ان اصولوں کو اسلامی نقطہ نظر سے ہم کسی قدر و قیمت کا مستحق نہیں سمجھتے“ ۔ مولانا مودودی نے جماعت اسلامی (لاہور ) کے اجتماع میں فرمایا۔ ”ہماری قوم نے اپنے لیڈروں کے انتخاب میں غلطی کی تھی اور اب یہ غلطی نمایاں ہو کر سامنے آ گئی ہے۔ ہم چھ سال سے چیخ رہے تھے کہ محض نعروں کو نہ دیکھو بلکہ سیرت اور اخلاق کو بھی دیکھو۔ اس وقت لوگوں نے پروا نہ کی لیکن اب زمام کار ان لیڈروں کو سونپنے کے بعد ہر شخص پچھتا رہا ہے کہ واہگہ سے دہلی تک کا علاقہ اسلام کے نام سے خالی ہو چکا ہے“ ۔ (بحوالہ روز نامہ انقلاب 9 اپریل 1948)
ترجمان القرآن نے جون 1948 کے اداریے میں لکھا۔ ”یہ عین وہی لوگ ہیں جو اپنی پوری سیاسی تحریک میں اپنی غلط سے غلط سرگرمیوں میں اسلام کو ساتھ ساتھ گھسیٹتے پھرے ہیں۔ انہوں نے قرآن کی آیتوں اور حدیث کی روایتوں کو اپنی قوم پرستانہ کشمکش کے ہر مرحلے میں استعمال کیا ہے۔ کسی ملک و قوم کی انتہائی بدقسمتی یہی ہو سکتی ہے کہ نااہل اور اخلاق باختہ قیادت اس کے اقتدار پر قابض ہو جائے“۔ اسی شمارے میں مزید فرمایا ”جونہی انگریز اور کانگرس کی باہمی کشمکش ختم ہوئی۔ تو اس قیادت عظمیٰ نے اپنے آپ کو ایسی حالت میں پایا جیسے اس کے پاؤں تلے زمین نہ ہو۔ اب وہ مجبور ہو گئی کہ جو کچھ جن شرائط پر بھی طے ہو اسے غنیمت سمجھ کر قبول کر لیں۔ بنگال و پنجاب کی تقسیم اسے بے چون و چرا ماننی پڑی۔ سرحدوں کے تعین جیسے نازک مسئلے کو اس نے صرف ایک شخص کے فیصلے پر چھوڑ دیا۔ انتقال اختیارات کا وقت اور طریقہ بھی بلاتامل مان لیا۔ حالانکہ یہ تینوں امور صریح طور پر مسلمانوں کے حق میں مہلک تھے۔ انہی کی وجہ سے ایک کروڑ مسلمانوں پر تباہی نازل ہوئی اور انہی کی وجہ سے پاکستان کی عمارت روز اول ہی سے متزلزل بنیادوں پر اٹھی“۔
حمید نظامی نے 4 جولائی 1948 کو نوائے وقت میں اداریہ لکھا ”ہم ان لوگوں کے حامی نہیں جو محض اپنی لیڈری چمکانے کے لیے شریعت کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ (بہتر ہو گا کہ) شہر بہ شہر جلسوں میں قائداعظم کو گالیاں دینے اور سوقیانہ تقریروں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اسلامی نظام حکومت کا ایک خاکہ مرتب کیا جائے۔“
مولانا مودودی نے ترجمان القرآن کے شمارہ جولائی 1948 میں لکھا۔ ”مسلمانوں نے اپنی ساری قومی طاقت، ذرائع اور جملہ معاملات اس قیادت کے سپرد کر دیے جو ان کے قومی مسئلہ کو اس طرح حل کرنا چاہتی تھی۔ دس برس بعد اس کا پورا کارنامہ ہمارے سامنے ہے۔ جو کچھ ہو چکا وہ تو انمٹ ہے۔ البتہ اس پر بحث کرنا ضروری ہے کہ جو مسائل اب ہمیں درپیش ہیں۔ کیا ان کے حل کے لیے بھی وہی قیادت موزوں ہے جو اس سے پہلے ہمارے قومی مسئلے کو اسی طرح حل کر چکی ہے۔ کیا اس کا کارنامہ یہی سفارش کرتا ہے کہ جو نازک مسائل ہمارے سر پر آ پڑے ہیں۔ جن کا بیشتر حصہ خود اسی قیادت کی کارفرمائیوں کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، انہیں حل کرنے کے لیے ہم اس پر اعتماد کریں“ ۔
اس کے جواب میں حمید نظامی نے 31 جولائی 1948 کو اداریہ لکھا ”حضرت مولانا نے دس سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ دل کی بات کھل کر کہی اور صاف لفظوں میں مسلمانوں سے کہا کہ محمد علی جناح کی جگہ مجھے قائداعظم مانا جائے۔ اب صرف اتنا کرم فرمائیں کہ مسلمانوں کو یہ بتا دیں کہ آپ کا ٹھوس سیاسی پروگرام کیا ہے۔ اپنا پروگرام نہ بتانا اور نعروں سے مسلمانوں کا دل بہلانا یا قائداعظم کو احمق، غلط کار اور دین میں ہلکا ثابت کرنے کی کوششوں میں لگے رہنا ہرگز آپ کے شایان شان نہیں۔ قائداعظم کا ریکارڈ قوم کے سامنے ہے۔ آپ کو ابھی قوم نے آزمانا ہے۔ آپ قائداعظم کو ہزار گالیاں دیجئے۔ مسلمان آپ کے دست مبارک پر بیعت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔“
مولانا ابو اعلیٰ مودودی نے 9 اگست 1948 کو جھنگ میں کہا ”لیگ کی جنگ کفر و اسلام کی جنگ نہیں تھی۔ مسلم لیگ نے اب تک یہ نہیں کہا کہ پاکستان کا خطہ اس لیے حاصل کیا جا رہا ہے کہ وہاں پر اسلامی خلافت چلائی جائے گی بلکہ یہ قومیت کی جنگ تھی۔ قومیت کی جنگ کو اسلام کی جنگ سے کوئی واسطہ نہیں۔ لیگ کی قراردادوں کا جائزہ لیجیے۔ لیگ نے آج تک تسلیم نہیں کیا کہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ ہو گا۔“ ۔ اس کے جواب میں نوائے وقت نے 18 اگست 1948 کو اداریہ سپرد قلم کیا۔ ”پاکستان میں آپ کو ایسے لوگ بھی مل جائیں گے جن کی تقریر و تحریر کا زور یہ ثابت کرنے پر صرف ہو رہا ہے کہ (مسلمانوں) کی اس مصیبت کی ذمہ داری قائداعظم کی لیڈرشپ پر عائد ہوتی ہے۔ قائداعظم نے پے در پے مہلک غلطیاں کیں اور مسلمانوں کو تباہی و بربادی کے اس غار میں لا پھینکا جس کا نام پاکستان ہے“ ۔
ایک ہفتے بعد 25 اگست 1948 کو نوائے وقت کے اداریے میں حمید نظامی نے لکھا۔ ”بظاہر یہ جماعت کہتی ہے کہ ہم قائداعظم کے خلاف پراپیگنڈہ نہیں کر رہے۔ لیکن معاف کیجئے یہ بیان صحیح نہیں ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ قیادت کو مسلمانوں کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرانا دراصل قائداعظم اور صرف قائداعظم کی ذات ہی پر حملہ ہے“ ۔
واضح رہے کہ حمید نظامی نے یہ اداریہ قائد اعظم کی وفات سے ٹھیک دو ہفتے قبل لکھا تھا۔ تاریخ کے ان چند حوالوں سے واضح ہو جانا چاہیے کہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی نے نہ صرف یہ کہ مطالبہ پاکستان کی مخالفت کی، بلکہ پاکستان بننے کے بعد بھی جماعت اور مولانا مودودی قائد اعظم کی مخالفت کرتے رہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مولانا مودودی پاکستان بننے کے بعد بھی اس موقف پر قائم رہے کہ قائد اعظم ایک قومی ریاست قائم کرنے کے لئے پاکستان بنانا چاہتے تھے اور پاکستان میں شریعت کا نفاذ ان کا مقصد نہیں تھا۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)