سانحہ 9 مئی کے 20 ملزم سزا مکمل ہونے سے قبل رہا

  • منگل 09 / اپریل / 2024

آرمی چیف کی جانب سے عید سےقبل رعایت دینے کے بعد سانحہ 9 اور 10 مئی میں پاک فوج کی زیرحراست 20 ملزمان کو سزا مکمل ہونے سے قبل ہی رہا کردیا گیا۔

اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے مجرموں کی رہائی سے متعلق سپریم کورٹ کو تحریری طور پر آ گاہ کیا۔ اٹارنی جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی کے 8 افراد کو ایک ایک سال کی قید بامشقت سنائی گئی تھی۔ ان کے علاوہ لاہور کے 3، گجرانوالہ کے 5 مجرمان کو بھی ایک ایک سال قید بامشقت دی گئی تھی۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق رہا ہونے والوں میں دیر کے 3 اور مردان کا ایک مجرم بھی شامل تھا۔ تمام مجرموں کو 6 اور 7 اپریل کو رہا کیا گیا۔ رہا ہونے والے کسی مجرم نے اپنی سزا مکمل نہیں کی تھی۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے عید سےقبل رعایت دی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے 13 دسمبر کے حکم نامے میں ترمیم کرتے ہوئے فوجی حکام کو 9 مئی تشدد کیس میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار 15 سے 20 افراد کو عید الفطر سے قبل رہا کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان افراد کی فہرست پیش کریں جنہیں عید سے قبل رہا کیا جائے گا۔ فہرست میں ان لوگوں کی بھی شناخت ہونی چاہیے جنہیں کم سزا دی گئی ہے یا 3 سال تک کی سزا سنائی گئی ہے۔