عید کے دن اسرائیلی حملے میں حماس کے سربراہ کے تین بیٹے، چار پوتے پوتیاں جاں بحق
حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے تین بیٹے اور اور چار پوتے پوتیاں غزہ کی پٹی پر عید کے دن ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔
حماس سے منسلک میڈیا کے مطابق اسماعیل ہنیہ کے بیٹے ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب غزہ کی پٹی میں الشاتی کیمپ کے قریب انہیں نشانہ بنایا گیا۔ اسماعیل ہنیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے سے حماس کے مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے بیٹے حماس کے عسکری ونگ کے اراکین تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے بیٹے عید کے پہلے دن خاندان سے ملنے جا رہے تھے۔ اسماعیل ہنیہ نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے تین بیٹے، حاضم، عامر اور محمد، جنگ کے دوران غزہ کی پٹی میں ہی رہائش پذیر رہے۔
حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اسماعیل ہنیہ کے پوتے اور پوتیاں، مونا، امل، خالد اور رضان، بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل تھے۔ حماس نے اسرائیلی فضائی حملے کو بزدلانہ قرار دیا۔
اسماعیل ہنیہ نے بتایا کہ ان کو اس حملے اور اپنے بیٹوں کی ہلاکت کی خبر اس وقت ملی جب وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں زخمی فلسطینی بچوں کی عیادت کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ قطر میں ہی مقیم ہیں۔
اس جنگ کے دوران اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے کسی رکن کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل فروری میں اسماعیل ہنیہ کے ایک اور بیٹے جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اکتوبر میں ان کے ایک بھائی اور بھتیجے کی ہلاکت ہوئی اور نومبر میں اسماعیل ہنیہ کے ایک پوتے ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسماعیل ہنیہ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دشمن اس دھوکے میں نہ رہے کہ میرے بیٹوں کو امن مذاکرات کے دوران نشانہ بنا کر اور تنظیم کے جواب سے قبل وہ حماس کو اپنی پوزیشن بدلنے پر مجبور کر دے گا۔‘ حماس کے ٹیلیگرام چینل پر اپنے ردعمل میں اسماعیل ہنیہ نے خدا کا شکر ادا کیا کہ ان کو اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کی ’شہادت سے عزت ملی۔‘
اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ ’اس خون سے ہم مستقبل کی امید پیدا کریں گے اور اپنے لوگوں، اپنے مقصد اور اپنی قوم کے لیے آزادی حاصل کریں گے۔‘
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وسطی غزہ کی پٹی پر حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے تین ممبران کو ہلاک کیا گیا جو اسماعیل ہنیہ کے بیٹے تھے۔ اسرائیلی فوج کے بیان میں اسماعیل ہنیہ کے پوتوں اور پوتیوں کی ہلاکت کا ذکر نہیں کیا گیا۔
عوامی سطح پر حماس اب تک اپنے مطالبات پر قائم ہے جن میں مکمل جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوجیوں کا مکمل انخلا شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔