ایران کے جوابی حملے کا خدشہ، امریکا نے اپنے ملازمین پر سفری پابندیاں عائد کردیں
امریکا نے ایران کے حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں اپنے ملازمین پر سفری پابندیاں عائد کردی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی سفارتخانے نے اپنے عملے کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ یروشلم، تل ابیب یا بیئر شیوا کے علاقوں سے باہر سفر نہ کریں۔
روس اور جرمنی نے بھی فریقین کو مشورہ دیا ہے کہ جنگ کا دائرہ ممکنہ وسیع ہونے کی صورت میں تحمل سے کام لیں۔ دوسری جانب وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ترکیہ، چینی اور سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ انٹونی بلنکن نے واضح کیا کہ امریکا کو خطے میں کشیدگی کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے 11 روز قبل شام میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی سے خبردار کیا تھا۔ واقعے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے لیڈر سمیت 13 افراد شہید ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز 11 اپریل کو امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ایران اسرائیل پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور امریکا اپنے اتحادی اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔
سیکورٹی الرٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ایران اسرائیل کو کھلے عام دھمکیاں دے رہا ہے۔ میتھیو ملر نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’ہم زمینی صورتحال سے متعلق باقاعدگی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ میں ان مخصوص جائزوں پر بات نہیں کروں گا جس کی وجہ سے ہم نے اپنے ملازمین اور ان کی فیملی کے سفر کو محدود کردیا ہے لیکن واضح طور پر ہم مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر اسرائیل میں خطرے کے ماحول پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایران کی طرف سے اپنے سینئر کمانڈر کی دمشق میں ہلاکت کے ردِعمل میں حملہ کرنے کی دھمکی کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہجو بھی ہمیں نقصان پہنچائے گا، ہم اسے نقصان پہنچائیں گے۔ جنوبی اسرائیل میں موجود ٹیل نوف ایئر بیس کے دورے کے بعد ایک بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ہم دفاعی اور جارحانہ دونوں طریقے سے، اسرائیل کی تمام حفاظتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اسرائیل یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی سفارت خانے کے احاطے پر ہونے والے فضائی حملے میں ایک سینئر جنرل اور چھ دیگر ایرانی افسران کی ہلاکت کے بعد ممکنہ انتقامی کارروائی کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل نے اب تک دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اسرائیل کو اس حملے کی سزا ملنی چاہیے اور سزا ضرور ملے گی۔