یوسف رضا گیلانی بلا مقابلہ چیئرمین، سیدال خان ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے

  • منگل 09 / اپریل / 2024

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین اور مسلم لیگ (ن) کے سیدال خان ناصر نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا حلف اٹھالیا ہے۔ وہ بلامقابلہ ان عہدوں کے لیے منتخب ہوگئے تھے۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے یوسف رضا گیلانی اور سیدال خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا ہے۔ پریزائیڈنگ افسر اسحٰق ڈار نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے حلف لیا۔ یوسف رضا گیلانی بلا مقابلہ 9 ویں چیئرمین سینیٹ جبکہ سیدال ناصر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے۔ پریزائیڈنگ افسر اسحٰق ڈار نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا اعلان کیا۔

بعد ازاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حلف برداری کے دوران تحریک انصاف کے اراکین نے احتجاج کیا۔ گیلیریز میں بیٹھے مہمانوں نے گھڑی چور کے نعرے لگائے۔ حلف برداری کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ بننے پر اللہ کا شکرادا کرتا ہوں۔ سب سے پہلےتمام سینیٹرز کو عید کی مبارکباد دیتا ہوں۔ تمام اتحادیوں کا بھی شکرگزار ہوں، میں تمام سینیٹرز کا چیئرمین سینیٹ ہوں۔ چیئرمین سینیٹ کا عہدہ بڑی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پورے ایوان کا چیئرمین ہوں۔ سب کو ساتھ لے کر چلوں گا، اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ بعد ازاں انہوں نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے عہدے کا حلف لیا۔ سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

یف نے نو منتخب چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئےکہا کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات جمہوری عمل کا تسلسل ہیں۔ امید ہے کہ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ آئین کی سربلندی، ملکی ترقی کے لیےکردار ادا کریں گے۔

یاد رہے کہ آج ہونے والے سینیٹ اجلاس میں نومنتخب سینیٹرز نے حلف اٹھایا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بھی ایوان بالا پہنچے۔ اور ان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔ پی ٹی آئی کے بیرسٹر علی طفر نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا اجلاس غیر آئینی ہے۔ خیبر پختونخوا کے سینیٹرز کے بغیر یہ ایک نامکمل سینیٹ ہے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حلف لینے سے پہلے سینیٹرز کو اظہار خیال کی اجازت نہیں ہوتی۔ آئینی مینڈیٹ کے باوجود پی ٹی آئی سینیٹرز کو بولنےکا موقع دیا گیا۔ آرٹیکل 60 میں سب کچھ واضح ہے، آرٹیکل 60 کہتا ہے کہ ایوان کی باضابطہ تشکیل کے بعد پہلے اجلاس میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہونا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ خیبرپختونخوا میں الیکشن کسی قدرتی آفت پر ملتوی نہیں ہوئے ہیں۔ وہاں پہ مخصوص نشستوں پر جو ممبر منتخب تھے انہیں حلف لینا تھا۔ وزیر اعلی نے سیشن بلانا تھا اور اسپیکر نے حلف لینا تھا مگر یہ نہیں ہوا۔ منتخب ممبران نے اس پر پشاور ہائیکورٹ نے حلف لینا کا کہا مگر حکومت نے اسے ہوا میں اڑایا، اسی پر الیکشن کمیشن نے حلف نا ہونے کی وجہ سے ہی انتخابات ملتوی کیے۔

وزیر قانون نے کہا کہ انتخابی عمل سے روکیں، ووٹ ڈالنے سے روکیں، عدالتی حکم کے باوجود حلف نا لیں اور پھر کہیں کہ انتخابات ملتوی کروائیں جائیں یہ نہیں ہوسکتا۔