پی ٹی آئی کا بیانیہ اور جج صاحبان کا بیان حلفی!
- تحریر عرفان صدیقی
- منگل 09 / اپریل / 2024
8 فروری کے انتخابات سے حیات نو پانے اور 9 مئی کی حدت بڑی حد تک کم ہو جانے کے باوجود پی ٹی آئی کو خاصا مشکل لگ رہا تھا کہ وہ اپنے بانی چیئرمین کو اڈیالہ جیل سے باہر کس طرح لائے جن کے مقدمات کے فیصلے بس چند قدم کی دوری پر تھے۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ عدلیہ کو بے چہرہ کردینے اور قانون و انصاف کی پوشاک پر سیاہی تھوپنے کا کوئی موقع ہاتھ آ جائے۔
جانے یہ پی ٹی آئی کی آرزو کا کرشمہ تھا یا کسی ساحر کی معجزہ کاری، عین انہی دنوں، جب رمضان المبارک کا عشرہ مغفرت شروع ہو چکا تھا، آمد بہار کی ایک سہانی صبح، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ معزز جج صاحبان کے دلوں میں درد کی ایک کسک جاگی اور ان پر منکشف ہوا کہ انتظامیہ اور ایک ایجنسی، مطلوب فیصلوں کے لئے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ ان جج صاحبان میں سے ہر ایک کی عمر لگ بھگ پچاس برس سے زائد تھی۔ سب نے قواعد کے مطابق کم ازکم دس برس اعلی عدالتوں میں وکالت کی تھی۔ سب برسوں سے انصاف کی مسندوں پر تشریف فرما تھے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ کسی ایک کو بھی ماضی میں اس طرح کے دباؤ سے پالا نہیں پڑا تھا۔ یہاں تک کہ شوکت عزیز صدیقی کو دشت بے نوا میں دھکیل کر، جنرل فیض حمید کی ”دو سالہ محنت“ کو عمدگی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اقدام بھی ان کا رضاکارانہ اور عادلانہ فیصلہ تھا۔
منظر کچھ ایسا تھا جیسے وہ ابھی ابھی عرش معلٰی کے نواح میں واقع، مقرب فرشتوں کی بارگاہ خاص سے کرہ ارضی پہ اترے ہوں۔ سب کی عباؤں سے ابھی تک فرشتوں کے پروں کی خوشبو آ رہی تھی۔ سو ہر ایک نے ہر دوسرے کو حیرت سے دیکھا اور کہا۔ ”مجھے کچھ معلوم نہیں کہ یہ دباؤ کیا ہوتا ہے اور اگر پڑے تو کیا کرنا چاہیے؟‘‘ اجتماعی فیصلہ ہوا کہ اپنے بڑوں کو خط لکھ کر پوچھتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ سرحد پہ کھڑا ایک نیم خواندہ سپاہی بھی جانتا ہے کہ کوئی قدم اس کی مقدس سرزمین پر پڑے تو کیا کرنا ہے؟ وہ مورچہ چھوڑ کر دوڑتا ہوا اپنے ’او۔ سی‘ کے پاس نہیں جاتا کہ اب میں کیا کروں؟ وہ غنیم کا سینہ چھلنی کر دیتا ہے یا خود شہید ہوجاتا ہے۔ چھ جج صاحبان کے سامنے بھی دو تازہ مثالیں موجود تھیں۔ قاضی فائز عیسٰی نے عدلیہ کی آزادی کی خاطر کمال بہادری سے گروہ دشمناں کا مقابلہ کیا اور اس کا سینہ چھلنی کر دیا۔ شوکت عزیز مردانگی سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔ لیکن عالی مرتبت چھ نے غنیم کو للکارنے کے بجائے بذریعہ خط رہنمائی لینا زیادہ مناسب خیال کیا۔
یہ خط، عدلیہ پر دباؤ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے بیانیے کے حق میں نہایت معتبر ”بیان حلفی“ کا درجہ اختیار کر گیا۔ شناسائی کی بات کو بہ کو پھیلتی چلی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے، سائفر ہی کی طرح اس نامہ دلبراں سے کھیلتے ہوئے تحریک انصاف نے سماں باندھ دیا۔ وہ ہمیشہ مقدمات کی حقیقت یا ’میرٹ‘ کو ایک طرف رکھتے ہوئے، جلسوں، جلوسوں، دھرنوں، لانگ مارچوں، وکلا کی موشگافیوں اور سوشل میڈیا کی کرتب کاریوں سے کام لیتی ہے۔ اسی ہنر کے سبب وہ سپریم کورٹ کی طرف سے لایعنی اور بے معنی قرار دی گئی پٹیشن کو مقدس صحیفہ بنا کر سر میزان عدل لے آئی تھی اور سہولت کاروں کی مدد سے پانامہ سے اقامہ کشید کر لیا تھا۔ پی ٹی آئی کے اس ہنر کی کرشمہ سامانیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔
کوئی ہے اس وطن عزیز میں جسے پیشی کے لئے عدالت بلائے اور وہ ہزاروں کا جتھا لئے، سڑک پر کھڑی گاڑی سے نہ اترے اور عدالت خود پیشی بھرنے اس کی خدمت میں حاضر ہو جائے؟ کوئی ہے جو ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہو، اس کے لئے سرشام سب سے بڑی عدالت آراستہ ہو، کہا جائے اسے مرسڈیز گاڑی میں لاؤ، ”گڈ ٹو سی یو“ کہہ کر اس کا استقبال کیا جائے، ایک پرتعیش بنگلہ اس کے لئے مخصوص کر دیا جائے اور صدر مملکت انواع و اقسام کے کھانوں کے طشت اٹھائے اس کے ہاں حاضری دیں؟ کوئی ہے جو پی ٹی وی کی رگ جاں دبوچ کر اسے خاموش کر دے لیکن قانون و انصاف کو جھرجھری تک نہ آئے؟ کوئی ہے جو اشتہاری مفرور ہوتے ہوئے کورٹ روم نمبر ایک کی صف اول میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے، قہقہے لگائے اور کوئی جج آنکھ اٹھا کر اس کی طرف دیکھ بھی نہ سکے؟ کوئی ہے جسے ایک حرف ”کن“ کے ذریعے بیسیوں ضمانتیں مل جائیں اور یہ فرمان بھی جاری ہو جائے کہ آئندہ دس دن میں یہ جو کچھ بھی کرے، اسے اس مقدمے میں بھی ضمانت پر سمجھا جائے؟ کوئی ہے جرم و انصاف کی پوری تاریخ میں جو سزا یافتہ قیدی ہو اور جیل انتظامیہ کے ساتھ، مساوی حیثیت میں مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کرے؟ کوئی ہے جسے جیل میں لامحدود سہولیات اور مراعات حاصل ہوں؟ یہ سب کچھ کسی اصول، قاعدے یا قانون کے تحت نہیں، پی ٹی آئی کی خوئے فتنہ و فساد اور عدلیہ پر ہمہ پہلو دباؤ کا نتیجہ ہے۔
چھ جج صاحبان کے خط نے پی ٹی آئی کو اپنے بانی چیئرمین کے قریب الفیصل مقدمات کے حوالے سے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کا سنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فل کورٹ کے دو اجلاس بلائے۔ خط لکھنے والے ججوں کو ایک ایک کرکے بلایا۔ ان کا موقف سنا۔ وزیراعظم سے مشاورت کی۔ طے پایا کہ جامع تحقیقات کا کام انتہائی نیک نام اور روشن کردار سابق چیف جسٹس، تصدق حسین جیلانی کو سونپ دیا جائے۔ جیلانی صاحب آمادہ بھی ہو گئے۔ چھ ججوں نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا لیکن پی ٹی۔ آئی نے الزام و دشنام کی ایسی سنگ باری کی کہ وہ مرد شریف عزت سادات بچا کر گوشہ عافیت میں جا بیٹھا۔
پی ٹی آئی کے فن بارود پاشی کا یہ عالم ہے کہ آج پاکستان کا کوئی باعزت شخص اس طرح کی ذمہ داری کے لئے دستیاب نہیں ہوگا۔ اسی دباؤ میں سات رکنی بینچ نے 184 ( 3 ) کی کارروائی شروع کی۔ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ بات ایک بار پھر فل کورٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ عدلیہ کو انتظامیہ اور ایجنسیوں کے دباؤ سے آزاد کرانے کے ”مقدس مشن“ کے نام پر، پی ٹی آئی عدلیہ کے لئے سب سے سنگین دباؤ کی سفاک علامت بن چکی ہے۔ برس ہا برس سے اس کا کمال فن یہی ہے کہ وہ جب بھی عدالتی کٹہرے میں آئے، پراپیگنڈے کے زور پر عدالت ہی کو کٹہرے میں کھڑا کر لیتی اور خود مسند انصاف پر بیٹھ کر احکامات صادر کرنے لگتی ہے۔
آج بھی پی ٹی آئی اپنی اسی روایت اور مہارت کے مطابق کچھ یوں جنگ آزما ہے جیسے چھ جج صاحبان نے وکالت نامہ اسے تھما رکھا ہو۔ ادھر عدلیہ کو ہر دباؤ سے آزاد رکھنے کے لئے راہنمائی کے متمنی جج صاحبان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو کہے کہ کوئی جماعت ہمارے عشق میں ہلکان ہو کر اپنے سیاسی مقاصد کے لئے عدلیہ پر دباؤ نہ ڈالے۔ سو جوں جوں عمران خان کے سنگین مقدمات، عدالتی فیصلوں کی طرف بڑھ رہے ہیں توں توں ججوں پر پی ٹی آئی کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج یہ دباؤ، حکومتی یا ایجنسیوں کے دباؤ سے کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ اسی دباؤ کا نمونہ ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل، لاہور ہائی کورٹ میں کھڑا خان صاحب کو حاصل خصوصی مراعات کی طویل فہرست پڑھ رہا ہے اور اسلام آباد کے چھ مکتوب نویسوں میں سے ایک معزز جج، وکیل سے سوال کر رہا ہے۔ ”اگر جیل سے باہر سیاست پر بات کرنا جرم نہیں، تو جیل کے اندر کسی قیدی پر یہ پابندی کیسے لگائی جا سکتی ہے کہ وہ سیاست پر بات نہ کرے۔“ ہے کوئی افلاطون جو اس معصوم سے سوال کا جواب دے؟
(بشکریہ: ہم سب لاہور)